سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 5 از 9

قرآن مجید میں الحمد سے والناس تک ایک لاکھ چودہ ہزار یا چوبیس ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت میں سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ ہی ایک فرد ہیں جنکی صحابیت پر اللہ رب العزت نے نص صریح کے ساتھ مہر تصدیق لگا دی۔ ان کو صحابی رسول، اللہ تعالیٰ نے خود قرار دیا ہے۔ غارِ ثور میں ہجرت کے وقت حضورﷺ کا یارِ غار ہونے کا شرف آپ کو نصیب ہوا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے سورہ توبہ کی آیات میں اس طرح شان بیان کی گئی۔

اِلَّا تَـنۡصُرُوۡهُ فَقَدۡ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذۡ اَخۡرَجَهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ اِذۡ هُمَا فِى الۡغَارِ اِذۡ يَقُوۡلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا‌ ۚ فَاَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلَيۡهِ وَاَ يَّدَهٗ بِجُنُوۡدٍ لَّمۡ تَرَوۡهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا السُّفۡلٰى‌ وَكَلِمَةُ اللّٰهِ هِىَ الۡعُلۡيَا ؕ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ۞(سورۃ توبہ: آیت نمبر، 40)

ترجمہ: اگر تم مدد نہ کرو گے رسول کی تو اس کی مدد کی ہے اللہ نے جس وقت اس کو نکالا تھا کافروں نے کہ وہ دوسرا تھا دو میں کا جب وہ دونوں تھے غار میں جب وہ کہہ رہا تھا اپنے رفیق سے تو غم نہ کھا، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے پھر اللہ نے اتاری اپنی طرف سے اس پر تسکین اور اس کی مدد کو وہ فوجیں بھیجیں کہ تم نے نہیں دیکھیں، اور نیچے ڈالی بات کافروں کی، اور اللہ کی بات ہمیشہ اوپر ہے، اور اللہ زبردست ہے حکمت والا، یہ ہجرت کے واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ آنحضرتﷺ صرف اپنے ایک رفیق حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے نکلے تھے، اور تین دن تک غار ثور میں روپوش رہے تھے۔ مکہ مکرمہ کے کافر سرداروں نے آپ کی تلاش کے لیے چاروں طرف لوگ دوڑائے ہوئے تھے، اور آپ کو گرفتار کرنے کے لیے سو اونٹوں کا انعام مقرر کیا ہوا تھا۔ ایک مرتبہ آپ کو تلاش کرنے والے کھوجی غار ثور کے منہ تک پہنچ گئے اور ان کے پاؤں حضرت صدیق اکبرؓ کو نظر آنے لگے جس کی وجہ سے ان پر گھبراہٹ کے آثار ظاہر ہوئے۔ لیکن حضور سرور دو عالمﷺ نے اس موقع پر ان سے فرمایا تھا کہ غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے غار کے دہانے پر مکڑی سے جالا تنوا دیا۔ اور وہ لوگ اسے دیکھ کر واپس چلے گئے۔ اس واقعے کا حوالہ دے کر اللہ تعالیٰ ارشاد فرما رہے ہیں کہ آنحضرتﷺ کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد کافی ہے، لیکن خوش نصیبی ان لوگوں کی ہے جو آپ کی نصرت کی سعادت حاصل کریں۔

اس میں اذ یقول لصاحبہ جب وہ اپنے ساتھی (ابوبکر صدیقؓ) سے فرما رہے تھے کے الفاظ قرآن مجید میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا بیانِ فضیلت ہے اور یہ لقب کائناتِ صحابہؓ میں کسی اور کو عطا نہیں کیا گیا۔

یار غار ہونے کا شرف:

جب قریش کی ایذاء رسانی حد سے بڑھ گئیں اور مسلمانوں کو ستانے میں انہوں نے کوئی کسر باقی نہ رکھی تو حضورﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور حبشہ کے بعد پھر مدینہ ہجرت کا حکم فرمایا۔ اور خود نبی اکرمﷺ حکم خداوندی کے منتظر تھے، جب اللہ نے آپ کو حکم ہجرت دیا تو آپﷺ نے سیدنا صدیق اکبرؓ سے ہجرت کا ذکر فرمایا۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پکار اٹھے

اللہ کے رسولﷺ مجھے بھی معیت سے نوازئیے۔

ارشاد گرامی ہوا الصحبۃ معیت تو ضرور ہو گی اس مصائب والے سفر میں تم میرے ساتھ ہو گے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔

بخدا مجھے اس دن سے قبل معلوم نہ تھا کہ کوئی خوشی سے بھی آنسو بہاتا ہے میں نے ابوبکر صدیقؓ کو اس روز روتے دیکھا۔

(سيرت ابن ہشام: جلد، 1 صفحہ، 485)

اور یوں سیدنا صدیق اکبرؓ کو ہجرت کے وقت پیغمبرِ خدا کا ساتھی ہونے اور یار غار ہونے کا لازوال اعزاز حاصل ہوا اور غار ثور میں تین دن اور تین راتیں متوجہ مصطفیﷺ تھے اور متوجہ علیہ ابوبکرؓ تھے۔

بارگاہِ مصطفیﷺ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ:

حضرت عمرو بن العاصؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے مجھے جنگِ ذاتِ السلاسل کا امیرِ لشکر بنا کر روانہ فرمایا جب میں واپس آیا تو آپﷺ کی خدمت میں عرض کیا (یارسول اللہ!) عورتوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا عائشہؓ کے ساتھ۔ میں نے پھر عرض کیا مردوں میں سے؟ آپﷺ نے فرمایا اُس کے والد (ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے ساتھ۔ میں نے عرض کیا پھر اُن کے بعد؟ آپﷺ نے فرمایا عمر بن خطابؓ کے ساتھ۔ اور پھر آپﷺ نے اُن کے بعد چند دوسرے حضرات کے نام لیے۔

(بخاری الصحيح کتاب فضائل أصحاب النبي صلی الله عليه وآله وسلم: باب، من فضائل أبی بکر الصديق، جلد، 3 صفحہ، 1339الرقم، 3462)

حضور نبی اکرمﷺ کو حضرت ابوبکر صدیقؓ سے جو محبت تھی وہ صرف اس وجہ سے نہ تھی کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی آپﷺ سے محبت کرتے اور آپﷺ پر سب کچھ نچھاور کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے بلکہ یہ محبت اس وجہ سے بھی تھی کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنی ذاتی خصوصیات، اپنے اعلی اوصاف اپنے کردار اور باکمال صلاحیتوں کی وجہ سے حضور نبی اکرمﷺ کی نگاہ میں بہت اونچا مقام رکھتے تھے۔

حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا حضرت ابوبکر صدیقؓ ہمارے سردار، ہم سب سے بہتر اور حضور نبی اکرمﷺ کو ہم سب سے زیادہ محبوب تھے۔

(ترمذی، السنن کتاب المناقب عن رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم: باب، مناقب ابی بکر صديق رضی الله عنه جلد، 5 صفحہ، 606 رقم، 3656)

صفحہ 5 از 9