سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 9

سیدنا ابوبکرؓ حجرے سے باہر نکلے سیدنا عمرؓ لوگوں سے محو گفتگو تھے آپؓ نے فرمایا (اجلس یا عمر!) عمر بیٹھ جائیے لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جوش و غضب میں اپنی گفتگو جاری رکھی سیدنا ابوبکرؓ کھڑے ہو گئے اور خطبہ دینے لگے آپ نے الله کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد وہ الفاظ ارشاد فرمائے کہ اگر ان الفاظ کو سونے کے پانی سے لکھا جائے تو پھر بھی حق ادا نہیں ہو گا۔

فمن كان منكم يعبد محما صلى الله عليه وسلم فإِن محمدا صلى الله عليه وسلم قد مات ومنْ كان يعبد الله فإِن اللّه حى لا يموت

(صحيح البخاري 2/91)

جو شخص رسولﷺ کی عبادت کرتا تھا تو وہ جان لے کہ وہ فوت ہو گئے ہیں اور جو شخص الله تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ الله تعالیٰ زندہ ہے۔

رسولﷺ کی نظر میں:

میں نے جس شخص پر اسلام پیش کیا اس نے پس و پیش سے کام لیا مگر ایک واحد ابوبکرؓ تھے جنہوں نے میری ایک آواز پر لبیک کہا اور اسلام قبول کیا۔

ابوبکرؓ کے مال نے مجھے جتنا نفع پہنچایا اتنا نفع مجھے کسی کے مال سے نہیں پہنچا۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے روتے ہوئے عرض کیا یا رسولﷺ! میں اور میرا مال سب آپﷺ ہی کا ہے۔

میں اگر اللہ کے سوا کسی کو اپنا دوست و خلیل بناتا تو ابوبکرؓ کو بناتا۔

ایک موقع پر رسولﷺ نے ارشاد فرمایا! کہ آج سے مسجد نبوی میں کھلنے والی تمام کھڑکیاں اور دروازے بند کر دیے جائیں آئندہ صرف ابوبکرؓ کا دروازہ کھلا رکھا جائے گا۔

آپؓ امت پر اتنے شفیق تھے کہ ایک روز سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت پر ان میں سب سے مہربان ابوبکرؓ ہیں۔ (ترمذی)

تم (ابوبکرصدیقؓ) غار میں بھی میرے ساتھ رہے اور بروزِ قیامت حوض کوثر پر بھی میرے ہمراہ ہو گے۔ (ترمذی)

انبیا کرامؑ کے سوائے سورج کبھی ابوبکرؓ سے بہتر آدمی پر طلوع نہیں ہوا۔

کسی قوم کے لیے بہتر نہیں کہ ان میں ابوبکرؓ ہوں اور ان کی امامت کوئی دوسرا کرے۔

اے ابوبکرؓ! تم کو اللہ جل شانہ نے آتش جہنم سے آزاد کر دیا ہے۔ اسی روز سے آپ کا لقب عتیق مشہور ہو گیا۔

ایک روز آپؓ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہﷺ! کیا کوئی شخص ایسا بھی ہے جس کو بروز قیامت جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ سرکار دو عالمﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں ابوبکرؓ! مجھے امید ہے کہ تم انہی لوگوں میں سے ہو (بخاری)

سرکار دو عالمﷺ نے ایک روز ارشاد فرمایا ہم نے ہر شخص کے احسان کا بدلہ چکا دیا مگر ابوبکرؓ کے احسانات ایسے ہیں کہ ان کا بدلہ اللہ جل شانہ ہی عطا فرمائے گا۔

آپؓ کو یہ اعزاز بھی تنہا حاصل ہے کہ آپ کی مسلسل چار نسلوں کو شرف صحابیت حاصل ہوا۔ آپؓ کے والد گرامی حضرت ابو قحافہؓ آپ خود، آپ کے صاحبزادے عبد الرحمٰن اور پوتے ابو عتیق محمد بھی شرف صحابیت سے مشرف ہوئے۔ رسالت مآبﷺ نے ساری زندگی آپ پر کسی دوسرے کو فضیلت نہیں دی۔

صحابہؓ کی نظر میں:

حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ ہمارے سردار، ہمارے بہترین فرد اور رسول اللہ ﷺ کو ہم سب سے زیادہ محبوب تھے۔

ایک موقع پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ اگر ابوبکرؓ شب ہجرت میں رسالت مآبﷺ کی خدمت اور مرتدین سے قتال کا کارنامہ مجھے دے کر میری ساری عمرؓ کے اعمال لے لیں تو میں سمجھوں گا کہ میں ہی فائدے میں رہا۔

حضرت عمرؓ ارشاد فرماتے ہیں کہ ابوبکرؓ نے ایسا راستہ اختیار کیا کہ اپنے بعد آنے والے کو مشقت میں ڈال گئے۔

اس عظیم خلیفہ نے ہر معاملے میں اپنا وہ ہی معیار رکھا جو اس وقت کسی عام مزدور کا ہوا کرتا تھا۔

حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ قسم ہے اس رب کی جس نے رسول اللہﷺ کو آخری رسول بنا کر بھیجا اور ابوبکرؓ سے اس کی تصدیق کروائی۔ (تاریخ خلفاء)

حضرت معصب بن عمیرؓ فرماتے ہیں اس امر پر تمام امت کا اتفاق ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا لقب صدیق ہے کیونکہ آپ نے بے خوف و نڈر ہوکر رسالت مآبﷺ کی تصدیق کی اور اس میں کسی قسم کی کوئی جھجک سرزد نہیں ہوئی۔

سیدنا صدیق اکبرؓ بصیرت و تدبر، عزم و استقلال، وفاداری و فداکاری، ایثار و انفاق کا مرقع خیر، مجسم اسلام کے مردِ مؤمن کی سچی تصویر تھے، وہ ثانی اثنین فی الغار، وہ جانثارِ ذات مصطفیٰﷺ، پروانہ شمع رسالت، اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، ہر دور میں اہلِ حق اور متلاشیان راہ حق و ہدایت کے لئے اصحاب رسولﷺ میں سے نمونہ کامل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جنکے بارے میں حضرت اسد بن زرارہؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرمﷺ کو لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔ آپﷺ نے توجہ فرمائی تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کو نہ دیکھا تو آپﷺ نے پکارا ابوبکر! ابوبکر! روح القدس جبرائیل علیہ السلام نے مجھے خبر دی ہے کہ میری اُمت میں سے میرے بعد سب سے بہتر ابوبکر صدیقؓ ہیں۔

(طبرانی، معجم الأوسط: جلد، 6 صفحہ، 292 رقم: 6448)

آپؓ عشق مصطفیﷺ کے سمندر میں اپنی ذات کو فنا کر چکے تھے۔ دولتِ دنیا ان کے سامنے ہیچ تھی۔

اسم محمدﷺ لبوں پر مچلتا تو لہو کی ایک ایک بوند وجد میں آ جاتی، ہمہ وقت بارگاہ مصطفیٰﷺ میں سراپائے ادب رہتے، اور سود وزیاں سے بے نیاز ہر وقت حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اشارے کے منتظر رہتے کہ کب حکم ہو اور وہ اپنی جان و مال آقائے دو جہاںﷺ کے قدموں پر نثار کریں۔

ایک موقع پر جب حضور نبی اکرمﷺ نے صدقہ دینے کا حکم فرمایا تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس جو کچھ تھا وہ سب کچھ لے کر حاضر خدمت ہوئے۔ آپﷺ نے فرمایا اے ابوبکرؓ! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ آئے ہو؟ انہوں نے عرض کیا میں ان کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولﷺ چھوڑ آیا ہوں۔‘

(ترمذی، السنن، کتاب المناقب عن رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم: باب، فی مناقب ابی بکر و عمر رضی الله عنهما کليهما: جلد، 6 صفحہ، 614 رقم، 3675)

جملہ صفات کے ساتھ ساتھ آپؓ کی وفا شعاری اور حضورﷺ کے ساتھ والہانہ عقیدت و محبت نے اللہ اور اسکے رسولﷺ کی بارگاہ میں آپ کو وہ مقام و مرتبہ عطا کیا جس پر ساکنانِ عرش بھی رشک کرتے ہیں۔

صحابی رسول کا لقب قرآن سے:

صفحہ 4 از 9