سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 9

رسولﷺ کے یار غار، ہمیشہ آپ کی صحبت میں رہنے والے اور مخلوق میں قابل تعریف ہیں اور سب سے پہلے رسولوں کی تصدیق کرنے والے ہیں۔

محقیقن نے ان مختلف احادیث و آثار میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ ام المؤمنین سیدہ خدیجہؓ عورتوں میں سیدنا علیؓ بچوں میں سیدنا زید بن حارثہؓ غلاموں میں اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آزاد اور بالغ مردوں میں سب سے اول مؤمن ہیں۔

(فتح الباری: جلد، 7 صفحہ، 130)

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اسلام اور مکی زندگی:

رسولﷺ نے بعثت کے بعد کفار کی ایذا رسانی کے باوجود تیرہ برس تک مکہ میں دعوت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا سیدنا ابوبکرؓ اس بے بسی کی زندگی میں جان مال رائے اور مشورہ غرض ہر حیثیت سے رسولﷺ کے رنج و راحت میں دست و بازو بنے رہے امام کائنات روزانہ صبح و شام سیدنا ابوبکرؓ کے گھر تشریف لے جاتے اور دیر تک مجلس راز قائم رہتی۔

(بخاری باب الہجرۃ النبی واصحابہؓ الی المدینہ)

مکہ میں ابتداً جن لوگوں نے داعی توحید کو لبیک کہا ان میں کثیر تعداد غلاموں اور لونڈیوں کی تھی جو اپنے مشرک آقاؤں کے پنجہء ظلم و ستم میں گرفتار تھے بندگانِ توحید کو ان کے جفاکار مالکوں سے خرید کر آزاد کردیا۔

چنانچہ سیدنا بلالؓ عامر بن فہیرہؓ، نہدیہ، جاریہ بنی مؤمل اور بنت نہدیہ وغیرہ نے اس صدیقی جو دو کرم کے ذریعہ نجات پائی۔ لیکن آج معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے کہ ایک نام نہاد مسلم حاکم وقت جس نے ایک آزاد بنت حوا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو کافروں اور اسلام کے دشمنوں کے حوالے کیا آج کہاں ہیں صلاح الدین ایوبیؒ اور طارق بن زیادؒ کے روحانی فرزند جو زیاد کی طرح اپنی بہن کی عصمت کے لیے لبیک کہیں؟ اور وہ صدیقؓ تھے کہ جب بھی کفار مکہ رسولﷺ پر دست درازی کرتے تو یہ مخلص جانثار اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کافروں کے آگے سینہ سپر ہو جاتے ایک دفعہ رسولﷺ خانہ کعبہ میں تقریر کر رہے تھے اور مشرکین مکہ اس تقریر سے سخت برہم ہوئے اور اس قدر مارا کہ رسولﷺ بے ہوش ہو گئے اور ابوبکرؓ نے آگے بڑھ کر کہا کہ اللہ تمہیں سمجھائے کیا تم ان کو اس لیے قتل کرو گے کہ یہ صرف ایک الله کا نام لیتا ہے۔

(فتح الباری: جلد، 7 صفحہ، 129)

ایسے پیچیدہ حالات کی وجہ سے رسولﷺ نے ہجرت مدینہ کا ارادہ کیا اور مشرکین مکہ اپنے تمام مکروں کو آزمانے کے باوجود اپنی ناکامی پر سخت برہم ہوئے اور اسی رسولﷺ کی گرفتاری کا اعلان کیا کہ جو شخص رسولﷺ کو گرفتار کرکے لائے گا اس کو سو اونٹ انعام میں دیئے جائیں گے چنانچہ متعدد بہادر اپنے باطل مذہب کے جوش اور انعام کی طمع و لالچ میں امام کائنات کی تلاش میں نکلے یہاں تک کہ مکہ کے اطراف میں کوئی آبادی ویرانہ جنگل اور پہاڑ یا سنسان میدان ایسا نہ ہو گا جس کا جائزہ نہ لیا گیا ہو یہاں تک کہ ایک جماعت غارثور کے پاس جا پہنچی (جو کہ ہجرت کے دوران سب سے پہلی آرام گاہ تھی) اس وقت سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہایت اضطراب ہوا اور حزن و یاس کے عالم میں بولے الله کے رسولﷺ اگر وہ ذرا سی بھی نیچے کی طرف نگاہ کریں گے تو ہمیں دیکھ لیں گے مگر رسولﷺ نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو تشفی دی اور فرمایا مایوس و غمزدہ نہ ہوں ہم صرف دو نہیں ہیں ایک تیسرا (یعنی اللہ) بھی ہمارے ساتھ ہے۔

(مسلم فضائل ابی بکر الصدیقؓ)

اس تشفی آمیز فقرہ سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو اطمینان ہو گیا اور ان کا مضطرب دل امداد غیبی کے تیقن پر لازوال جرأت و استقلال سے مملو ہو گیا خدا کی قدرت کہ کفار جو تلاش کرتے ہوئے اس غار تک پہنچے تھے ان کو مطلق محسوس نہ ہوا کہ ان کا گوہر مقصود اسی کان میں پنہاں ہے اور وہ ناکام واپس چلے گئے۔ فرمایا رسولﷺ نے (من کان للہ کان الله لہ۔۔۔) اسی طرح یہ مختصر قافلہ دشمنوں کی گھاٹیوں سے بچتا ہوا بارہویں ربیع الاول سنہ نبوت کے چودہویں سال مدینہ کے قریب پہنچا اور انصار کو رسولﷺ کی روانگی کا حال معلوم ہو چکا تھا۔

وہ نہایت بے چینی سے آپ کا انتظار کر رہے تھے رسولﷺ شہر کے قریب پہنچے تو انصار مدینہ استقبال کے لیے نکلے اور ہادی برحق کو حلقہ میں لے کر شہر قبا کی طرف بڑھے رسولﷺ نے اس قافلے کو داہنی طرف مڑنے کا حکم دیا اور بنی عمرو بن عوفؓ میں قیام پذیر ہوئے اور یہاں انصار جوق در جوق زیارت کے لیے آنے لگے اور رسولﷺ خاموشی کے ساتھ تشریف فرما تھے اور سیدنا ابوبکرؓ کھڑے ہو کر لوگوں کا استقبال کر رہے تھے بہت سے انصار جو پہلے رسولﷺ کی زیارت سے مشرف نہیں ہوئے تھے وہ غلطی سے سیدنا ابوبکرؓ کے گرد جمع ہونے لگے یہاں تک کہ جب آفتاب نبوت ﷺ سامنے آنے لگا اور جانثار خادم نے بڑھ کر اپنی چادر سے رسولﷺ پر سایہ کیا تو اس وقت خادم اور مخدوم میں امتیاز ہو گیا اور لوگوں نے رسالت مآب کو پہنچانا۔

(بخاری باب ہجرۃ النبی واصحابہؓ)

ایک المناک سانحہ پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ثابت قدمی جب الله کے رسولﷺ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو سیدنا ابوبکرؓ مدینہ کی مشرقی جانب سُخ نامی گاؤں میں مقیم تھے یہ جگہ اب مدینہ کے ائیرپورٹ کے قرب وجوار میں بنتی ہے جیسے ہی ان کو اس عظیم سانحے کی اطلاع ملی تو فوراً گھوڑے پر سوار ہوکر سُخ نامی گاوں سے مدینہ منورہ تشریف لائے اور گھوڑے سے اترتے ہی مسجد نبوی میں داخل ہوئے لوگوں سے گفتگو نہیں کی سیدھے سیدہ عائشہ رضی الله عنہا کے حجرے میں پہنچے جہاں رسولﷺ کا جسد اطہر یمنی کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا سیدنا ابوبکرؓ نے رسولﷺ کے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹایا اور جھک کر آپ کے سر مبارک کا بوسہ لیا اور فرط غم سے رونے لگے پھر فرمایا

بابي انت يا نبي الله لا يجمع الله عليك موتتين اما الموتة الّتي كتبت عليك فقد متها

صحيح البخاري (2/ 90)

الله کے نبی! میرا باپ آپ پر قربان ہو! الله آپ کو دو مرتبہ موت نہیں دے گا جو موت آپ کے لیے لکھی تھی وہ آچکی ہے۔

صفحہ 3 از 9