سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 9

حضرت سیدنا موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم صرف چار ایسے افراد کو جانتے ہیں جو خود بھی مشرف بہ اسلام ہوئے اور شرف صحابیت پایا اور ان کے بیٹوں نے بھی اسلام قبول کرکے شرف صحابیت حاصل کیا۔

ان چاروں کے نام یہ ہیں:

ابوقحافہ عثمان بن عمر رضی اللہ عنہ

ابوبکر عبداللہ بن عثمان رضی اللہ عنہ

عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ

محمد بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ

(المعجم الکبير نسبة ابی بکر الصديق واسمه: الرقم، 11)

سیدنا ابوبکرؓ کا سلسلہ نسب چھٹی پشت میں مرہ پر رسولﷺ سے مل جاتا ہے۔

(طبقات ابنِ سعد قسم اول جزء ثالث: صفحہ، 119)

سیدنا ابوبکرؓ کے والد:

ابو قحافہ عثمان بن عمرو شرفائے مکہ میں سے تھے اور نہایت معمر تھے ابتداء جیسا کہ بوڑھوں کا قاعدہ ہے وہ اسلام کی تحریک کو بازیچہء اطفال سمجھتے تھے چنانچہ سیدنا عبد اللہؓ کا بیان ہے کہ جب رسولﷺ نے ہجرت فرمائی تو میں رسولﷺ کی تلاش میں ابوبکرؓ کے گھر آیا اور وہاں ابوقحافہ موجود تھے انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ایک طرف سے گزرتے ہوئے دیکھ کر نہایت برہمی سے کہا کہ ان بچوں نے میرے لڑکے کو بھی خراب کر دیا ہے۔

(الاصابہ: جلد، 4 صفحہ، 221)

ابو قحافہ فتح مکہ تک اپنے آبائی مذہب پر قائم رہے فتح مکہ کے بعد جب رسولﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے اور وہ اپنے فرزند سعید سیدنا ابوبکرؓ کے ساتھ بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے اور رسولﷺ نے ان کی ضعف پیری کو دیکھ کر فرمایا کہ انہیں کیوں تکلیف دی ہے میں خود ان کے پاس پہنچ جاتا اس کے بعد رسولﷺ نے نہایت شفقت سے ان کے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور کلمات طیبات تلقین کرکے مشرف بہ اسلام فرمایا سیدنا ابوقحافہ نے بڑی عمر پائی۔ رسولﷺ کے بعد اپنے فرزند ارجمند سیدنا ابوبکرؓ کے بعد بھی کچھ دنوں تک زندہ رہے آخر عمر میں بہت ضعیف ہو گئے تھے اور آنکھوں کی بصارت چلی گئی تھی۔ 14 ہجری میں 97 برس کی عمر میں وفات پائی۔

(الاصابہ: جلد، 4 صفحہ، 222)

ابتدائی زندگی:

واقعہ فیل کے تین برس بعد آپ کی مکہ میں ولادت ہوئی۔ آپؓ کا سلسلہ نسب ساتویں پشت پر رسولﷺ سے مل جاتا ہے۔ آپؓ کا نام پہلے عبد الکعبہ تھا جو رسولﷺ نے بدل کر عبداللہ رکھا، آپؓ کی کنیت ابوبکر تھی۔ آپؓ قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنو تمیم سے تعلق رکھتے تھے۔ آپؓ کے والد کا نام عثمان بن ابی قحافہ اور والدہ کا نام ام الخیر سلمٰی تھا۔ آپؓ کا خاندانی پیشہ تجارت اور کاروبار تھا۔ مکہ میں آپؓ کے خاندان کو نہایت معزز مانا جاتا تھا۔ کتب سیرت اور اسلامی تاریخ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعثت سے قبل ہی آپ کے اور رسولﷺ کے درمیان گہرے دوستانہ مراسم تھے۔ ایک دوسرے کے پاس آمد و رفت، نشست و برخاست، ہر اہم معاملات پر صلاح و مشورہ روز کا معمول تھا۔ مزاج میں یکسانی کے باعث باہمی انس و محبت کمال کو پہنچا ہوا تھا۔ بعثت کے اعلان کے بعد آپؓ نے بالغ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ ایمان لانے کے بعد آپؓ نے اپنے مال و دولت کو خرچ کرکے مؤذن رسول حضرت بلالؓ سمیت بے شمار ایسے غلاموں کو آزاد کیا جن کو ان کے ظالم آقاؤں کی جانب سے اسلام قبول کرنے کی پاداش میں سخت ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ آپؓ کی دعوت پر ہی حضرت عثمانؓ، حضرت زبیر بن العوامؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ جیسے اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایمان لائے جن کو بعد میں دربار رسالت سے عشرہ مبشرہ کی نوید عطا ہوئی۔

سیدنا ابوبکر صدیقؓ اسلام سے قبل ایک متمول تاجر کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کی دیانتداری اور راست بازی کی خاصی شہرت تھی اہلِ مکہ ان کو علم تجربہ اور حسن خلق کے باعث نہایت معزز سمجھتے تھے ایام جاہلیت میں خون بہا کا مال آپؓ ہی کے پاس جمع کرایا جاتا تھا اگر کبھی کسی دوسرے شخص کے یہاں جمع ہوتا تو قریش اس کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ سیدنا صدیقؓ کو ایام جاہلیت میں بھی شراب نوشی سے نفرت تھی جیسی زمانہ اسلام میں تھی اس قسم کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ شراب نوشی میں نقصان آبرو ہے رحمت کائنات کے ساتھ بچپن ہی سے ان کو خاص انس اور خلوص تھا اور رسولﷺ کے حلقہء احباب میں ہی داخل تھے اکثر تجارت کے سفروں میں بھی ہمراہی کا شرف حاصل ہوتا تھا۔

اسلام اور صدیقؓ:

رسولﷺ کو جب خلعت نبوت عطا ہوا اور رسولﷺ نے مخفی طور پر احباب مخلصین اور محرمان راز کے سامنے اس حقیقت کو ظاہر فرمایا تو مردوں میں سے سیدنا ابوبکرؓ نے سب سے پہلے بیعت کے لیے ہاتھ بڑھایا اور بعض ارباب سیر نے ان کے قبول اسلام کے متعلق بہت سے طویل قصے نقل کیے ہیں لیکن یہ سب حقیقت سے دور ہیں اصل یہ ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ کا آئینہ دل پہلے ہی سے صاف تھا فقط خورشید حقیقت کے عکس افگنی کی دیر تھی کیونکہ گذشتہ صحبتوں کے تجربوں نے نبوت کے خدوخال کو اس طرح واضح کر دیا تھا کہ معرضت حق کے لیے کوئی انتظار باقی نہ رہا البتہ ان کے اول مسلمان ہونے میں بعض مؤرخین اور اہل آثار نے کلام کیا ہے بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیدہ خدیجہؓ کا اسلام سب سے مقدم ہے اور بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا علیؓ کو اولیت کا فخر حاصل ہے۔ اور بعض کا خیال ہے کہ سیدنا زید بن ثابت بھی سیدنا ابوبکرؓ سے پہلے مسلمان ہو چکے تھے لیکن اس کے مقابلہ میں ایسی اخبار وآثار بھی بکثرت موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اولیت کا طغرائے شرف و امتیاز صرف اسی ذات گرامی کے لیے مخصوص ہے اور سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ایک قصیدہ سے بھی اسی خیال کی تائید ہوتی ہے۔

اذاتذکرت شجوا من اخی ثقۃ

فاذکر اخاک ابابکر بما فعلا

جب تم صداقت شعار ہستی کے دکھ درد کو یاد کرنے لگو تو اپنے بھائی ابوبکر رضی الله تعالیٰ عنہ کے کارناموں کو یاد کر لینا۔

خیر البریۃ اتقاھا واعدلہا

بعدالنبی واوفاہا بما حملا

جو رسولﷺ اور انبیاء کرامؑ کے بعد تمام مخلوق میں سب سے بہتر، سب سے زیادہ پرہیزگار اور سب سے زیادہ انصاف پسند ہیں، نیز ذمہ داری میں سب سے زیادہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے والے ہیں۔

والثانی التالی المحمود مشہدہ

واول الناس ممن صدق الرسلا

صفحہ 2 از 9