سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 9

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

آفتاب رسالتﷺ کے درخشندہ ستاروں میں سب سے روشن نام یارِ غار رسالت، پاسدار خلافت، تاجدار امامت، افضل بشر بعد الانبیاء حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ہے جن کو امت مسلمہ کا سب سے افضل امتی کہا گیا ہے۔ بالغ مردوں میں آپ سب سے پہلے حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ آپ کی صاحبزادی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو رسولﷺ کی سب سے محبوب زوجہ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

حضرت ابوبکرؓ عام الفیل کے اڑھائی برس بعد 572 عیسوی میں پیدا ہوئے۔ نبیﷺ سے اڑھائی سال چھوٹے تھے۔ ان کا تعلق قریش کے قبیلہ بنو تیم بن مرہ سے تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا شجرہ نسب اس طرح ہے عبد اللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعدبن تیم بن مرہ۔ مرہ ہی پر ان کا شجرہ نبیﷺ کے شجرے سے جا ملتا ہے۔ کلاب بن مرہ آپ کے جبکہ تیم بن مرہ ابوبکر کے جد تھے۔ عبداللہ اپنی کنیت ابوبکر اور ان کے والد عثمان اپنے نام کے بجائے اپنی کنیت ابو قحافہ سے مشہور ہیں۔

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام سلمیٰ بنت صخر اور کنیت ام خیر تھی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ابوبکر کے کئی بھائی بچپن ہی میں فوت ہو گئے تو ان کی والدہ نے ان کی پیدایش سے پہلے نذر مانی کہ اب اگر لڑکا ہوا تو اس کا نام عبدالکعبہ رکھیں گی۔ ان کے بچپن کا یہ نام قبول اسلام کے بعد بدل کر عبداللہ ہو گیا۔ خون بہا، تاوان اور دیتوں (اشناق) کی رقوم کا تعین کرنا بنو تیم بن مرہ کے سپرد تھا۔ تاوانوں کی رقوم وہی وصول اور جمع کرتے، متعلقہ مقدمات بھی انھی کے سامنے پیش ہوتے اور انھی کا فیصلہ نافذ ہوتا۔ ابوبکر جوان ہوئے تو یہ خدمت ان کو سونپی گئی۔ اگرچہ عمر بھر حضرت ابوبکرؓ اپنی کنیت سے موسوم کیے جاتے رہے، لیکن اس کنیت کا یقینی سبب معلوم نہیں ہو سکا۔ انھیں جوان اونٹوں (بکر) کی پرورش اور ان کے علاج معالجے سے دلچسپی تھی یا شایدان کا سب سے پہلے اسلام لانا (بکر الی الاسلام) اس کنیت کا سبب بنا۔ ان کا ایک نام عتیق بھی ہے، جس کے معنیٰ ہیں خوب صورت اور سرخ و سفید، شروع سے نیک ایک سبب یہ ہے کہ آں حضورﷺ نے ابو بکر کو دیکھ کر فرمایا

تم اللہ کی طرف سے دوزخ سے آزاد (عتیق اللہ من النار) ہو۔(ترمذی: رقم، 3679)

 ہمیشہ سچ بولنے اور واقعہِ معراج کی فی الفور تصدیق کرنے کی وجہ سے صدیق کا لقب ملا۔ ان کی رافت و شفقت کی وجہ سے ان کو اواہ بھی کہا جاتا۔سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن تیم بن مرہ بن کعب ہے۔ مرہ بن کعب تک آپ کے سلسلہ نسب میں کل چھ واسطے ہیں۔ مرہ بن کعب پر جا کر آپؓ کا سلسلہ حضورﷺ کے نسب سے جا ملتا ہے۔ آپؓ کی کنیت ابوبکر ہے۔

(المعجم الکبير، نسبة ابی بکر الصديق واسمه، 1:1)

آپؓ کی کنیت ابوبکر ہونے کی درج ذیل وجوہات بیان کی جاتی ہیں:

عربی زبان میں البکر جوان اونٹ کو کہتے ہیں۔ جس کے پاس اونٹوں کی کثرت ہوتی یا جو اونٹوں کی دیکھ بھال اور دیگر معاملات میں بہت ماہر ہوتا عرب لوگ اسے ابوبکر کہتے تھے۔ آپؓ کا قبیلہ بھی بہت بڑا اور مالدار تھا نیز اونٹوں کے تمام معاملات میں بھی آپ مہارت رکھتے تھے اس لئے آپ بھی ابوبکر کے نام سے مشہور ہو گئے۔

عربی زبان میں ابو کا معنیٰ ہے والا اور بکر کے معنیٰ اولیت کے ہیں۔ پس ابوبکر کے معنیٰ اولیت والا ہے۔ چونکہ آپؓ اسلام لانے، مال خرچ کرنے، جان لٹانے، الغرض امتِ محمدیہﷺ میں ہر معاملے میں اولیت رکھتے ہیں اس لیے آپؓ کو ابوبکر (یعنی اولیت والا) کہا گیا۔

(مراة المناجيح) 

سیرت حلبیہ میں ہے کہ کنی بابی بکر لابتکاره الخصال الحميدة آپؓ کی کنیت ابوبکر اس لیے ہے کہ آپ شروع ہی سے خصائل حمیدہ رکھتے تھے

سیدنا ابوبکرؓ کے دو لقب زیادہ مشہور ہیں

عتیق، صدیق

عتیق پہلا لقب ہے، اسلام میں سب سے پہلے آپ کو اسی لقب سے ہی ملقب کیا گیا۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا نام عبداللہ تھا، نبی کریمﷺ نے انہیں فرمایا انت عتيق من النار تم جہنم سے آزاد ہو۔ تب سے آپؓ کا نام عتیق ہو گیا۔

(صحيح ابنِ حبان، کتاب اخباره عن مناقب الصحابة، جلد، 9 صفحہ، 6)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا پہلا نکاح قریش کے مشہور شخص عبدالعزی کی بیٹی ام قتیلہ سے ہوا۔ اس سے آپ رضی اللہ عنہ کے ایک بڑے بیٹے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ایک بیٹی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔

آپؓ کا دوسرا نکاح ام رومان (زینب) بنت عامر بن عویمر سے ہوا۔ ان سے ایک بیٹے حضرت عبد الرحمٰن رضی اللہ عنہ اور ایک بیٹی ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے تیسرا نکاح حبیبہ بنت خارجہ بن زید سے کیا۔ ان سے آپ رضی اللہ عنہ کی سب سے چھوٹی بیٹی حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔

آپؓ نے چوتھا نکاح سیدہ اسماء بنت عمیس سے کیا۔ یہ سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں، جنگ موتہ کے دوران شام میں حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کر لیا۔

حجۃ الوداع کے موقع پر ان سے آپؓ کے بیٹے محمد بن ابی بکر پیدا ہوئے۔ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دنیا سے پردہ فرمایا تو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ سے نکاح کر لیا۔ اس طرح آپ کے بیٹے محمد بن ابی بکر کی پرورش حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمائی۔

(الرياض النضرة امام ابوجعفر طبری: جلد، 1 صفحہ، 26)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھرانے کو ایک ایسا شرف حاصل ہے جو اس گھرانے کے علاؤہ کسی اور مسلمان گھرانے کو حاصل نہیں ہوا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خود بھی صحابی، ان کے والد حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ بھی صحابی، آپ کے دونوں بیٹے (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ) بھی صحابی، آپ رضی اللہ عنہ کے پوتے بھی صحابی، آپکی بیٹیاں (حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا) بھی صحابیات اور آپ کے نواسے بھی صحابی ہوئے۔

صفحہ 1 از 9