مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 5

اس کتاب میں میں نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ سیّدنا عمر فاروقؓ نے اسلام کو کیسے سمجھا اور لوگوں کے ساتھ کس طرح زندگی گزارتے رہے اور اپنے دور خلافت میں آپ نے تمام تر معاملات کے دھارے میں کیسے اسے مؤثر بنایا۔ میں نے آپ کی شخصیت کو سیاسی، عسکری، اداری اور عدالتی جیسے متعدد گوشوں سے نکھارنے کی کوشش کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ جب آپ رعایا کی حیثیت سے تھے اس وقت کی آپ کی معاشرتی زندگی اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے بعد خلافت سنبھالنے کے بعد کی معاشرتی زندگی دونوں میں آپ کیسے رہے۔ آپ کے اس سنہری دور کو واضح کرنے پر میں نے زور دیا ہے جس میں مالیاتی، عدالتی، اداری اور عسکری نظاموں کو ترقی ملی۔

یہ کتاب عظمتِ فاروق کی ایک دلیل ہے، جو ہر پڑھنے والے کو احساس دلاتی ہے کہ آپ ایمان، علم، فکر، گفتگو، اخلاق اور نقوش کے پہاڑ تھے۔ آپ نے عظمت و برتری کو ہر طرف سے سمیٹ لیا تھا اور یہ عظمت آپ کو گہری بصیرت، اسلام کو عملاً کر دکھانے، اللہ کے ساتھ مکمل تعلق رکھنے اور نبی کریمﷺ کے نقش قدم پر چلنے کے نتیجے میں میسر آئی تھی۔ سیّدنا عمر فاروقؓ ان اماموں میں سے ہیں جنہوں نے لوگوں کے لیے نشانِ راہ متعین کیا اور جن کے اقوال و افعال پر اس دنیا میں عمل کرتے ہوئے لوگ فخر محسوس کرتے ہیں۔ درحقیقت آپ کی سیرت ایمان کے طاقتور سر چشموں میں سے ایک ہے اور صحیح اسلامی جذبہ کی علامت اور اس دین کی صحیح سمجھ کے لیے ایک منارہ ہے۔ امت مسلمہ کو ان باصلاحیت ہستیوں کو پڑھنے کی سخت ضرورت ہے جو صحابہ کرامؓ کی پیروی کرتے ہیں اور سر تاپا بلند کردار کا نمونہ ہیں۔ یہ بلند ہستیاں قربانیاں پیش کر کے ان بلند معانی و کردار کو زندہ کرتی ہیں جسے لوگ دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ بے شک خلفائے راشدینؓ اور صحابہ کرامؓ کی تاریخ ہر دور میں امت مسلمہ کے لیے ایک یادگار ہے، اس سے فائدہ اٹھانا اسی طرح ممکن ہے کہ ان بزرگوں کے طرز زندگی کو سامنے رکھیں اور ان سر کردہ شخصیتوں کے پاک نظریات کو امت کے افراد موجودہ دور کے احوال و ظروف میں عملاً ثابت کر دکھائیں، تاکہ کسی کا یہ خیال نہ ہو کہ یہ نظریات اور دروس و عبرت کی باتیں صرف اس زمانے کے موافق تھیں، اب دوبارہ اس پر عمل کرنے کے لیے اسی طرح کا زندہ ماحول وجود میں لانا ضروری ہے۔ حالانکہ حقیقت و واقعات اس بات پر گواہ ہیں کہ جب جب ایمانی قوت میں حرارت رہی اور اللہ کی طرف بڑھنے (شہادت کا درجہ پانے) کا جذبہ موجزن رہا اور مسلمان اللہ کی طرف پیش رفت کرنے پر قائم رہے تو اللہ تعالیٰ نے ایسے وقت میں اپنے اولیاء اور پیاروں کی مدد کی ذمہ داری لی اور زندگی کے ناخوشگوار ماحول کو ان کے موافق کردیا۔

میں نے سیدنا عمر فاروقؓ کی شخصیت، کارناموں اور آپ کے دور کی تحقیق میں اپنی وسعت کے مطابق محنت کی ہے، غلطیوں سے پاکی اور لغزشوں کے عدم امکان کا میرا دعویٰ نہیں ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا مندی مطلوب ہے۔ مجھے اس سے ثواب کی اُمید ہے اور وہی میرا مددگار ہے۔ اس کے نام بہترین ہیں اور وہ دعاؤں کا سننے والا ہے۔اس طرح میں اس کتاب کی تالیف سے بروز بدھ صبح سات بج کر پانچ منٹ پر بتاریخ 13 رمضان المبارک 1422ھ مطابق 28 نومبر 2001ء فارغ ہوا۔ اوّل و آخر ہمیشہ صرف اللہ ہی کا فضل و کرم ہے، اس سے دعا ہے کہ اس عمل کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور کتاب سے استفادہ کرنے کے لیے اپنے بندوں کے سینوں کو کشادہ کر دے، اپنے احسان، کرم اور سخاوت سے اس میں برکت عطا فرمائے۔ اس کا فرمان ہے:

مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

(سورة فاطر: آیت، 2)

ترجمہ:’’اللہ تعالیٰ جو رحمت لوگوں کے لیے کھول دے سو اس کا کوئی بند کرنے والا نہیں اور جس کو بند کر دے سو اس کے بعد اس کو کوئی جاری کرنے والا نہیں اور وہی غالب حکمت والا ہے۔‘‘

اس مقدمہ کے آخر میں خشیت و انابت سے لبریز دل کے ساتھ اللہ عزوجل کے سامنے اس کے فضل و کرم کا اعتراف کرتے ہوئے کھڑا ہوں، وہ کرم نواز، معین اور توفیق دینے والا ہے۔ اوّل و آخر اس کے جو بھی مجھ پر احسانات ہیں میں اس پر اس کا شکر گزار ہوں اور اس سے دعاگو ہوں کہ الٰہی میرے عمل کو خالص اپنی رضامندی کے ذریعہ سے اور اپنے بندوں کے حق میں نفع بخش بنا، ہر حرف کے بدلے جسے میں نے تحریر کیا ہے ثواب عطا کر دے اور اسے میری نیکیوں کے میزان میں رکھ دے اور میرے ان تمام بھائیوں کو اجر سے نواز دے جنھوں نے میری اس ادنیٰ سی کوشش کو منزل تک پہنچانے میں اپنی بھرپور مدد کی ہے۔ میری ہر اس مسلمان بھائی سے درخواست ہے جو اس کتاب کو پڑھے کہ اس بندۂ عاجز کو دعاؤں میں نہ بھولے۔

ارشاد الٰہی ہے:

رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ

(سورة النمل: آیت، 19)

ترجمہ: ’’اے پروردگار! تو مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر بجا لاؤں جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں اور میرے ماں باپ پر اور میں ایسے نیک عمل کرتا رہوں جن سے تو خوش رہے، مجھے اپنی رحمت سے نیک بندوں میں شامل کر لے۔‘‘

سبحانک اللّٰه وبحمدک أشہد أن لا الٰہ الا أنت أستغفرک وأتوب الیک

وآخر دعوانا أن الحمد للّٰه رب العالمین


صفحہ 5 از 5