مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 5

اسی طرح اس کتاب میں میں نے آپ کے دور کی آبادیاتی ترقی اور وقتی بحران سے نمٹنے کا تذکرہ کیا ہے۔ گزرگاہوں اور خشکی و سمندری وسائل، نقل اور سڑکوں اور راستوں نیز فوجی چھاؤنیوں اور تمدنی مراکز کے قیام کے سلسلہ میں آپ کے شدت اہتمام کو ذکر کیا ہے۔ میں نے اس حقیقت پر بھی روشنی ڈالی ہے کہ آپ کے زمانے میں بصرہ، کوفہ، فسطاط اور سیرت جیسے بڑے بڑے شہر کیسے آباد ہوئے اور جب آپ نے ان شہروں کو بسایا تو کن عسکری اور اقتصادی پہلوؤں کو مدنظر رکھا،’’ عام الرمادۃ‘‘(قحط کا یہ سال سیّدنا عمر فاروقؓ کے دور میں 18 ہجری میں آیا تھا اور اس میں بہت ہلاکت اور تباہی ہوئی تھی) میں ’’قحط سالی" کے بحران سے نمٹنے کے لیے آپ نے کون سا اسلوب اختیار کیا اور کیسے آپ نے خود کو لوگوں کے سامنے ایک نمونہ کی شکل میں پیش کیا۔ اس سال پناہ گزینوں کے لیے آپ نے کیسے خیمے تیار کرائے، اللہ تعالیٰ سے اور پھر مختلف صوبوں سے کیسے مدد طلب کی، نماز استسقاء کا اہتمام اور اس سال کے بعض فقہی اجتہادات، مثلاً چوری پر حد نافذ نہ کرنا اور زکوٰۃ کی ادائیگی میں تاخیر کو قبول کر لینا وغیرہ مباحث کو میں نے حتیٰ الامکان واضح کیا ہے۔

اس سال کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جس میں شام کے اندر طاعون کی بیماری پھیلی اور اس وباء کے متعلق آپ کا کیا نظریہ تھا جس کی زد میں آ کر شام میں اسلامی فوج کے کبار جرنیل صحابہ وفات پاگئے۔ اس بیماری کی وجہ سے بیس ہزار سے زائد صحابہؓ جاں بحق ہوئے، پیمانے گڈمڈ ہو گئے، میراثیں ضائع ہوگئیں، ان حالات میں آپ شام گئے، وہاں آپ نے لوگوں کے لیے وظیفہ مقرر کیا اور موسم سرما و گرما کے وظیفوں کی تحدید فرمائی، شام کی سرحدوں اور فوجی چھاؤنیوں کو محفوظ کیا، گورنروں کو متعین کیا، جرنیلوں، فوجیوں اور عوام کو ذمہ داریاں سونپیں، فوت شدگان کا مال ان کے ورثاء میں تقسیم کیا۔

میں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مالیاتی اور عدالتی نظام کو ترقی دینے میں آپ کا کتنا اہم کردار ہے اور یہ کہ آپ کے دور میں ملکی آمدنی کے ذرائع کیا تھے، مثلاً زکوٰۃ، جزیہ، خراج، عشر، فے، مال غنیمت وغیرہ۔ آپ نے مسلمانوں کے لیے بیت المال قائم کیا اور مردم شماری وغیرہ کے دفتر تیار کروائے، نیز یہ کہ آپ کے دور میں اسلامی مملکت کے کون کون سے اخراجات تھے اور خراج کی زمین میں آپ کا اجتہاد اور اسلامی نقود (سکوں) کی ایجاد میں آپ کا کیا کردار رہا ، وغیرہ وغیرہ۔عدالتی نظام کو ترقی دینے میں آپ کا کتنا عظیم کردار ہے۔ قاضیوں اور ججوں کے پاس آپ نے کون سے اہم خطوط بھیجے، قاضیوں کو کہاں اور کیسے متعین کیا، ان کے درجات اور اوصاف کے ساتھ ان کی ذمہ داریاں کیا ہوں، منصفانہ احکامات میں کن بنیادوں اور کن دلائل پر اعتماد کیا جائے، ان تمام گوشوں کو میں نے خوب واضح کیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ عدالتی نظام میں آپ کا کیا اجتہاد رہا، مثلاً اگر کوئی شخص ملک اور اسٹیٹ کی جعلی مہریں بنوا لے یا بیت المال سے چوری کر لے، یا ایک آدمی زنا کی حرمت سے ناواقف ہے اور زنا کر بیٹھا یا اس طرح کے دیگر فقہی اور عدالتی احکامات ہیں تو ان میں آپ نے کیسے اجتہاد کیا۔

گورنروں کے ساتھ برتاؤ اور تعامل میں فاروقی فقہ کو بیان کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ آپ کے دور میں اسلامی مملکت میں کتنی ریاستیں بنیں، کون کہاں کا گورنر ہوا، گورنروں کی تقرری میں آپ کے اصول و ضوابط اور شرائط کیا تھیں، آپ کے گورنروں کی کیا صفات تھیں، ان کے حقوق اور ان کی ذمہ داریاں کیا تھیں، آپ نے گورنروں کا کیسے احتساب و نگرانی کی، گورنروں کے بارے میں عوام کی شکایتوں سے متعلق آپ کا کیا برتاؤ رہا۔ سیدنا خالد بن ولیدؓ کو آپ کے معزول کیے جانے کا واقعہ بیان کیا اور پہلی و دوسری معزولی کو واضح کیا۔ معزولی کے اسباب کیا تھے، ان کی آخری معزولی کی خبر سن کر اسلامی معاشرہ نے اس فیصلہ پر کیا رخ اختیار کیا اور معزولی کی قرار داد پا کر خود سیّدنا خالد بن ولیدؓ نے کس اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیا اور بستر مرگ پر سیدنا عمر فاروقؓ کے بارے میں آپ نے کیا کہا، ان تمام چیزوں کو میں نے ضبط کیا ہے۔

آپ کے دور کی فتوحات، مثلاً فتح عراق، ایران ، شام، مصر اور لیبیا وغیرہ کی تاریخی حیثیت میں نے واضح کی ہے، ان فتوحات میں درس و عبرت کی باتوں اور فوائد و سننِ الٰہی کا تذکرہ کیا ہے۔ سیدنا عمر فاروقؓ اور آپ کے جرنیلوں کے درمیان جن خطوط کا تبادلہ ہوا اس پر بھی روشنی ڈالی ہے اور پھر اس کی روشنی میں قوموں کی قیادت، مملکتوں کے قیام، معاشروں کی تربیت، قائدین کی صحیح رہنمائی اور جنگی فنون کے اصول و ضوابط کو مرتب کیا ہے۔

آپ کی طرف سے گورنروں کو بھیجے جانے والے خطوط کو سامنے رکھ کر اللہ کے حقوق کی نشاندہی کی ہے، جیسے دشمن کے غالب آ جانے پر صبر سے کام لیں، جہاد کا مقصد صرف اللہ کے دین کی تائید ہو، امانت داری کا پورا پاس و لحاظ ہو، اللہ کے دین کی مدد میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو اور جرنیلوں و گورنروں کے حقوق کی بھی نشاندہی کی ہے، جیسے ان پر اپنے حکام کی اطاعت اور ان کی تابع داری ضروری ہے، نیز فوجیوں کے حقوق ہیں، وہ یہ کہ ایک ایک کر کے ان کی خبر گیری کرنا، ان کی ضرورتوں کو محسوس کرنا، ان کے ساتھ نرمی کرنا اور ان کو پامردی کے ساتھ جنگ پر ابھارنا… الخ۔

میں نے یہ بحث چھیڑی ہے کہ آپ کا سلاطین و ملوک کے ساتھ کیسا تعلق تھا، آپ کے دور کی فتوحات کے کیا نتائج رہے، نیز یہ کہ آپ کی زندگی کے آخری ایام کیسے تھے اور آپ نے اپنی موت کی قربت کو کیسے بھانپ لیا تھا، جس کے لیے آپ ہمہ تن تیار تھے اور اسلام قبول کرنے کے بعد سے شہادت کا درجہ پانے تک آپ کے دل میں یہ جذبہ (اللہ کی ملاقات کا) موجزن تھا۔

صفحہ 4 از 5