مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 5

سیّدنا عمرو بن عاصؓ کا قول ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: عائشہؓ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! مردوں میں سے(کون ہے)؟ آپ نے فرمایا: ان کے والد۔ میں نے کہا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: عمر بن خطابؓ۔ پھر آپﷺ نے اور لوگوں کا بھی نام لیا۔

(الإحسان فی صحیح ابن حبان: جلد، 15 صفحہ، 309)

سیّدنا عمر بن خطابؓ کی زندگی اسلامی تاریخ میں ایک درخشندہ اور تابندہ باب ہے جو ہر تاریخ سے افضل اور برتر ہے۔ ایسی روشن زندگی کہ جس کی شرافت، بزرگی، اخلاص، جہاد اور دعوت الی اللہ کا معمولی حصہ بھی دوسری تمام قوموں کی تاریخ نہیں سمیٹ سکی۔ اسی لیے میں نے آپ کی سیرت اور آپ کے دور کی خصوصیات کو مصادر و مراجع میں خوب تلاش کیا اور اسے نادر علمی ذخیروں سے ڈھونڈ نکالا، اس کی ترتیب و تنسیق کی اور پھر اس کی تحقیق و تجزیہ کیا، تاکہ یہ چیز کتابی شکل میں دعاۃ و مبلغین، خطباء و مقررین، علماء و سیاسی قائدین، دانشوروں، فوجی کمانڈروں، حکمرانوں حتیٰ کہ طلبہ اور عوام کے ہاتھوں میں موجود ہو تاکہ وہ اس سے اپنی زندگی میں فائدہ اٹھائیں اور اپنی منصوبہ بندی اور عزائم میں اسے سامنے رکھیں، اس طرح اللہ تعالیٰ انہیں دنیا و آخرت میں عزت سے نوازے۔میں نے آپ کی حیاتِ مبارکہ کو بچپن سے لے کر شہادت پانے تک تحریر کیا ہے۔ چنانچہ آپؓ کے نسب، خاندان، زمانہ جاہلیت کی زندگی، اسلامی زندگی، ہجرت، آپؓ کی زندگی پر قرآن کی تاثیر اور نبی کریمﷺ کے ساتھ آپ کی وابستگی و مصاحبت نیز نبوی تربیت کے نتیجے میں آپ کی عظیم اسلامی شخصیت کے نکھرنے کا ذکر کیا۔

غزوات اور مدنی معاشرہ میں نبی کریمﷺ اور سیدنا ابوبکرؓ کے ساتھ آپ کے رجحانات اور مخصوص نقطۂ نظر پر گفتگو کی ہے اور آپ کے منصب خلافت پر فائز ہونے کے واقعہ کو بیان کیا ہے۔ آپ کے نظام حکومت کی اساسیات مثلاً شورائیت، عدل و انصاف، لوگوں میں مساوات اور آزادی فکر و نظر کو واضح کیا ہے۔ آپ کی اہم صفات و خصوصیات، آپ کی خاندانی زندگی، اہلِ بیت کا خصوصی احترام اور منصب خلافت پر فائز ہوجانے کے بعد آپ کی معاشرتی زندگی مثلاً معاشرہ کی خواتین کی دیکھ بھال، اپنی رعایا کے صلحاء و مصلحین کی حفاظت،لوگوں کی ضرورتوں کی تکمیل کے اہتمام اور سماج کے سرکردہ افراد کی تربیت، بعض نامناسب اور بے جا تصرفات پر نکیر، صحتِ عامہ اور نظام احتساب کا اہتمام، تجارت اور بازاروں کی اصلاح، نیز معاشرہ میں شریعت کے اہم مقاصد کے لازمی وجود کی طرف آپ کی خاص توجہ، مثلاً توحید کی مکمل حمایت، بدعتوں اور گمراہیوں کا سدّباب ، امور عبادت کا اہتمام اور مجاہدین کی عزت و ناموس کی مکمل حفاظت وغیرہ تمام چیزوں کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے۔

میں نے آپ کے اہتمام علم اور مدینہ میں اپنی رعایا کی تعلیم اور صحیح رہنمائی کے بارے میں گفتگو کی ہے نیز یہ کہ آپ نے مدینہ کو فقہ و فتاویٰ کا مرکز اور ایسا مدرسہ بنا دیا جس سے علماء، مبلغین، گورنر اور قاضی حضرات فارغ ہوئے اور دوسرے شہروں کی علمی درسگاہوں مثلاً مکہ، مدینہ، بصرہ، کوفہ، شام اور مصر کے مدارس میں آپ کے نمایاں کردار و نقوش کو کھول کھول کر بیان کر دیا ہے۔

سیّدنا عمر فاروقؓ نے متخصص علماء پر مشتمل ایک علمی گروہ تیار کیا اور اسے شہروں میں بھیجا۔ فتوحات کا دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ امراء اور قائدین (کمانڈروں) کو حکم دیا کہ وہ مفتوحہ علاقوں میں مساجد قائم کرتے جائیں تاکہ وہ دعوت، تعلیم، تربیت اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی نشر و اشاعت کا مرکز بن جائیں۔ مسجدیں ہی اسلام کی اوّلین علمی درسگاہیں تھیں، وہیں سے علمائے صحابہؓ بخوشی مسلمان ہونے والی جماعت کو دین سکھانے جاتے تھے، آپ کے دورِ خلافت میں تقریباً 12 ہزار مسجدوں میں نماز جمعہ ادا کی جاتی تھی۔ ان علمی مراکز کا قیام ان عسکری مراکز کے بعد ہوا جنہوں نے عراق، ایران، شام، مصر اور مغرب کے شہروں کو فتح کیا، ان علمی، فقہی اور دعوتی مراکز کی قیادت ان ہاتھوں میں تھی جن کی تربیت مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم میں آپﷺ کے ہاتھوں سے ہوئی تھی۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے ان باصلاحیت افراد سے فائدہ اٹھایا، ان کی بہترین رہنمائی کی اور مناسب مقام پر ان کو استعمال کیا، پھر ان صلاحیتوں نے ایسی علمی اور فقہی تحریک والی جماعت تیار کی جو فتوحات کے درپے تھی۔

میں نے اس کتاب میں سیدنا عمر فاروقؓ کے شعر و شعراء سے لگاؤ کا ذکر کیا ہے، آپ خلفائے راشدینؓ میں سب سے زیادہ شعر سننے اور اس کی اصلاح کے شوقین تھے اور خود ان میں سب سے زیادہ شعر کہنے والے بھی تھے۔ یہاں تک کہ بیان کیا جاتا ہے کہ سیّدنا عمر بن خطابؓ کو جب کوئی معاملہ پیش آتا تو اس پر کوئی شعر ضرور کہتے۔ آپ کو ادبی تنقید میں مہارت حاصل تھی۔ آپ کے پاس کچھ ایسے ادبی معیار تھے کہ جب کسی شعری نص کو دوسری نص پر ترجیح یا کسی شاعر کو کسی شاعر پر مقدم کرنا ہوتا تو ان خوبیوں کو معیار بناتے، تاکہ عربی زبان میں عربیت کا نکھار ہو، الفاظ عام فہم ہوں، کلمات میں ربط ہو، عبارت میں پیچیدگی نہ ہو، کلام بالکل واضح ہو، بقدر ضرورت ہی الفاظ کا استعمال ہو، نیز یہ کہ صحیح جگہ پر الفاظ کے استعمال ہی میں اس کی خوبصورتی ہے۔

آپ شعراء کو ہجو کہنے یا ہر وہ کلام جو اسلامی شریعت کے مزاج کے خلاف ہو اس سے منع کرتے تھے اور خلاف ورزی کی صورت میں ان کی سرزنش کے لیے کئی طریقے اپناتے تھے، مثلاً یہ کہ آپ نے حطیئہ سے اس کا وہ کلام تین ہزار درہم میں خرید لیا جو مسلمانوں کی ہتک عزت پر مشتمل تھا۔ یہاں تک کہ وہ شاعر یہ کہنے پر مجبور ہوگیا:

وأخذت أطراف الکلام فلم تدع شتمًا یضر ولا مدیحًا ینفع

ترجمہ: ’’آپ نے (میرے شاعرانہ) کلام کی نوک پلک تک کو خرید لیا، آپ نے تکلیف دینے والی کوئی گالی نہیں چھوڑی اور نہ کوئی مدح سرائی کہ جو کسی کو نفع پہنچائے۔‘‘

ومنعتنی عرض البخیل فلم یخف شتمی فأصبح آمنا لا یفزع

ترجمہ: ’’آپ نے مجھ سے بخیل کی عزت کو محفوظ کر لیا، لہٰذا اب اسے میری ہجو کا کوئی خوف نہیں وہ تو اب بڑے امن میں ہے، ذرا بھی گھبراتا نہیں۔‘‘

صفحہ 3 از 5