مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 5

وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ

(سورة التوبۃ: آیت، 100)

ترجمہ: اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جن میں ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے۔‘‘

اور ارشاد فرمایا:

مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا

(سورة الفتح: آیت، 29)

ترجمہ:’’محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحم دل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدہ کر رہے ہیں۔‘‘

اور ان کے بارے میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

خَیْرُ اُمَّتِیْ الْقَرْنُ الَّذِیْ بُعِثْتُ فِیْہِمْ

(صحیح مسلم: جلد، 4 صفحہ، 2534)

ترجمہ:"میری امت کا بہترین دور وہ صدی ہے جس میں میں بھیجا گیا ہوں۔‘‘

اور سیّدنا عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا: ’’جسے کسی طریقہ کی تلاش ہو وہ اپنے سے پہلے وفات پانے والوں (صحابہؓ) کے طریقہ پر چلے۔ کیونکہ زندہ فتنوں سے محفوظ نہیں ہے۔ وہ (جن کے طریقے پر چلنا چاہیے)محمدﷺ کے صحابہؓ ہیں۔ اللہ کی قسم! وہ اس امت کے سب سے افضل افراد(لوگ) تھے، اس امت میں دل کے سب سے نیک، علم میں سب سے پختہ، تکلّفات سے سب سے زیادہ دور رہنے والے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے نبی کی صحبت اور اپنے دین کی اقامت کے لیے منتخب کیا تھا، پس تم ان کی فضیلت کو پہچانو، ان کے نقش قدم پر چلو، ان کے دین اور اخلاق کو اپنے لیے حرز جان بناؤ، اس لیے کہ وہ سیدھے راستے پر تھے۔

‘‘(شرح السنۃ: صفحہ، 214 ، 215 البغوی ) 

چناچہ صحابہ کرامؓ نے اسلامی احکامات پر عمل کر دکھایا اور اس کو پوری روئے زمین پر عام کیا، ان کا دور سب سے بہترین دور تھا۔ انہوں نے امتِ محمدیہ کو قرآن کی تعلیم دی، نبی کریمﷺ کی سنتوں اور آثار کو ان تک پہنچایا، گویا ان کی تاریخ وہ دفینہ ہے جس نے امت کے فکری، ثقافتی، علمی اور جہادی خزانوں، اسلامی فتوحات کی تحریکوں اور دیگر قوموں کے ساتھ ان کے معاملات اور رواداریوں کو محفوظ کر رکھا ہے۔ آپ اس عظیم المرتبت تاریخ کو تاریخ ساز جولانیوں میں محسوس کریں گے کہ کوئی چیز ہے جو صحیح رخ اور ہدایت کی طرف ان کی زندگی کا سفر جاری رکھنے والوں میں ان کی معاون ہے اور اس دور کا مطالعہ کرتے ہوئے آپ محسوس کریں گے کہ اس کا پیغام کیا تھا اور انسانوں کی اس بستی میں اس کا کیا کردار رہا۔ اس دور کی تاریخ سے آپ وہ ذوق پائیں گے جو روح کو غذا دے گا، دلوں کی صفائی کرے گا، عقل و فہم کو روشن اور ہمتوں کو صیقل کرے گا۔وہ دور نتائج اور نصیحتوں کو پیش کرتا ہے، عبرتوں کو آسان کرتا ہے اور افکار میں پختگی لاتا ہے، مبلغین، علماء، مشائخ اور امت کے دیگر افراد اس تاریخ میں حکمت کی وہ باتیں پائیں گے جو نبوت کے طرز پر نئی مسلمان نسل کو تیار کرنے اور ان کی تربیت کرنے پر کافی معاون ثابت ہوں گی اور پھر سب کے سب خلافتِ راشدہ کے نشانِ راہ اور اس کے قائدین اور نوجوانوں کی صفات و خصوصیات اور اس کے زوال کے اسباب کو جان لیں گے۔ آپ کے ہاتھوں میں خلفائے راشدینؓ کی سیرتِ طیبہ سے متعلق یہ دوسری کتاب ہے جو سیّدنا عمر بن خطابؓ کے حیات و کارناموں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ آپؓ دوسرے خلیفۂ راشد ہیں۔ سیّدنا ابوبکر صدیقؓ کے بعد صحابہ میں سب سے افضل تھے۔ نبی کریمﷺ نے ہمیں رغبت دلائی ہے اور حکم دیا ہے کہ ہم ان کے طریقوں کی پیروی کریں اور ان کے راستہ پر چلیں،

آپﷺ نے فرمایا:

عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ مِنْ بَعْدِیْ

(سنن ابی داؤد: جلد، 4 صفحہ، 201 الترمذی: جلد، 4 صفحہ، 44 حسن صحیح)

ترجمہ:’’میری اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدینؓ کی سنت کو لازم پکڑو۔"

پس سیّدنا عمرؓ انبیاء و مرسلین اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے بعد نیکوں میں سب سے بہتر ہیں اور ان دونوں کے بارے میں آپﷺ کا ارشاد ہے:

اِقْتَدُوْا بِاللَّذَیْنِ مِنْ بَعْدِیْ أَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ۔

(صحیح سنن الترمذی: جلد، 3 صفحہ 200: البانی)’

ترجمہ: میرے بعد ابوبکرؓ و عمرؓ کی اقتداء کرنا۔‘‘

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْمَنْ قَبْلَکُمْ مِّنَ الْاُمَمِ ، مُحَدَّثُوْنَ فَإِنَّ یَّکُنْ فِیْ أُمَّتِیْ أَحَدٌ فَإِنَّہُ عُمَرُ

(البخاری: صفحہ، 3679 ، مسلم: صفحہ، 2398)

ترجمہ:’’تم سے پہلے کی تمام امتوں میں الہام یافتہ شخصیتیں ہوتی تھیں، پس اگر میری امت میں کوئی ایسا ہے تو وہ عمر ہیں۔‘‘

بے شمار احادیث اور مشہور روایات سیدنا عمر فاروقؓ کے فضائل میں وارد ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

رَأَیْتُ کَأَنِّیْ أَنْزِعُ بِدَلْوٍ بَکْرَۃٍ عَلٰی قَلِیْبٍ فَجَائَ أَبُوْبَکْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوْبًا أَوْ ذَنُوْبَیْنِ نَزْعًا ضَعِیْفًا وَاللّٰہُ یَغْفِرُلَہُ ثُمَّ جَائَ عُمَرُ فَاسْتَسْقٰی فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَلَمْأَرَعَبْقَرِیًّا یَفْرِیْ فَرْیَہٗ حَتّٰی رَوِیَ النَّاسُ وَضَرَبُوْا الْعَطَنَ۔

(صحیح مسلم: حدیث: 2393)

ترجمہ: ’’میں نے (خواب میں) دیکھا کہ ایک کنویں پر پڑے ہوئے ڈول سے پانی کھینچ رہا ہوں۔ پھر سیدنا ابوبکرؓ آئے اور انہوں نے بھی ایک یا دو ڈول (پانی) ناتوانی کے ساتھ نکالے، اللہ ان کی بخشش کرے، پھر عمر بن خطابؓ آئے اور انہوں نے پانی کھینچا تو وہ ڈول بھر کر بڑا ہو گیا۔ میں نے ایسا زبردست کام کرنے والا نہیں دیکھا، یہاں تک کہ لوگ سیراب ہو گئے اور اپنے اونٹوں کو پانی پلا کر آرام کی جگہ میں بٹھایا۔‘‘

صفحہ 2 از 5