مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 5

مقدمہ

اِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ وَنَسْتَغْفِرُہٗ، وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا، مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ، وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ، وَاَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔

يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ

(سورة آل عمران: آیت، 102)

ترجمہ: اے ایمان والو ! دل میں اللہ کا ویسا ہی خوف رکھو جیسا خوف رکھنا اس کا حق ہے، اور خبردار ! تمہیں کسی اور حالت میں موت نہ آئے، بلکہ اسی حالت میں آئے کہ تم مسلمان ہو۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا

(سورة النساء: آیت، 1) 

ترجمہ: اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کی بیوی پیدا کی، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیئے۔ اور اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حقوق مانگتے ہو، اور رشتہ داریوں (کی حق تلفی سے) ڈرو۔ یقین رکھو کہ اللہ تمہاری نگرانی کررہا ہے۔

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا 

(سورة الاحزاب: آیت،70)

ترجمہ: اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو، اور سیدھی سچی بات کہا کرو۔

 يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا

(سورة الاحزاب: آیت، 71)

ترجمہ: اللہ تمہارے فائدے کے لیے تمہارے کام سنوار دے گا، اور تمہارے گناہوں کی مغفرت کردے گا۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، اس نے وہ کامیابی حاصل کرلی جو زبردست کامیابی ہے۔

اما بعد!

یہ کتاب جس کا نام ’’الفاروق عمر بن الخطاب شخصیتہ وعصرہ‘‘ ہے، اس کی تالیف میں سب سے بڑا فضل و احسان اللہ تعالیٰ کا ہے، پھر ان علماء، افاضل اور مبلغین کا جنہوں نے خلفائے راشدینؓ کی سیرت اور ان کے ادوار پر خامہ فرسائی کے لیے میری ہمت افزائی کی، یہاں تک کہ ایک عالم نے مجھ سے کہا: ’’موجودہ دور کے مسلمانوں اور خلفائے راشدینؓ کے دور میں ایک لمبا فاصلہ ہو گیا ہے، اوّلیات (پہلے و بعد) کی ترتیب اور تقدیم و تاخیر میں بگاڑ واقع ہو گیا ہے۔ بہت سے مسلمان بھائی خلفائے راشدینؓ کی سیرت و کارناموں کے مقابلہ میں دوسرے علماء، مصلحین اور مبلغین کی سیرت و کارناموں کا زیادہ اہتمام کرتے ہیں، حالانکہ خلفائے راشدینؓ کا دور سیاسی، تربیتی، نشریاتی، اخلاقی، اقتصادی، فکری، جہادی اور فقہی ہر اعتبار سے دوسروں سے بے نیاز ہے اور اس کی ہمیں ضرورت ہے، ہم اس بات کے محتاج ہیں کہ اسلامی مملکت کے اداروں کا ہمیں علم ہو اور یہ کہ وہ ادارے زمانے کے دوش بدوش کیسے چلتے رہے، مثلاً عدلیہ کا نظام، مالیات کا نظام، خلافت کا نظام، ملکی دفاع کا نظام، امراء اور گورنروں کی تعیین کا نظام اور جب امتِ مسلمہ نے روم و فارس کی تہذیبوں کے ساتھ بودوباش اختیار کی تو اس زمانے میں جو اجتہادات پیش ہوئے اور اسلامی فتوحات کا مزاج کیا تھا؟ ان تمام باتوں کا جاننا ضروری ہے۔

دراصل اس کتاب کی تالیف کا میں نے ایک ذہنی خاکہ تیار کیا تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے وجود کا جامہ پہنانا چاہا اور پھر اس نے مجھے توفیق دی، میرے لیے معاملات کو آسان کر دیا اور مشکلات کو دور کر دیا اور میری مدد فرمائی کہ میرے لیے موضوع سے متعلق مراجع و مصادر میسر آئے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر اور احسان ہے جس نے میری ایسی مدد فرمائی۔

خلفائے راشدینؓ کے دور کی تاریخ عبرت و موعظت سے لبریز ہے اور مراجع و مصادر کی کتابوں میں خواہ وہ تاریخی ہوں، فقہی ہوں، ادبی ہوں، یا حدیث، تفسیر، تراجم اور جرح و تعدیل کی کتابیں ہوں سب میں دروس و عبر کے موتی بکھیرے ہوئے ہیں۔ میں نے اپنی طاقت و کوشش کے مطابق ان کتابوں کو کھنگالا ہے اور دوران تالیف مجھے کئی طرح کی ان تاریخی روایات سے سابقہ پڑا جن کی تہ تک پہنچنا اور اس کی حقیقت کا جاننا معروف و متد اول تاریخی کتابوں میں بہرحال ایک مشکل چیز ہے۔ اسی لیے میں نے ان روایتوں کو اکٹھا کیا، پھر ترتیب دیا، اصل حوالہ جات سے موازنہ کیا اور پھر تحقیق و تنقیح کے میزان پر اسے تولا۔ اس طرح پہلی کتاب سیّدنا ابوبکر صدیقؓ کے بارے میں منظر عام پر آئی جس کا نام میں نے ’’ابوبکر الصدیقؓ شخصیتہ وعصرہ‘‘(اللہ کے فضل سے ادارہ کی طرف سے اس کا اردو ترجمہ ’’سیدنا ابوبکر صدیقؓ شخصیت اور کارنامے" کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ (مترجم)رکھا ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے یہ کتاب عربی کتب خانوں اور عالمی کتابی میلوں و نمائشوں میں خوب پھیلی، بہت سے قارئین، مبلغین، علماء اور طلبہ وعوام کے ہاتھوں میں پہنچی، انہوں نے اپنے تاثرات سے مجھے نوازا اور اس طرح میری ہمت افزائی کی کہ میں خلفائے راشدینؓ کے دور کا یہ تحقیقی سفر جاری رکھوں اور اس دور کی خصوصیات کو خوب وضاحت کے ساتھ امتِ مسلمہ کے سامنے اس انداز میں پیش کروں جو آج کے دور کے موافق ہو۔ 

خلفائے راشدینؓ کے دور کی تاریخ درس و عبرت سے بھری پڑی ہے۔ اگر اس تاریخ کو ضعیف و موضوع روایات، مستشرقین اور ان کے دم چھلوں یعنی سیکولر ازم کے پرستاروں اور روافض وغیرہ کے نظریات سے ہٹ کر ہم اس کو بحسن و خوبی پیش کر لیں گے اور اس میں اہلِ سنت کے طریقہ عمل پر اعتماد کیا تو گویا اہلِ سنت کے نقطۂ نظر سے اس کو پیش کرنے میں ہمیں کامیابی مل جائے گی اور ان پاکباز شخصیتوں کی زندگی اور ان کے دور کی خوبیوں کو ہم اچھی طرح پہچان لیں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

صفحہ 1 از 5