مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 6 از 7
میں نے ابوبکر صدیق، خالد بن ولید اور عیاض بن غنم رضی اللہ عنہم کے مابین فتح عراق کے سلسلہ میں جو خط کتابت ہوئی اس کو بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ اس طریقہ کار کو تفصیل سے بیان کیا ہے جو فتح شام کے سلسلہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اختیار کیا، جہاد سے متعلق کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ لینا، اہل یمن سے استفسار کرنا، فوج ارسال کرنے کے سلسلہ میں آپ کا طرز عمل، فتح شام پر بھیجے گئے قائدین کو وصیت، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو عراق کے محاذ سے ہٹا کر شام کے محاذ پر لگانا اور معرکہ اجنادین اور یرموک کے واقعات اور ان فتوحات سے خارجہ سیاست کے سلسلہ میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعض نقوش کو واضح کیا۔ دوسری اقوام کے اندر حکومت کی ہیبت وخوف بٹھانا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس جہاد کا حکم فرمایا تھا، اس کو جاری رکھنا، مفتوحہ علاقوں میں عدل وانصاف قائم کرنا، ان کے باشندوں کے ساتھ نرمی برتنا، جبر و کراہ کو دور کرنا، بشریت اور دعاۃ و مصلحین کے درمیان حواجز اور رکاوٹوں کو ختم کرنا۔ اسی طرح صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعض جنگی حکمت عملی کو واضح کیا ہے، مثلاً دشمن کے ملک جب تک مسلمانوں کی فرماں برداری نہ قبول کر لیں اندر تک نہ گھسنا، جنگ کی تیاری اور فوج جمع کرنے کی قدرت، مسلسل جنگی امداد اور کمک کو منظم کرنا، جنگ کے مقصد کو متعین کرنا، جنگی میدان کو اوّلیت دینا، میدان معرکہ سے برطرفی، اسالیب قتال میں بتدریج تبدیلی لانا، اپنے اور قائدین جیش کے درمیان اتصال کو محفوظ و مضبوط رکھنے کا اہتمام، آپ نے قائدین جنگ کو جو ہدایات اور وصیتیں کی ہیں ان کی روشنی میں اللہ تعالیٰ، قائدین اور فوج کے حقوق کو میں نے بیان کیا ہے۔ زندگی کے آخری ایام میں آپ کا خلافت کے لیے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمانے اور آپ کے کلمات کو بیان کیا ہے۔
آپ کا آخری کلمہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد تھا:  
لتَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ
’’اے اللہ مسلمان ہونے کی حالت میں میری وفات فرما اور صالحین کے زمرے میں شامل کر دے۔‘‘
میں نے اس کتاب میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلام کیسے سمجھا اور کیسے اس کو عملی جامہ پہنایا اور اپنے دور میں رونما ہونے والے حالات پر کس طرح اثر انداز ہوئے اور آپ کی شخصیت کے مختلف گوشوں؛ سیاسی، عسکری، اداری اور اسلامی معاشرہ میں آپ کی خلافت سے قبل اور خلافت کے بعد کی زندگی پر روشنی ڈالی ہے اور بحیثیت ایک ممتاز اور نادر روزگار حاکم کے آپ کی داخلی اور خارجی سیاست کے کارناموں اور اداری اسلوب کا جائزہ لینے کا اہتمام کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ آپ کے دور میں دارالقضاء کا کس طرح آغاز ہوا تاکہ ہم ان تصورات کو جان سکیں جو اس کے اندر اور حکومت کے دیگر اداروں میں راشدی دور اور اسلامی تاریخ کے اندر رونما ہوئے ہیں۔ یہ کتاب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عظمت کی واضح دلیل پیش کرتی ہے اور قارئین کے لیے یہ ثابت کرتی ہے کہ آپ ایمان، علم، فکر، بیان، اخلاق اور کارنامے ہر اعتبار سے عظیم تھے۔ آپ نے اپنے اندر ہر طرح کی عظمتوں کو جمع کر رکھا تھا اور آپ کو یہ عظمت، فہم اسلام، عملاً اس کی تطبیق اور اللہ رب العالمین سے عظیم تعلق، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح اور سچی اتباع سے حاصل ہوئی تھی۔
یقیناً ابوبکر رضی اللہ عنہ ان ائمہ میں سے ہیں جو لوگوں کے لیے نقوش راہ متعین کرتے ہیں اور لوگ اس دنیا کے اندر ان کے ا قوال و افعال کی اقتداء کرتے ہیں۔ آپ کی سیرت ایمان، صحیح اسلامی تڑپ اور دین کے فہم سلیم کے قوی ترین مصادر میں سے ہے۔ اسی لیے میں نے آپ کی شخصیت اور آپ کے دور کو پڑھنے میں بھرپور محنت کی ہے لیکن مجھے عصمت کا دعویٰ نہیں اور نہ غلطی و لغزش سے انکار ہے۔ اللہ کی رضا اور اس کے ثواب کے حصول کے لیے میں نے یہ کوشش کی ہے، اسی سے اس سلسلہ میں مدد کی درخواست ہے، یقینا وہ پاکیزہ ناموں والا اور دعاؤں کو سننے والا ہے۔
یہ کتاب ایک مقدمہ، چار فصلوں اور خلاصہ پر مشتمل ہے۔
مقدمہ
پہلی فصل: ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مکہ میں
یہ فصل پانچ مباحث پر مشتمل ہے:
  1.  نام، نسب، کنیت، القاب، صفت، خاندان، دور جاہلیت کی زندگی۔
  2. اسلام، دعوت، ابتلاء و آزمائش، پہلی ہجرت۔
  3. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت مدینہ۔
  4. ابوبکر رضی اللہ عنہ میدان جہاد میں۔
  5. صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مدنی معاشرہ میں، آپ کے بعض اوصاف وفضائل
دوسری فصل: وفات نبویﷺ اور سقیفہ بنی ساعدہ
یہ فصل دو مباحث پر مشتمل ہے:
  1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور سقیفہ بنی ساعدہ
  2. بیعت عامہ اور داخلی سیاست۔
تیسری فصل: لشکر اسامہ اور مرتدین سے جہاد
یہ فصل پانچ مباحث پر مشتمل ہے:
  1. لشکر اسامہ
  2. مرتدین سے جہاد
  3. مرتدین پر عام حملہ
  4. مسیلمہ کذاب اور بنو حنیفہ
  5. مرتدین سے جنگ سے حاصل ہونے والے دروس وعبر اور فوائد
چوتھی فصل: فتوحات صدیق، خلافت کے لیے عمر رضی اللہ عنہ کی نامزدگی اور وفات
یہ فصل چار مباحث پر مشتمل ہے:
  1.  فتوحات عراق
  2. فتوحات شام
  3. اہم دروس و عبر اور فوائد
  4. خلافت کے لیے عمر رضی اللہ عنہ کی نامزدگی اور آپ کی وفات
اس کتاب کی تالیف سے بروز جمعہ بعد نماز عشاء بتاریخ 5 محرم 1422 ہجری موافق 30 مارچ 2001ء فارغ ہوا۔ اوّل وآخر اللہ ہی کا فضل وکرم ہے اور اللہ سے دعا ہے کہ اللہ اس عمل کو اچھی طرح قبول فرمائے اور ہمیں انبیاء و صدیقین اور شہداء و صالحین کی رفاقت سے سرفراز فرمائے۔
ارشاد ربانی ہے:
مَّا يَفْتَحِ اللَّـهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (سورۃ الفاطر: آیت، 2)
ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ جو رحمت کھول دے سو اس کو کوئی بند کرنے والا نہیں اور جس کو بند کر دے سو اس کے بعد کوئی اس کو جاری کرنے والا نہیں، اور وہی غالب حکمت والا ہے۔‘‘
صفحہ 6 از 7