مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 7
میں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل وصفات، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان جہاد میں شرکت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدنی معاشرہ میں آپ کے عظیم مؤقف وکردار کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ سے امت کو ثابت قدم رکھا ان تمام امور کی تلاش و جستجو کی اور ایک ایک کر کے جمع کیا۔ سقیفہ بنی ساعدہ اور اس میں پیش آنے والے انصار و مہاجرین کے نقوش وگفتگو پر روشنی ڈالی اور اس سلسلہ میں مستشرقین، روافض اور ان کے مقلدین نے جو شبہات ابھارے ہیں اور غلط پروپیگنڈہ کیا ہے اس کا پردہ چاک کیا اور ان شبہات کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ لشکر اسامہ کو اپنی مہم پر بھیجنے کے سلسلہ میں صدیق کے مؤقف کو بیان کرتے ہوئے اس عظیم واقعہ کے اندر شورائیت، دعوت، عزم و حوصلہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء، کتاب و سنت کی طرف رجوع، آداب جہاد سے متعلق جو دروس و عبر ہیں انہیں ذکر کیا، فتنہ ارتداد کی توضیح کی، اس کے اسباب و اصناف بیان کیئے۔ کس طرح یہ فتنہ دور نبویﷺ کے آخر میں شروع ہوا اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اپنے دور میں کیا مؤقف رہا؟ اس کو ختم کرنے کے لیے آپ نے جو لائحہ عمل وضع کیا اور مرتدین کے خلاف جنگ میں جو اسلوب اختیار کیا اس کو تفصیل سے بیان کیا اور صدیق اکبر کی ان صلاحیتوں کا سراغ لگایا جو آپ کی شخصیت کے اندر موجود تھیں، جن کے ذریعہ اللہ کی توفیق کے بعد ارتداد کی تحریک کو کچل دیا۔ پھر آپ کے دور سے متعلق گفتگو کی اور کس طرح اس میں غلبہ و تمکین کے شروط واسباب موجود تھے اور غلبہ و تمکین سے بھرپور نسل کی صفات کو بیان کیا جس کی قیادت صدیقؓ نے کی۔ اور آپ نے اپنی حکومت میں خارجہ دخل اندازی کو ختم کرنے کے لیے جو سیاست و پالیسی اختیار کی اس کی طرف اشارہ کیا۔ واقعہ ارتداد کے اہم نتائج کو ذکر کیا۔ مثلاً اسلام کا دوسرے افکار و تصورات اور سلوک واعمال سے ممتاز ہونا، معاشرہ کے لیے قوی بنیادی اصول کا پایا جانا، جزیرۃ العرب کو اسلامی فتوحات کا مرکز بنانا، فتوحات کی تحریک کے لیے قائدین کو تیار کرنا، تحریک ارتداد سے رونما ہونے والی فقہ، سازش گروں کو ان کی اپنی سازش میں مبتلا کر دینے کی الہٰی سنت، جزیرۃ العرب میں اداری نظام کا استقرار اور اسی طرح میں نے عہد صدیقی کی فتوحات پر روشنی ڈالی اور فتح عراق کے سلسلہ میں آپ کی منصوبہ بندی اور لائحہ عمل کو بیان کیا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا، انہوں نے اپنی عظیم جنگی مہموں کے ذریعہ سے عراق کے شمال و جنوب کو اسلامی خلافت میں شامل کر لیا، جن کے اندر مثنیٰ بن حارثہ، قعقاع بن عمرو اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہم اور آپ کے فتح مند لشکر کی نادرئہ روزگار بہادریاں نمایاں ہوئیں۔ یہ دور صدیقی کے بعد آنے والی عظیم فتوحات کا پہلا قدم تھا، جس نے امت کی تاریخ کو دین کی نشرواشاعت اور اللہ کی راہ میں طویل جہاد کے سلسلہ میں تابناک بنا دیا۔
شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
فالقادسیۃ ما یزال حدیثھا
عِبَرٌ تُضِیُٔ بأطیب الألوانِ
’’قادسیہ کے واقعہ میں برابر دروس وعبر ہیں جو پاکیزہ رنگوں میں ضیا پاشی کرتے ہیں۔‘‘
تُحْکِی مفاخرَنا وَتَذْکُرْ مَجْدَنَا
فَتُجِیْبُہَا حِطِّیْنُ بالمنوالِ
’’یہ واقعہ ہمارے مفاخر کو بیان کرتا ہے اور ہمارے شرف ومنزلت کو ذکر کرتا ہے، پھر اسی طرز پر حطین کا واقعہ نمودار ہوتا ہے۔‘‘
صفحات مجدٍ فی الخلود سطورہا
دان الرجال لہا بغیر جدال
’’مجدو بزرگی کے یہ صفحات، ان کی سطریں ہمیشہ باقی رہیں گی، لوگ بغیر کسی مقابلہ کے اس کی اتباع قبول کرتے رہتے ہیں۔‘‘
وکاننی بابن الولید وجندہ
وبکل کف لامع الانصال
’’گویا کہ میں خالد بن ولید اور ان کے لشکر اور ان کی ہتھیلیوں میں چمکتے نیزوں کو دیکھ رہا ہوں۔‘‘
نشروا علی ارض الخلیل لواء ہم
فغدا یظلل اطہر الاطلال
’’جنہوں نے سر زمین فلسطین پر پرچم اسلام لہرایا، جس نے پاکیزہ پہاڑیوں کو اپنے سایہ میں لے لیا۔‘‘
وعن الیمین ابو عبیدۃ قد اتٰی
واتی صلاح الدین صوب شمال
’’دائیں جانب سے ابو عبیدہ پہنچے تو بائیں جانب سے صلاح الدین آ نمودار ہوئے۔‘‘
یسعی الیہم قد شروا ارواحہم
للّٰہ بعد تسابق لقتال
’’ان کی طرف وہ لوگ آگے بڑھے جنہوں نے قتال میں مسابقت کرتے ہوئے اپنی روحوں کو اللہ کے حوالے کر دیا۔‘‘
فہم الاعزۃ فی کتاب خالد
ما بعد قول اللّٰہ من اقوال
’’وہ لوگ اللہ کی کتاب میں عزت والے قرار دیے گئے ہیں اور اللہ کے فرمان کے بعد کسی فرمان کی ضرورت نہیں۔‘‘
صفحہ 5 از 7