مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 7
اہلِ سنت والجماعت کے منہج پر اسلامی تاریخ کی نئے سرے سے تالیف و تصنیف انتہائی ضروری ہو گئی ہے اور الحمدللہ اس منہج کے مطابق تاریخ کی تالیف شروع ہو چکی ہے اور یہ کام یوں ہی شروع نہیں کیا گیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس دین و امت کی حفاظت کی ضمانت لے رکھی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تاریخ کے لیے ایسے لوگوں کو پیدا فرمایا جو ان کے واقعات کی تحقیق کریں، اور اخبار کی تصحیح کریں، خبریں گھڑنے والے وضاع و کذاب لوگوں کا پردہ فاش کریں، یہ تحقیق و تصحیح اوّلاً اللہ رب العالمین کا فضل و احسان ہے اور پھر ائمہ اہلِ سنت محدثین و فقہاء کی کوششوں کا نتیجہ ہے، جن کی تالیفات اس طرح کی صحیح روایات اور اشارات سے بھری پڑی ہیں جن سے گھڑنے والوں کے تمام مزاعم کی تردید ہو جاتی ہے۔
(دیکھیے: ملاحظہ ہو دکتور محمد مخزون کی کتاب المنہج الاسلامی لکتابۃ التاریخ: صفحہ، 4)
اہلِ سنت کے منہج پر عمل کرتے ہوئے میں جدید و قدیم مراجع اور مصادر میں لگ گیا اور خلفائے راشدینؓ کے دور کے مطالعہ کے لیے میں نے صرف طبری، ابنِ اثیر، ذہبی اور مشہور کتب تاریخ پر اکتفاء نہیں کی بلکہ میں نے کتب تفسیر، حدیث اور شروحات حدیث، کتب جرح و تعدیل اور تراجم نیز کتب فقہ کی طرف رجوع کیا، تو مجھے ان کتابوں کے اندر بہت زیادہ تاریخی مواد ملے، جن کی حقیقت معروف و متداول تاریخی کتب کے اندر نہیں مل سکتی ہے۔ میں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت اور دور کو موضوع بحث بناتے ہوئے ان کے بارے میں لکھنا شروع کیا۔ آپ تو خلفائے راشدینؓ کے سرخیل ہیں، جن کی سنت کی اتباع اور جن کے طریقے کی پیروی کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا اور اس پر ابھارا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
((علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین من بعدی۔)) (ابوداود: ۴/۲۰۱، الترمذی: ۵/۴۴، حدیث حسن صحیح)
’’تم میری سنت کو اور میرے بعد ہدایت یاب خلفائے راشدینؓ کی سنت کو لازم پکڑو۔‘‘
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیاء و مرسلین کے بعد صدیقین کے سرخیل اور صالحین میں سب سے افضل و بہتر ہیں اور علی الاطلاق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے افضل و اشرف اور سب سے زیادہ علم والے ہیں۔ آپ ہی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
لو کنت متخذا خلیلا لاتخذت ابا بکر خلیلا ولکن اخی وصاحبی 
(البخاری: فضائل الصحابۃ، 3656)
’’اگر میں لوگوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور میرے ساتھی ہیں۔‘‘
نیز آپ اور عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکر وعمر (صحیح سنن الترمذی للالبانی رحمہ اللہ جلد، 3 صفحہ،200)
’’میرے بعد ابوبکر وعمر کی اقتدا کرنا۔‘‘
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ کے متعلق شہادت دیتے ہوئے فرمایا:
’’آپ ہمارے آقا، ہم میں سب سے بہتر و افضل اور رسول اللہﷺ کے نزدیک ہم میں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔‘‘
(البخاری: فضائل الصحابۃ: صفحہ 3668)
محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ نے اپنے والد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے جب دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: (البخاری: فضائل الصحابۃ: صفحہ، 3671)
ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زندگی اسلامی تاریخ کا وہ درخشاں صفحہ ہے جو تمام تاریخ پر فضیلت و فوقیت رکھتا ہے، جس شرف ومنزلت، اخلاص اور بلند مبادی اور اصولوں کی خاطر جہاد و دعوت پر یہ تاریخ مشتمل اور حاوی ہے، تمام اقوام کی تاریخ اس سے خالی ہے۔ اسی لیے میں نے آپ کے واقعات و اخبار اور حیات و زمانہ کو مراجع ومصادر میں غوطہ زنی کر کے کتابوں کے اندر سے نکالا اور اس کی ترتیب و تنسیق اور توثیق وتحلیل کی، تاکہ دعاۃ وعلماء، خطباء و مقررین، سیاست دان و مفکرین، قائدین و حکام اور طلبہ سبھی اس پر مطلع ہو سکیں اور اپنی زندگی میں اس سے استفادہ کرتے ہوئے عملی جامہ پہنائیں تاکہ دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کو فوز و فلاح سے ہمکنار فرمائے۔
صفحہ 4 از 7