مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 7
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسلامی احکام کو نافذ کیا اور مشرق و مغرب میں اس کو عام کیا لہٰذا ان کا دور سب سے بہترین دور تھا، انہوں نے ہی امت کو قرآن کی تعلیم دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سنن و آثار کو روایت کیا لہٰذا ان کی تاریخ وہ گراں مایہ خزانہ ہے جس کے اندر فکر و ثقافت، علم و جہاد، فتوحات اور اقوام و امم کے ساتھ تعامل کا سرمایۂ امت محفوظ ہے۔ آنے والی نسلوں کے لیے یہ تابناک تاریخ صحیح منہج اور سچی ہدایت پر سفر زندگی جاری رکھنے میں ممدو معاون ہو گی۔ اس کی روشنی میں وہ اپنے پیغام اور لوگوں کے درمیان اپنے دور کی حقیقت و اہمیت کو پہچانیں گی۔ اعدائے اسلام، یہود و نصاریٰ، سیکولرزم اور کمیونزم کے قائلین اور روافض وغیرہ نے اس تاریخ کی اہمیت اور نفوس کی تربیت اور قوت و طاقت کو برانگیختہ کرنے کے سلسلہ میں اس کے بالغ اثر کو محسوس کیا، جس کی وجہ سے وہ اس تاریخ کو بدنما کرنے اور اس کے اندر خرد برد اور تحریف و تبدیل کرنے اور نئی نسل کے اندر اس سلسلہ میں شکوک و شبہات پیدا کرنے میں لگ گئے، چنانچہ ماضی میں ان خبیث ہاتھوں نے یہ کام انجام دیا اور دور حاضر میں مستشرقین نے اس کے اندر تحریف و تبدیل کا بیڑا اٹھایا، ہماری اسلامی تاریخ یہود و نصاریٰ اور مجوس و روافض کے ہاتھوں تحریف و تبدیل کا شکار ہوئی، جنہوں نے بظاہر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اور اپنے اندر کفر کو چھپائے رکھا۔ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ اسلام کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے ہر محاذ پر ان کو ناکامی ہو رہی ہے، اس کا مقابلہ کرنا ان کے بس میں نہ رہا لہٰذا وہ اسلام کو منہدم کرنے، حکومت اسلامیہ کو پارہ پارہ کرنے اور مسلمانوں کا شیرازہ منتشر کرنے کی خاطر سازش میں لگ گئے۔ اس سلسلہ میں خبروں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور جھوٹی افواہوں کو پھیلانے اور خلیفہ راشد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کرنے اور فتنے گھڑنے میں لگ گئے۔ عبداللہ بن سبا یہودی اور اس کے کارندوں نے فتنہ کی آگ بھڑکانے میں اہم رول ادا کیا، جس کے نتیجے میں تیسرے خلیفہ راشد عثمان رضی اللہ عنہ کا مظلومانہ قتل ہوا اور اسی طرح واقعہ جمل میں جبکہ فریقین کے درمیان تمام غلط فہمیاں ختم ہو چکی تھیں اور مصالحت کی بات چل رہی تھی، ان لوگوں نے جنگ کی آگ بھڑکا دی۔ اس کے علاوہ دیگر نقل و حرکت اور سازشیں جن سے مقصود، اسلام اور اتباع اسلام کو تباہ و برباد کرنا تھا، مزید برآں اسلامی تاریخ کے اندر ضعیف و موضوع روایات کا اضافہ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت داغ دار کرتی ہیں، جیسے واقعہ تحکیم کا افسانہ جس میں بعض صحابہؓ کو خدع و مکر اور جاہ و حشمت کی طلب سے متصف قرار دیا گیا تو بعض کو حماقت و غباوت اور کند ذہنی سے متصف کیا گیا۔ اس طرح کی روایات کے وضع کرنے سے مقصود نامحسوس انداز میں اسلام کو متہم قرار دینا اور اس کو ہدف ملامت بنانا تھا کیونکہ اسلام ہمیں صحابہؓ ہی کے ذریعہ سے ملا ہے لہٰذا ان کی ثقاہت و عدالت میں تشکیک لازمی طور پر اسلام کی صحت میں تشکیک ہے۔ ان موضوع و من گھڑت روایات کا مستشرقین اور ہمارے ہم زبان ان کے مقلدین نے سہارا لیا اور اپنی پوری توجہ ان پر مرکوز کر دی اور اس کی بحث و کرید میں توسع سے کام لیا اور اس کو مالِ غنیمت سمجھتے ہوئے اس کو جمع کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت کی کیونکہ اس سے اسلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سلسلہ میں طعن و تشنیع اور اتہام جیسے مقاصد میں مدد ملتی ہے۔
(دیکھیے: شیخ صادق عرجون کی کتاب خالد بن الولید پر سید قطب کا مقدمہ: صفحہ، 5)
اعدائے اسلام نے ہماری تاریخ کو اپنے منحرف مناہج کے موافق ڈھال کر پیش کیا اور بعض مسلم مورخین ان درآمد شدہ مناہج سے بری طرح متاثر ہوئے اور پچھلی دہائیوں میں انہوں نے اعدائے امت مستشرقین، کمیونسٹوں اور روافض ویہود کی حرف بحرف ترجمانی کر ڈالی۔ کیونکہ اسلام کی روح و طبیعت کا ان کے پاس صحیح تصور نہیں تھا، حالانکہ اسلامی تاریخ پر قلم اٹھانے کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ انسان کو اسلامی فکر کی حقیقت اور زندگی اور واقعات اور اشیاء کے سلسلہ میں اس کے نظریات کا بخوبی علم و ادراک ہو اور پھر لوگ جن مبادی و اصول پر قائم ہیں اس سے موازنہ کیا جائے اور روح و فکر اور نفوس و شخصیات کی تعمیر میں اس کی تاثیر کو سمجھا جائے۔ اسلامی شخصیات کا مطالعہ خاص کر اس بات کا متقاضی ہے کہ اسلامی فکر کی تاثیر قبول کرنے کے سلسلہ میں اسلامی شخصیات کے مزاج کا مکمل ادراک ہو، کیونکہ ان تاثیرات کے قبول کرنے کا طریقہ انسان کے شعور و سلوک اور واقعات کے ساتھ تاثر کو ڈھالنے میں بڑی اہمیت رکھتا ہے اور اسلامی فکر کی حقیقت اور اسلامی شخصیات کے طریقہ اخذ و قبول کا ادراک صرف وہی مؤلف کر سکتا ہے جو اسلامی فکر پر ایمان رکھتا ہو اور دل کی گہرائیوں سے اس کو قبول کرتا ہو، تاکہ یہ ادراک اس کے ضمیر کی سچی آواز ہو، صرف خالی ظاہر ی ذہنی اپج نہ ہو۔
(دیکھیے: شیخ صادق عرجون کی کتاب خالد بن الولید پر سید قطب کا مقدمہ،ل: صفحہ، 5)
اس منہج کو نہ اختیار کرنے کی وجہ سے بعض معاصر مؤرخین و مؤلفین اور ادباء نے سلف صالحین کی تصویر کو مسخ کر ڈالا، ان کو اس شکل میں ظاہر کیا کہ وہ دنیا پر ٹوٹ پڑے اور حکومت و سلطنت کی خاطر ایک دوسرے کا خون بہانے اور اس کو زیر کرنے میں لگ گئے۔ ان لوگوں نے درس گاہ نبوت کے تربیت یافتہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حقیقت کو نہیں سمجھا اور اسلام اور اس کے عقیدہ و اصول سے متاثر ہوئے بغیر قلم اٹھا لیا۔ اس طرح کی تالیفات کی وجہ سے ایسی نسل وجود میں آئی جسے اپنی صحیح تاریخ کا پتہ ہی نہیں، تاریخ کے نام سے اسے اپنے سامنے صرف جنگ و خونریزی، مکرو فریب اور حیلہ سازی نظر آئی اور اس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی تصویر مسخ ہو کر رہ گئی، جس کا اثر یہ ہے کہ بعض مسلمانوں نے حقیقت کو سمجھے بغیر ان اباطیل کو محض اس لیے قبول کر لیا ہے کہ زید یا عمرو نے ان کو اپنی کتابوں میں لکھ مارا ہے۔
(دیکھیے: محمد مال اللہ کی کتاب ابوبکر رضی اللہ عنہ: صفحہ، 15 اور 16)
صفحہ 3 از 7