مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 7
یقیناً خلفائے راشدینؓ کا دور دروس وعبر سے پر ہے، جو کتابوں اور مراجع کے اندر بکھرے ہوئے ہیں، خواہ وہ تاریخی ہوں یا حدیثی، فقہی ہوں یا ادبی اور تفسیری، ہمیں اس کی جمع و ترتیب اور توثیق و تحلیل کی شدید ضرورت ہے کیونکہ خلافت کی تاریخ کو اگر اچھے انداز میں پیش کیا جائے تو اس سے روحوں کو غذا ملتی ہے، نفوس کی تہذیب ہوتی ہے، عقل کو روشنی ملتی ہے، ہمتیں بڑھتی ہیں، درس و عبرت حاصل ہوتی ہے، فکر میں پختگی پیدا ہوتی ہے، اس سے ہم منہاج نبوت پر نئی مسلم نسل کی تربیت میں استفادہ کر سکتے ہیں اور ان نفوس کی زندگی اور دور کو اچھی طرح معلوم کر سکتے ہیں جن کے بارے میں اللہ کا ارشاد ہے:
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيم. (سورۃ التوبہ: آیت، 100)
ترجمہ: ’’اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں، اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جن میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔‘‘
اور ارشاد ربانی ہے:
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖتَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ  ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (سورۃ الفتح: آیت، 29)
ترجمہ: ’’محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں، آپس میں رحم دل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں‘‘
اور جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( خیر امتی القرن الذی بعثت فیہم)) (مسلم: جلد، 4 صفحہ، 1963 اور 1964)
ترجمہ: ’’میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے درمیان میں بھیجا گیا ہوں۔‘‘
اور جن کے بارے میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:
’’جس کو اقتدا کرنی ہے وہ گزرے ہوئے صحابہؓ کی اقتداء کرے کیونکہ زندوں پر فتنہ کا خطرہ ہے۔ قابل اقتداء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ ہیں، اللہ کی قسم وہ اس امت میں سب سے افضل تھے، ان کے دل سب سے زیادہ نیکیوں کی تڑپ رکھنے والے، وہ سب سے کم تکلف کرنے والے تھے۔ وہ ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ نے اپنے نبیﷺ کی صحبت کے لیے اور اقامت دین کے لیے چن لیا تھا۔ لہٰذا تم ان کے فضل و مقام کو پہچانو، ان کے آثار کی اتباع کرو، ان کے اخلاق اور دین کو حتیٰ الوسع مضبوطی سے تھام لو، یقیناً وہ سیدھی ہدایت پر قائم تھے۔‘‘
(شرح السنۃ للبغوی: جلد، 1 صفحہ، 214 اور 215)
صفحہ 2 از 7