مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 9 از 12

اِنَّمَا نُطۡعِمُكُمۡ لِـوَجۡهِ اللّٰهِ لَا نُرِيۡدُ مِنۡكُمۡ جَزَآءً وَّلَا شُكُوۡرًا‏۞اِنَّا نَخَافُ مِنۡ رَّبِّنَا يَوۡمًا عَبُوۡسًا قَمۡطَرِيۡرًا‏۞

( سورۃ الدھر آیت 9، 10)

ترجمہ: (اور ان سے کہتے ہیں کہ) ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کھلا رہے ہیں۔ ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ کوئی شکریہ۔ ہمیں تو اپنے پروردگار کی طرف سے اس دن کا ڈر لگا ہوا ہے جس میں چہرے بری طرح بگڑے ہوئے ہوں گے۔

وہ خفیہ ہاتھ اس کا مطالعہ کریں گے، جو اس دنیا میں آج تو نامعلوم ہیں، لیکن آئندہ کل رب کائنات کی ہمیشگی والی جنت میں وہی سب سے بلند و بالا اور نمایاں ہوں گے، آج تخریبی آندھیوں کا طوفان شباب پر ہے، وہ ہمارے اسلام، عقیدہ اور دین و مذہب کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاہتا ہے، صلیبی، یہودی، باطنی، بدعتی اور سیکولرازم اور لادینیت کے مؤیدین جیسے دشمنانِ اسلام ہمارے حکام، قائدین اور بزرگوں کو علم و ادب اور سیاست کے میدان میں اپنا دست نگر بنا کر رکھنا چاہتے ہیں، ان سب کا مقصد ایک ہے وہ یہ کہ ہماری تاریخ کو مسخ کر دیں۔

اگر بحیثیت امت ہماری کوئی تابناک تاریخ نہ ہو تو ہم صالح امت کبھی نہیں کہلا سکتے، جس امت میں عبقری شخصیات نہ ہوں اس کی قیمت ہی کیا ہوسکتی ہے؟ کیا ہم اپنے شان دار ماضی کی تاریخ سے سبق نہیں سیکھ سکتے کہ جس سے اللہ کے دشمنوں کی رسوائی ہو، ان کی سازشیں ناکام ہو جائیں اور وہ تاریخ دوبارہ ہمیں اپنی دعوت عام کرنے اور تہذیب کو تقویت دینے میں مدد کرے؟ درحقیقت تاریخ کے اس سخت اور پریشان کن دور میں انسانیت اللہ کے بتائے ہوئے نظام سے ہٹ جانے کی وجہ سے تباہی کے منجدھار میں ہچکولے کھا رہی ہے، حالانکہ اس کا علاج صرف اور صرف مسلمانوں کے پاس ہے تو کیا مسلمان اس کے لیے قربانی دے سکتے ہیں؟ اور دوسروں کو ڈوبنے سے بچا سکتے ہیں؟

شاعر نے کہا ہے:

وَ مِنَ الْعَجَائِبِ وَ الْعَجَائِبُ جُمَّۃٌ قُرْبُ الْحَبِیْبِ وَ مَا إِلَیْہِ وَصُوْلُ

’’عجائبات بے شمار ہیں، انھیں میں سے ایک یہ ہے کہ محبوب کے پاس رہ کر بھی اس تک رسائی ممکن نہ ہو سکے۔‘‘

کَالْعِیْر فِی الْبَیْدَائِ یَقْتُلُہَا الظَّمَا وَ الْمَائُ فَوْقَ ظُہُوْرِہَا مَحْمُوْلُ

’’جیسے کہ صحراء میں اونٹ پیاس سے مر رہا ہو اور پانی اپنے پشت پر لادے ہوئے ہو۔‘‘

تو کیا اب اسلام کی طرف پلٹنا ممکن نہیں رہا کہ جو کدورتوں سے ہمارے دلوں کو پاک صاف کر دے، اخلاق حسنہ سے ہمیں مزین کر دے اور قرآن کریم سے ہمیں جوڑ دے اور مذہب اسلام نیز اس کے لانے والے پیغمبر محمدﷺ کی طرف انتساب کے شرف کا ہمیں احساس دلائے اور بتائے کہ آپﷺ کی دعوت اور خلفائے راشدینؓ یعنی ابوبکر، عمر، عثمان اور علی اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سنت پر عمل کرنا ہمارے لیے کس قدر ضروری ہے اور پھر ہم رسالت نبویﷺ کی تبلیغ و اشاعت اور اسے تقویت دینے میں باہم متحد ہو جائیں۔

اس کتاب کی تالیف میں جن مصادر و مراجع کی طرف میں نے رجوع کیا ہے، انھیں ذکر کرنے سے پہلے میں اس بات کا اعتراف ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر میرے اس عمل میں سب سے پہلے اللہ کی توفیق، پھر علمائے اہل سنت اور ان کے ہم مزاج و ہم خیال طلبہ کا تعاون شامل نہ ہوتا تو میں اس بحر ذخار میں غوطہ زنی نہیں کر سکتا تھا، لہٰذا میں برملا اقرار کرتا ہوں کہ اصل موضوع منہج عمل، روایات کی فنی حیثیت کا تعین اور جدید و تاریخی مصادر کے لیے میں نے مطبوع و غیر مطبوع علمی مقالوں سے بھرپور استفادہ کیا ہے، خاص طور سے میں ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری کو یہاں ذکر کرنا چاہتا ہوں، جنھوں نے ان مقالات میں سے اکثر کا مناقشہ کیا ہے، میں نے ان کی ’’السیرۃ النبویۃ الصحیحۃ‘‘ اور ’’عصر الخلافۃ الراشدۃ‘‘ جیسی اہم کتب سے بھی استفادہ کیا ہے۔

مثلاً جو چند اہم مقالات آپ کی نگرانی میں لکھے گئے ہیں ان میں سے ایک ڈاکٹر یحییٰ الیحییٰ کا مقالہ ہے، جو ’’الخلافۃ الراشدۃ والدولۃ الأمویۃ من فتح الباری جمعا و توثیقاً‘‘ کے نام سے ہے، اسی طرح ایک مقالہ استاذ عبدالعزیز المقبل کا ہے جو ’’خلافۃ أبي بکر الصدیق من خلال کتب السنۃ والتاریخ، دراسۃ نقدیۃ للروایات باستثناء حروب الردۃ‘‘ کے نام سے ہے، اور ’’محض الصواب فی فضائل امیر المومنین عمر بن الخطاب‘‘ تالیف یوسف بن حسن بن عبدالہادی الدمشقی، الصالحی، الحنبلی جس کی تحقیق و دراسہ کا کام عبدالعزیز بن محمد الفریح نے آپ ہی کی نگرانی میں کیا ہے، اسی طرح محمد بن عبداللہ الغبان کا مقالہ ’’فتنۃ مقتل عثمان بن عفان‘‘ کے نام سے اور استاد عبدالحمید علی ناصر کا مقالہ ’’خلافۃ علی بن ابی طالب‘‘ کے نام سے آپ ہی کی نگرانی میں مکمل ہوئے، ان تمام مقالات سے استفادہ کرنے کے ساتھ ہی میں نے ان گراں قدر و علمی مقالات سے بھی استفادہ کیا ہے، جو دیگر محققین اساتذہ کے زیرنگرانی منظر عام پر آئے ہیں، مثلاً ڈاکٹر محمد محزون کا مقالہ جو ’’تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ من روایات الطبری و المحدثین" کے نام سے ہے، اور سلیمان العودۃ کا مقالہ جو کہ ’’عبداللہ بن سبا و أثرہ فی احداث الفتنۃ فی صدر الاسلام‘‘ اور اسماء محمد احمد کا مقالہ جو ’’زیادۃ دور المراۃ السیاسی فی عہد النبی و الخلفاء الراشدین‘‘ کے نام سے ہے۔ ان کے علاوہ بھی متعدد سند یافتہ مقالات سے بھرپور استفادہ کیا ہے، بہرحال اللہ کے فضل خاص اور توفیق کا شکر گزار ہوں اور پھر اپنے مشفق اساتذہ اور بھائیوں کا جنھوں نے اس راستہ میں میرا ساتھ دیا، میں ان کے لیے اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ ان کی کوششوں کو شرف قبولیت سے نوازے اور اسے اس دن فائدہ مند ثابت کرے جس دن صاحب قلب سلیم کے علاوہ کسی کو اس کا مال یا اس کی اولاد کچھ بھی فائدہ پہنچانے والی نہیں ہے۔

عہد خلافت راشدہ کی مستند تاریخ لکھتے ہوئے میں نے جن مصادر پر خاص طور سے اعتماد کیا ہے ان کی تفصیل یہ ہے:

 کتب حدیث

صفحہ 9 از 12