مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 8 از 12

وَ السُّنَّۃَ الْبَیْضَائَ دُوْنَکَ جُنَّۃً وَ ارْکَبْ جَوَادَ الْعَزْمِ مِنَ الْجَوْلَانِ

’’اور روشن سنت کو اپنے لئے ڈھال بناؤ اور میدان کارزار میں عزم کا شہ سوار بن جاؤ۔‘‘

وَ اثْبُتْ بِصَبْرِکَ تَحْتَ أَلْوِیَۃِ الْہُدیَ فَالصَّبْرُ أَوْثَقُ عُدَّۃِ الْإِنْسَانِ

’’اور ہدایت کے جھنڈوں تلے صبر و ضبط کے ساتھ جم جاؤ، کیوں کہ صبر ہی انسان کا سب سے مضبوط سامان سفر ہے۔‘‘

وَاطْعَنْ بِرُمْحِ الْحَقِّ کُلَّ مُعَانِدٍ لِلّٰہِ دَرُّ الْفَارِسِ الطَّعَّانِ

’’حق کے نیزے سے ہر دشمن کو زخمی کرو، نیزہ بار شہسوار کے لیے کیا ہی بہترین کامیابی ہے۔‘‘

وَاحْمِلْ بِسَیْفِ الصِّدْقِ حَمْلَۃَ مُخْلِصٍ مُتَجِّرِدًا لِلّٰہِ غَیْرَ جَبَانِ

’’صداقت کی تلوار سے زبردست حملہ کرو، جیسے کہ ایک مخلص اور محض رضائے الہٰی کا طالب بہادر مجاہد حملہ کرتا ہے۔‘‘

اسی طرح علمائے اہل سنت، ان میں سے دانش ور، اور اہلِ حل و عقد حضرات جو سماجی کارکن ہوتے ہیں، بھلائی کی طرف مسلمانوں کی قیادت کرنے میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے، دراصل یہی لوگ شریعت کے مقرر کردہ مصالح و مفاسد کی روشنی میں اندرونی و بیرونی سیاسی نظریات اور قوموں و جماعتوں کے معاہدوں کا احترام کرنے والے ہیں، قیادت و اصلاح کی یہ ذمہ داری علماء اور مبلغینِ اسلام کے لیے اس بات سے مانع نہیں ہے کہ وہ مسلم عوام کو اہل سنت و الجماعت کے طریقہ کار اور اصولوں سے واقف کرائیں، انھیں اس بات کی دعوت دیں اور مسلم سماج میں دراندازی کرنے والے فاسد عقائد سے انھیں خبردار کریں، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جن باطل افکار و عقائد کی تبلیغ و اشاعت میں شرپسند اور دشمنانِ اسلام پوری جہد و جد کے ساتھ شب و روز لگے ہوئے ہیں ان سے مسلم عوام متاثر ہو جائے، اس موضوع سے متعلق ہمیں سیرت رسولﷺ کا مطالعہ کرنا چاہئے کہ مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد ایک طرف آپ نے وہاں کے یہودیوں سے معاہدہ کیا کہ جس سے اسلامی حکومت کے زیر سایہ انھیں امان و حفاظت ملی اور دوسری طرف اسی وقت میں قرآن کریم انھیں یہودیوں کے عقائد، سیاہ تاریخ اور برے اخلاق کو بیان کرتا رہا، تاکہ مسلم سماج یہودیت سے خبردار رہے اور اس کے دھوکہ میں نہ آئے، یہی وجہ تھی کہ جب یہودیوں نے غداری کیا تو اس گروہ کے خلاف اسلامی صف بندی متحد نظر آئی۔

اسلامی تاریخ کے مدوجزر کا مطالعہ کرنے والا بالخصوص نور الدینؒ اور صلاح الدینؒ کے دور کی صلیبی لڑائیوں، سلطان محمد فاتحؒ کے عہدِ حکومت میں عثمانیوں نیز یوسف بن تاشفین کے عہد میں مرابطین کے ادوار پر جس کی نظر ہے وہ محسوس کرے گا کہ ان کی ترقی اور فتح و نصرت کے کئی اسباب تھے، مثلاً صاف ستھرا عقیدہ، واضح فکر و طریقۂ عمل، حدود سلطنت میں شریعتِ الہٰی کی بالادستی اور ایسی ربانی قیادت تھی جو نورِ الہٰی سے دیکھتی تھی، قوموں کی تربیت اور حکومتوں کے قیام و انہدام میں نظامِ الہٰی کے نفاذ میں اس کی گرفت قوی تھی، معاشرہ کی بیماریوں، قوموں کے عادات و اطوار، تاریخ کے اسرار و رموز، صلیبوں، یہودیوں، ملحدوں، باطنی فرقوں اور بدعتیوں جیسے دشمنانِ اسلام کی ریشہ دوانیوں پر گہری نگاہ اور بلند معرفت تھی، ہر کس و ناکس کے ساتھ بہتر برتاؤ تھا اور اسے اس کا فطری حق ملتا تھا۔چنانچہ ترقی و غلبہ کے مسائل اور دور رس اثرات کے متحمل ترقی کے منصوبوں کے اسباب و عوامل، باہم اس طرح مربوط و متداخل ہیں کہ ان کا احاطہ مکمل طور سے وہی آدمی کر سکتا ہے جس نے قرآن مجید اور سنتِ رسولﷺ کو اچھی طرح سمجھا ہو، خلافتِ راشدہ کی فقہ و بصیرت سے مربوط ہو، ربط بھی ایسا کہ اس کے نقوش و خصائص اور اسباب بقاء و زوال سے آگاہ ہو، اسلامی تاریخ اور ترقی و نصرت کے اسباب و تجربات سے استفادہ کیا ہو، اور اسے یقین ہو کہ اس امت نے جب تک اپنے رب کے فرمان اور نبی کی سنت کی تابعداری کی ہے کبھی ہزیمت نہیں اٹھائی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میدان جنگ کی ہزیمت تو وقتی ہوتی ہیں، جنھیں بھلایا جا سکتا ہے، لیکن تہذیب و ثقافت کی ہزیمتیں جان لیوا زخم ثابت ہوتی ہیں، صحیح اور روشن ثقافت کتاب اللہ، سنتِ رسولﷺ اور طریقۂ خلفائے راشدینؓ سے مستفید اپنے مضبوط اصولوں پر مسلم فرد، سماج، خاندان اور مسلم ممالک کی تعمیر کرتی ہے اور سب سے صحیح و بے نظیر تہذیبی و تمدنی عمارت وہی ہے جس نے اللہ کی توفیق و حفاظت سے آج تک اسلام کے قلعہ کو محفوظ رکھا۔

لہٰذا ہم پر واجب ہے کہ اس دین کی ترقی کے لیے کام کریں، ہماری خوش بختی یہ نہیں ہے کہ اس کا پھل ہم جلد ہی توڑ لیں، بلکہ اصل خوش بختی یہ ہے کہ ہمیں اللہ کی توفیق کا شعور اور اس کی رضا مندی کی امید ہو۔ خلافتِ راشدہ کی تاریخ مرتب کرتے ہوئے میں نے پوری کوشش کی ہے کہ صحیح روایات کی روشنی میں اس دور کے کارناموں کو نکھارنے کے لیے مناسب الفاظ اور بہترین جملے استعمال کروں، تاکہ مسلمانوں کی نئی نسلیں اس تابناک دور سے بہت کچھ سیکھ سکیں، انھیں فقہی بصیرت اور اسلام کی شمولیت کا علم ہو، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کاوش میں برکت عطا فرمائے گا، اور ایسے بہت سے مبلغین اسلام کو اس سے فائدہ پہنچائے گا جن کا نام میں تو نہیں جان سکتا البتہ تاریخ اپنے صفحات میں انھیں ضرور جگہ دے گی، وہ عالمِ اسلام کی غلطیوں و لغزشوں کی تلافی کریں گے اور اسے بھٹکنے سے بچائیں گے، یہ مبلغین اسلام ربانی ہوں گے، خلوص و للہیت کے پیکر ہوں گے، انھوں نے حق کو سمجھا ہو گا، اس کی مدد میں انھیں سعادت نظر آئے گی، اس کے لیے سخت ہوں گے، اس کی طرف سے دفاع کریں گے، تنگ دامانی اور بے بسی کے باوجود اسی کی طرف داری کریں گے، یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے صدق و اخلاص و اتباعِ نبوی کی وجہ سے اللہ نے ان کے ہاتھوں کو قوت عطا کی ہو گی۔

اور ان علماء و طالبانِ علوم شریعت کو اس سے فائدہ پہنچے گا جن کے قلم میں شہیدوں کے خون کی روشنائی بھری ہے، ایسے تاجران سے مستفید ہوں گے جو اپنی جان و مال کے ساتھ اسلامی دعوت کے قافلہ کو آگے بڑھانے کے اصل محرک ہیں، اور زبان سے گویا ہیں:

صفحہ 8 از 12