مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 7 از 12

(أبو داؤد: 4607، الترمذی: 2678، ابن ماجہ: 42، الدارمی: 296، أحمد: جلد 4 صفحہ 126، 127، الحاکم: جلد 1 صفحہ 196، الصحیحۃ للالبانی:937)

’’دین میں نئی چیزیں نکالنے سے بچو، اس لیے کہ دین میں ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘

نیز فرمان نبویﷺ ہے:

فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ

(متفق علیہ: صحیح البخاری: 5063 و مسلم: 1401)

’’جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔‘‘

درحقیقت ان فرامینِ نبوی پر وہی لوگ کاربند ہیں، جو ان کے افکار و عقائد منہج نبوی اور طریقہ نبوت سے دور رہنے والے نفس پرستوں اور بدعت کے شیدائیوں سے بالکل جدا ہیں۔ اہلِ سنت کے عقیدہ و فکر کا آغاز اس وقت سے ہوا جب سے محمدﷺ منصب نبوت پر سرفراز ہوئے، جب کہ نفس پرستوں اور بدعتیوں کے عقائد و افکار کا ظہور آپﷺ کا زمانہ گزر جانے کے بعد عہدِ صحابہؓ کے بالکل اخیر میں بلکہ اس کے بعد کے ادوار میں ہوا، آپﷺ نے اپنی زندگی ہی میں فرمایا تھا کہ ((مَنْ یَعِشْ مِنْکُمْ بَعْدِیْ فَسَیٰری اِخْتِلَافًا کَثِیْرًا))

(ابو داؤد: 4607، الترمذی: 2678، ابن ماجہ:427، الدارمی: 296، أحمد: جلد 4 صفحہ 126، 127) الحاکم: جلد 1 صفحہ 196، الصحیحۃ للالبانی: 927) ’’تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ عنقریب بہت اختلافات دیکھے گا‘‘پھر آپﷺ نے رہنمائی کی کہ صراط مستقیم یعنی میری سنت اور خلفائے راشدینؓ کے منہج پر چلتے رہنا، آپ نے بدعات سے ڈرایا اور بتایا کہ وہ گمراہیاں ہیں۔ یہ بات نہایت نامعقول اور ناقابلِ قبول ہے کہ طریقہ حق اور منہج صحابہؓ پر پردہ ڈال دیا جائے اور ان کے بعد آنے والے انسانوں کو اپنا پیشوا اور ان کے منہج کو قابلِ عمل بنا لیا جائے، تمام ہی بدعات برائیوں کا پلندہ ہیں، اگر ان میں کسی طرح کی کوئی بھلائی ہوتی تو صحابہ کرامؓ انھیں ضرور بالضرور کر گزرتے، لیکن افسوس ہے کہ ان کے بعد آنے والی نسلیں آزمائش میں مبتلا ہوئیں اور منہج صحابہؓ سے کٹ گئیں۔ سچ کہا ہے امام مالک رحمۃاللہ علیہ نے کہ اس امت کے آخری لوگ اس وقت تک ہرگز درست نہیں ہو سکتے، جب تک کہ اس چیز کو نہ اپنا لیں جس سے ان کا اگلا گروہ درست ہوا تھا۔ چنانچہ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اہل سنت و جماعت خود کو حدیث نبویﷺ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور دوسرے لوگ اپنے کو خود ساختہ جماعتوں یا مخصوص جگہوں اور افراد کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

شیعہ سنی مفاہمت کا بنیادی منہج یہ ہے کہ حق کو بیان کیا جائے اور باطل کی نقاب کشائی کی جائے، اہل بیت و اہل سنت کے متقدمین و سرخیل علماء و فقہاء مثلاً حضرت علی رضی اللہ عنہ، آپ کی اولاد و احفاد کے حوالہ سے شیعہ و روافض کو کتاب اللہ، سنت رسولﷺ اور اسلام کی صحیح تعبیر کے قریب لایا جائے، صحیح شیعی اصلاحی تحریکات کی قدر کرتے ہوئے اس کا ساتھ دیا جائے جیسا کہ سید حسین موسوی رحمۃاللہ نے اپنی کتاب ’’للہ ثم للتاریخ، کشف الأسرار و تبرئۃالأئمۃ الأطہار‘‘ میں شیعوں کے ساتھ سچی خیرخواہی کا حق ادا کیا ہے اور اسی طرح سید احمد الکاتب نے اپنی کتاب ’’تطور الفکر السیاسی الشیعی من الشوری إلی ولادیۃ الفقیہ‘‘ میں پیش کیا ہے۔ اسی طرح ہم پر واجب ہے کہ اہلِ بیت کا جو شخص سچا محب و مخلص نظر آئے، یعنی کتاب و سنت کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرنے میں ان کے صحیح آثار اور عمدہ سیرتوں کا پابند ہو اس سے ہم بہتر تعلقات رکھیں، اس کے ساتھ احترام و توقیر کا برتاؤ کریں، اسے سہارا دے کر امان و حفاظت کے ساتھ ساحل تک پہنچائیں، اس سے کہیں کہ عقل کو کام میں لاؤ، اسے بندشوں سے آزاد کرو، فطرت کی آواز اور دعوت پر اباطیل کے جو بھاری انبار لگ چکے ہیں انھیں صاف کرو، تاکہ روشن حقیقت تک رسائی کے لیے اس میدان میں روشن عقلیں اور فطرت سلیمہ اپنا اپنا کام کریں۔

علمائے اہل سنت پر یہ بھی ضروری ہے کہ بدعتیوں کی بدعات پر رد و قدح کرنے میں خوشگوار علمی بحث و تحقیق کا اسلوب اپنائیں، ان سے قدرے نرم پہلو اختیار کریں، ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ گاہے بگاہے ان کی زیارت کر لیا کریں اور جن مسائل میں کوئی اختلاف نہیں ہے ان میں تعاون بھی کریں، ناگہانی حوادث اور مشکلات و مصائب کے ایام میں، خاص طور سے جب وہ کفار و ظالموں سے برسرپیکار ہوں، ان کی مدد فرمائیں، لیکن واضح رہے کہ تعاون و مصالحت کا یہ مؤقف مصالح و مفاسد کا صحیح معیار رکھنے والی شرعی سیاست اور اس کے مزاج سے ہم آہنگ ہو، البتہ باہمی تعاون بہتر تعلقات، اور سنجیدہ گفتگو کا یہ رشتہ ہمیشہ ایک حالت پر باقی رہنے والا نہیں ہے، کیوں کہ ممکن ہے کسی چور دروازہ سے کوئی رافضی بھی اس رشتہ سے خود کو جوڑ لے اور آگے چل کر وہ فتنہ اور ہنگامہ آرائی کا سبب بنے، لہٰذا اس پر خاموشی اچھی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ اس کی گرفت کی جائے اور ان کے غلو اور شاذ خیالات کی ہر حال میں تردید کی جائے۔

متعصبین اور غیر متعصبین کے درمیان جو چیز حد فاصل ہوگی وہ یہ کہ گفتگو کی بنیاد، دلائل اور طرزِ گفتگو میں دیکھا جائے کہ ان شرعی نصوص پر اسے کہاں تک اعتماد ہے، جن سے کسی شک و شبہ میں پڑنے کا اندیشہ ہے، یا ان کی تاویلات کو وہ کس نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے، رہا وہ شخص جو نامعلوم اور متاخرین کی طرف منسوب کی ہوئی انوکھی باتوں کو ڈھونڈ کر لاتا ہے، جن کی حقیقت کا کوئی پتہ نہیں، تو ہمیں پہلی فرصت میں اس کی تردید کرنا چاہئے، بلکہ بسااوقات اس کی تردید میں سختی کرنا واجب ہو جاتی ہے، شاعر کہتا ہے:

وَ احْذَرَ مُجَادَلَۃِ الرِّجَالِ فَاِنَّہَا تَدْعُوْ إِلَی الشَّحْنَائِ وَ الشَّنَانِ

’’لوگوں سے بحث و جدال سے بچو، کیوں کہ وہ آپسی کدورتوں اور خون ریزیوں کو دعوت دیتی ہے۔‘‘

وَإذَا اضْطَرَرْتَ إِلَی الْجِدَالِ وَ لَمْ تَجِدْ لَکَ مَہْرَبًا وَ تَلَاقَتِ الصَّفَّانِ

’’اور جب تمھیں بحث و جدال کرنے پر مجبور ہی ہونا پڑے اور کوئی جائے فرار نہ ہو اور فریقین میں جنگ چھڑ جائے۔‘‘

فَاجْعَلْ کِتَابَ اللِّہِ دِرْعَا سَابِغًا وَ الشَّرْعَ سَیْفَکَ وَ ابْدُ فِی الْمَیْدَانِ

’’تو اللہ کی کتاب کو اپنی طویل زرہ اور شریعت کو اپنی تلوار بنا لو اور میدان میں اتر جاؤ۔‘‘

صفحہ 7 از 12