مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 6 از 12

اسی طرح روافض کے بارے میں بھی گفتگو کی گئی ہے، چنانچہ شیعہ اور روافض کا لغوی اور اصطلاحی معنیٰ تحریر کیا ہے، انھیں روافض کیوں کہا جاتا ہے؟ ان کا وجود کب ہوا؟ ان کی گروہ بندی میں یہودیوں کا کیا کردار رہا؟ یہ فرقہ کن مراحل سے گزرا؟ اس کے عقائد کیا ہیں؟ اور ان عقائد کے بارے میں امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور علمائے اہلِ بیت کا کیا مؤقف ہے؟ مثلاً یہ کہ امامت کے بارے میں ان کا کیا عقیدہ ہے اور اس کے منکر کا ان کے نزدیک کیا حکم ہے؟ پھر یہ کہ ائمہ معصوم ہیں وغیرہ وغیرہ، ان تمام باتوں کو میں نے اہمیت دی ہے۔ ائمہ کی عصمت کے دلائل کو ذکر کر کے انھیں بحث و تحقیق کی کسوٹی پر پرکھا ہے۔ تطہیر، مباہلہ اور ولایت سے متعلق نازل شدہ آیات سے ان کے قرآنی استدلال اور حدیث میں وارد خطبہ غدیر خم اور (( أَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی))جیسی روایات سے ان کے مزمومہ استدلال سے بھی پردہ اٹھایا ہے، چڑیا، اور گھر والی حدیث، نیز یہ کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کے دروازہ ہیں، یہ اور اس طرح کی تمام ضعیف و موضوع روایات، جنھیں ان لوگوں نے امامت کی ثبوت میں بطور دلیل پیش کیا ہے، ان کی اسنادی حیثیت الگ الگ کر دی ہے۔ 

اسی طرح اس کتاب میں ان ضعیف و موضوع احادیث کی ایک فہرست بھی شامل کر دی گئی ہے، جنھیں عموماً روافض معرض استدلال میں پیش کیا کرتے ہیں۔ اس کا مقصد مسلمانوں کو خبردار کرنا ہے کہ وہ ان کے جال میں نہ پھنسیں۔ روافض کے نزدیک توحید کسے کہتے ہیں؟ اللہ کی وحدانیت کو ثابت کرنے والے نصوص شرعیہ کو انھوں نے کس طرح تحریف کر کے اپنے ائمہ کی ولایت کے حق میں ثابت کیا ہے، نیز یہ کہ امامت کا عقیدہ رکھنا، قبولیتِ اعمال کے لیے شرط ہے، ائمہ معصومین اللہ اور اس کی مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں، ان کے بغیر کوئی ہدایت یاب نہیں ہو سکتا، ان کے نام کا واسطہ دیے بغیر دعا کی قبولیت نہیں ہوتی اور یہ کہ روافض کی زیارت گاہوں اور مزاروں کی زیارت کرنا، حج بیت اللہ سے افضل ہے۔ اس طرح کی تمام باتوں کی حقیقت کو میں نے واضح کر دیا ہے۔ مذکورہ عقائد کی طرح ان کا عقیدہ یہ بھی ہے کہ امام اپنی مرضی سے جو چاہے حلال کرے اور جو چاہے حرام کرے، دنیا و آخرت پر پورا قبضہ امام کا ہے، وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کرے، کائنات میں جو کچھ بھی حادثات رونما ہوتے ہیں، وہ سب ائمہ کے حکم سے ہوتے ہیں، انھیں ماضی، مستقبل دونوں کا علم ہے، ان سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے، علاوہ ازیں صفات الٰہیہ کے اثبات میں روافض کے یہاں مبالغہ آمیزی اور تعطیل صفات کی حقیقت، قرآن کے مخلوق ہونے کا عقیدہ، آخرت میں دیدار الہٰی کا مسئلہ، ائمہ روافض کا انبیاء و رسل سے افضل ہونا، ن مسائل کو بھی مختصراً قلم بند کیا ہے۔ قرآن کریم کے بارے میں رافضی مؤقف یعنی بعض علماء روافض کا یہ کہنا ہے کہ قرآن تحریف کردہ کتاب ہے، پھر ان کی تردید، اسی طرح صحابہ کرامؓ اور سنتِ نبویہ کے بارے میں رافضی مؤقف، ان کے یہاں تقیہ کا مفہوم، مہدی منتظر کی آمد کے بارے میں ان کا عقیدہ اور ’’عقیدۂ بدا‘‘ یعنی اللہ کے لیے علم جدید کا ظہور، ان موضوعات پر مدلل روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان باطل عقائد کے بارے میں امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، پاک باز اہل بیت کے علماء اور اہل سنت و جماعت کا کیا مؤقف ہے اور یہ عقائد کس قدر تعلیمات الہٰی سے دور ہیں، ان عقائد پر بحث و مباحثہ اور رد و قدح کرتے ہوئے میں نے علمی واخلاقی آداب کی مکمل رعایت کی ہے، انھیں سب و شتم کرنے سے دور رہا ہوں اور ان سے مناظرہ خود ان کے اصولوں اور معتمد کتب کی روشنی میں کیا ہوں۔

میں نے پوری کوشش کی ہے کہ اہلِ بیت سے شیعہ حضرات کی محبت اور امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی عقیدت و اقتداء کا دعویٰ، لوگوں کے عقائد کو بگاڑنے اور انھیں قرآن و سنت سے دور رکھنے کی غرض سے اہلِ بیت کا لبادہ اوڑھ کر دوسروں کو بھڑکانے کی حقیقت کو واضح کروں۔ میری دلی تمنا ہے کہ اہل سنت کی اتنی بھاری اکثریت کو ان روافض شیعہ کی حقیقت سے آگاہ کروں، کیوں کہ ان کا مستقل وجود ہے اور افریقہ، ایشیا، یورپ و امریکہ کے باشندوں میں ان کے اثرات کو دیکھا جا سکتا ہے۔ رافضیت کے مبلغین اپنی باطل دعوت کی نشر و اشاعت میں کافی متحرک ہیں، وہ اس راہ میں ہر قسم کی قربانیاں دینے کو تیار ہیں، اسلام کا صفایا، اس کے چہرہ کو مسخ کرنے اور اسے جڑ سے کاٹ دینے کے لیے دشمنانِ اسلام سے ساز باز کرتے ہیں، حالانکہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، جب کہ اہلِ سنت کا عالم یہ ہے کہ چند ایک کو چھوڑ کر ان کی اکثریت سستی کا شکار اور انتہائی غفلت میں محو ہے، حیرت ہے کہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ شیعہ سنی جنگ پر ایک زمانہ گزر چکا ہے، اب اسے اذکار رفتہ میں ڈال دیں، حالانکہ یہ بات حقیقت سے کوسوں دور ہے، بلکہ بڑی جہالت و لاعلمی کی دلیل ہے۔ شیعہ سنی مفاہمت اور اسلامی اتحاد کے نام پر اس کی ہر پرت میں مسلم عوام کے لیے دھوکا ہی دھوکا ہے۔

شیعہ سنی مفاہمت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ علمائے اہل سنت کتاب و سنت پر مبنی اپنے صحیح عقیدہ کی تبلیغ اور اس کی نشر و اشاعت میں دل و جان سے لگ جائیں، اس کی درستگی و خصوصیات اور اہلِ بدعت کے عقائد سے اس کی الگ پہچان نمایاں کریں، اس لیے کہ اہل سنت و الجماعت ہی سنت نبویﷺ اور منہج صحابہؓ کے پیروکار ہیں۔ فرمان نبویﷺ ہے:

فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ مِنْ بَعْدِیْ ، تَمَسَّکُوْا بِہَا وَعَضُّوْا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ

(أبو داؤد:4607، الترمذی: 2678، ابن ماجہ:42، الدارمی: 296، أحمد: جلد 4 صفحہ 126، 127، الحاکم: جلد 1 صفحہ 96، الصحیحۃ للألبانی: 937)

’’میری سنت اور میرے بعد ہدایات یافتہ خلفاء راشدینؓ کی سنت کو اپنے لئے لازم کر لو، انھیں مضبوطی سے تھام لو اور ڈاڑھوں سے مضبوطی سے پکڑ لو۔‘‘

اور سنت کی مخالفت سے ممانعت پر فرمان نبویﷺ ہے:

وَاِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْاُمُورِ فَإِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٍ وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ۔

صفحہ 6 از 12