مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 12

اسی طرح میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی عدم بیعت، دونوں کے درمیان خط و کتابت، صلح کی کوششوں، لڑائی کے وقوع، کسی تیسرے کو فیصل مان لینے کی دعوت، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت، مسلمانوں پر اس کے اثرات، لڑائی کے دوران آمنے سامنے ہو جانے کے بعد فریقین کا ایک دوسرے کے ساتھ بہتر برتاؤ، قیدیوں کے ساتھ رعایات، مقتولین کی تعداد، ان کے قتل پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا رنجیدہ ہونا اور رحمت کی دعا کرنا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور شام والوں پر سب و شتم اور لعن و طعن کرنے والوں کو ڈانٹنا، پھر واقعہ تحکیم پر گفتگو کرتے ہوئے ابوموسیٰ اشعری اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی سوانح حیات پر روشنی ڈالی ہے اور واقعہ تحکیم میں مذکورہ دونوں صحابہ کی طرف منسوب جھوٹے واقعات اور من گھڑت روایات کو واضح کیا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ واقعہ تحکیم کو سامنے رکھ کر مسلم ممالک کو کس طرح اپنے اختلافات کو دور کرنا چاہئے، ان لڑائیوں کے بارے میں اہل سنت کے مؤقف کو واضح کرنے پر خصوصی توجہ دی ہے، صحابہ کی تابناک و پاکیزہ تاریخ کو ظلم و سرکشی کے دھبوں سے داغ دار کرنے والی چند اہم کتب کا تذکرہ کرتے ہوئے ان سے خبردار رہنے کی تلقین کی ہے، مثلاً ’’کتاب الامامۃ والسیاسۃ‘‘ کہ جس کی جھوٹی نسبت ابن قتیبہ کی طرف کی جاتی ہے، اسی طرح اصفہانی کی کتاب ’’الاغانی، ’’تاریخ الیعقوبی‘‘ اور ’’تاریخ المسعودی‘‘ جیسی دیگر کتب جو کہ اہل سنت و الجماعت کے منہج و عقیدہ سے دور ہیں۔

اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے اسلامی تاریخ میں مستشرقین کی تحریف، افتراء پردازی اور اصلی شکل کو بگاڑنے میں ان کی ناروا کوششوں کو بھی میں نے واضح کیا ہے اور بتایا ہے کہ روافض شیعہ کی کتب سے انھوں نے کس طرح استفادہ کیا اور افکار کو پراگندہ کرنے، واقعات کو تحریف کرنے، حقائق کو مسخ کرنے، اسلامی تاریخ میں سیاہ دھبوں کو پھیلانے کے لیے چمک دار و جاذب نظر عناوین مثلاً "خالص معروضی مطالعہ، ایک موضوعی مطالعہ"  اور ’’غیرجانبدارانہ علمی تحقیق‘‘ وغیرہ کے نام سے اسلام مخالف مراکز اور ادارے کھولے اور بدقسمتی سے بہت سے لوگ جو کہنے کو تو مسلمان ہیں، لیکن اسلام کو اچھی طرح جانتے بھی نہیں اور نہ ہی اس کی وضاحت کر سکتے ہیں اور نہ اس پر عمل کرتے ہیں اور نہ اس کی طرف سے دفاع کرتے ہیں، ایسے بہت سارے مسلمان انھیں پراگندہ و برباد کن خیالات کو گلے لگاتے ہیں، اتنا ہی نہیں بلکہ وہ دشمنانِ اسلام جو دین اسلام کی برکتوں سے امتِ مسلمہ کو ملی ہوئی روشن تاریخ و تہذیب کو مسخ کرنے پر تلے ہیں اور ان کے جال میں وہ لوگ بری طرح پھنستے جا رہے ہیں۔

کتاب کی آخری فصل میں خوارج اور روافض کے بارے میں علمی و موضوعی تحقیق پیش کی گئی ہے، جس میں فرقہ خوارج کی حقیقت، ان کی تاریخی حیثیت، ان کی مذمت میں وارد شدہ احادیث نبویہ، حروراء میں ان کی علیحدگی، ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا ان سے مناظرہ، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا ان سے برتاؤ، ان سے لڑائی کے اسباب، پھر لڑائی کی تفصیل، ذی الثدیۃ یا مخدج کا واقعہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر پر اس کے قتل کیے جانے کا اثر، جمل، صفین اور خوارج کی لڑائیوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فقہی اجتہادات نیز یہ کہ بعد کے ادوار میں فقہاء نے ان اجتہادات پر کس طرح اعتماد کیا، اور انھیں ’’باغیوں سے متعلق فقہی احکام‘‘ کے نام سے اپنی کتب میں تحریر کیا ہے، ان تمام چیزوں کو میں نے تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ خوارج کی دین میں مبالغہ آمیزی، دین سے جہالت، مسلمانوں کے امراء و حکام سے بغاوت، گناہ کبیرہ کے مرتکبین کی تکفیر اور مسلمانوں کے خون و مال کو حلال کر لینا، انھیں طعن و تشنیع کرنا، ان سے بدظنی رکھنا اور ان پر ظلم کرنا وغیرہ اوصاف ذمیمہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ معاً خوارج کے بعض عقائد مثلاً گناہ کبیرہ کے مرتکب مسلمانوں کی تکفیر، بعض صحابہؓ پر لعن و طعن اور حضرت عثمان و علی رضی اللہ عنہما کی تکفیر پر رد و قدح بھی کیا ہے۔ خوارج کے انحراف کے اسباب اور دور حاضر میں ان کے رجحانات و نظریات پر بحث کی ہے۔ علماء سے اعراض کی وجہ شرعی علوم سے جہالت و ناواقفیت، تقلید کی مذمت میں مبالغہ آرائی، علمائے کرام کا اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتنا، ظلم کا عام ہونا، شرعی قوانین کی جگہ وضعی قوانین کا نفاذ، فساد کا عام ہونا اور دلوں کا تزکیہ و تطہیر سے خالی ہونا نیز دین میں پختگی لانے کے لیے جسم کو اذیتیں دینے، دوسروں پر تنگی کرنے، جہل کو علم کا لبادہ پہنانے، غرور اور اپنی رائے دوسروں کو تھوپنے اور دوسروں کو جاہل گرداننے، پابند شرع علماء کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے، ان کے بارے میں بدگمانی کرنے، دوسروں کے ساتھ بے رحمی کا مظاہرہ اور مسلمانوں کی تکفیر جیسے اہم مظاہر جو کہ خوارج کی غلو پرستی کی علامتیں ہیں ان کی طرف بھی میں نے اشارہ کر دیا ہے۔

صفحہ 5 از 12