مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 11 از 12

اسی طرح مناسب مقامات پر محسوس کرتے ہوئے روافض، مستشرقین اور دورِ حاضر کے بعض قلم کاروں کے شبہات و اعتراضات کا جواب بھی دیا ہے، میری پوری کوشش رہی ہے کہ دورِ خلافت راشدہ کی تاریخ لکھنے اور اس پر اچھالے گئے کیچڑ کو صاف کرنے، خاص طور سے عہدِ عثمان غنی و عہدِ علی رضی اللہ عنہما سے متعلق پیدا کیے گئے اشکالات اور اعتراضات کو زائل کرنے میں اہل سنت کے منہج پر گامزن رہوں۔ اس تاریخ کو مرتب کرتے ہوئے میرے بہت سارے دوستوں اور بھائیوں کی طرف سے نئی نئی معلومات حاصل ہوتی رہیں، اللہ نے اگر چاہا تو میں اپنے عزم کے مطابق اس سفر کو آگے تک لے جاؤں گا اور اس کی ترقی و کارگزاریوں کو ایسے انداز میں بیان کروں گا جو اس روشن دور کے موافق ہو، میں اللہ سے مدد و توفیق کا طالب ہوں۔

مقدمہ کے آخر میں یہ ذکر کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ میں نے خلفائے راشدینؓ میں پانچویں خلیفہ حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کی زندگی کو مستقل کتاب کی شکل میں موضوع بحث بنایا ہے کیوں کہ شرعی سیاست اور مصالح و مفاسد کی فقہ و بصیرت میں آپ کی مستقل اجتہادی حیثیت ہے اور تعمیری و اصلاحی نظریہ کا مالک ہونے کی وجہ سے ہی وہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں اپنی خلافت سے دست بردار ہوئے تھے، اس نظریہ کی تنفیذ میں انھیں مختلف مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، سیدنا حسنؓ کی منفرد شخصیت جو کہ اصلاحی و تعمیری فکر و نظر سے مالا مال تھی اور اسے نافذ کرنے کا عزم مصمم رکھتی تھی، وہی امت کو اتحاد کی لڑی میں پرونے اور اس بشارت نبوی کے اثبات کا سبب بنی:

اِبْنِيْ ہَذَا سَیِّدٌ وَ لَعَلَّ اللّٰہَ أَنْ یُصْلِحَ بِہٖ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3746)

’’میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی بدولت مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔‘‘

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی طرف سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دست برداری اور ان کے ہاتھ پر بیعت کے بعد خلافت علی منہاج النبوۃ کی تیس سالہ مدت ختم ہو جاتی ہے، جس کے بارے میں رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا:

خِلَافَۃُ النُّبُوۃِ ثَلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُوْتِي اللّٰہُ الْمُلْکَ أَوْ مُلْکَہُ مَنْ یَّشَائُ

(صحیح سنن ابی داؤد: جلد 3 صفحہ 879 ألبانی: صفحہ 4646)

اور آپﷺ نے فرمایا:

اَلْخِلَافَۃ فِیْ اُمّتِیْ ثَلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ مُلْکٌ بَعْدَ ذٰلِکَ

(سنن الترمذی مع تحفۃ الاحوذی: جلد 6 صفحہ 395-397 امام ترمذیؒ نے کہا: یہ حدیث حسن ہے: 2226)

حافظ ابن کثیرؒ نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی خلافت کے ساتھ تیس (30) سال کی مدت پوری ہو جاتی ہے۔ بایں طور کہ ربیع الاول 41ھ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ خلافت سے دست بردار ہوئے اور ربیع الاوّل 11ھ میں نبیﷺ کی وفات ہوئی، اسی طرح درمیانی مدت تیس (30) سال کی ہوتی ہے اور اعجازِ نبوت کے دلائل میں سے ایک دلیل ثابت ہوتی ہے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 16)

بہرحال مذکورہ ترتیب کے ساتھ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما خلفائے راشدینؓ میں پانچویں خلیفہ ہیں۔ اگر اللہ کی توفیق شامل حال رہی، تو ان کی سیرت پر لکھی گئی کتاب کے ساتھ عہد خلافت راشدہ کے اہم نقوش، خصوصیات، اسباب زوال، نظامِ حکومت، اس کی رعایا و حکام کی صفات، دستور اساسی، بحرانی احوال سے نمٹنے، ترقی و غلبہ کے قوانین اور فطری نظام، عورت کے مقام و مرتبہ، سرکاری محکموں اور اس دور کی پاک صاف جماعت سے متعلق اہم خلاصہ تحریر کروں گا۔

میں نے اپنی طاقت بھر کوشش کی ہے کہ امیر المؤمنین علی بن ابی طالبؓ کی شخصیت پر مختلف گوشوں سے روشنی ڈالوں، کیوں کہ آپؓ کی زندگی امت مسلمہ کی تاریخ کا ایک درخشندہ باب ہے اور آپؓ ان بزرگ ائمہ میں سے ایک ہیں، جنھیں دیکھ کر لوگ اس دنیا میں ان کے اقوال اور افعال و کردار کی پیروی کرتے ہیں، سیدنا علیؓ کی سیرت ایمان کے قوی ترین مصادر، صحیح اسلامی رجحان اور دین اسلام کے لیے فہم سلیم کا ایک اہم ذریعہ ہے، اس سے ہم سیکھ سکتے ہیں کہ سنت الہٰی کے ساتھ آپ کیسے پیش آئے اور ان کی کیسی بہترین توجیہ کی اور ہم قرآن کریم کے ساتھ کیسے زندگی گزاریں، اس کے بتائے ہوئے راستہ پر کیسے چلیں اور نبیﷺ کی اقتداء کیسے کریں، اس سیرت کے مطالعہ سے ہمارے سامنے خوفِ الہٰی اور خلوص و للہیت کی اہمیت کے گوشے نمایاں ہوں گے اور یہ معلوم ہو گا کہ دنیا و آخرت میں انسان کی بھلائی اس بات میں پوشیدہ ہے کہ اس کے سامنے اللہ کی رضا جوئی ہر حال میں مقدم ہو، ساتھ ہی یہ بات بھی ہم جان سکیں گے کہ امتِ مسلمہ کی بقاء اور اس کی ترقی نیز گمشدہ تہذیب کی بازیابی اور اس میں زندگی کی روح پھونکنے میں مذکورہ سیرت و کردار کی کتنی بڑی تاثیر ہے۔ اسی لیے میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت اور کارناموں کو نکھارنے میں اپنی پوری طاقت لگا دی ہے، پھر بھی مجھے اپنی کم مائیگی کا احساس ہے۔ میں غلطیوں سے پاک اور معصوم نہیں ہوں، اللہ کی رضا جوئی اصل مقصد ہے، اسی سے ثواب کی امید ہے، مدد و توفیق دینے والا وہی ہے، وہ بہترین ناموں والا اور دعاؤں کو سننے والا ہے۔

میں اس کتاب کی تالیف سے بروز ہفتہ بارہ بج کر پچپن (55 :12) منٹ پر بوقت نماز ظہر 17 ربیع الآخر 1424ھ مطابق 7 جون 2003ء کو فارغ ہوا۔ ہرحال میں اللہ کا فضل و کرم رہا ہے، اس کے بہترین و پاک ناموں، اور بلند و بالا صفات کے واسطہ سے اس سے دعا کرتا ہوں کہ میرے اس کام کو قبول فرمائے، اسے اپنے بندوں کے لیے کارآمد بنائے، ہر حرف کے بدلے جسے میں نے لکھا ہے ثواب سے نوازے، اسے میرے نیک اعمال میں شامل کرے اور اس حقیر کوشش کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں میرے جن بھائیوں نے بھی میرے دست و بازو کو سہارا دیا ہے، انھیں اجرِ عظیم سے نوازے، ہر مسلمان جو میری اس کتاب کو پڑھے اس سے التماس ہے کہ اپنی نیک دعاؤں میں اس بندۂ عاجز کو نہ بھولے جو اللہ تعالیٰ سے معافی، مغفرت، رحمت اور رضا مندی کا طالب ہے:

صفحہ 11 از 12