مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 10 از 12

کتب ستہ یعنی صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابو داؤد، سنن ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ سے میں نے آغاز کیا ہے اور پھر موطا امام مالک اور مسند احمد کو بھی سامنے رکھ کر ان تاریخی موضوعات کو اکٹھا کرنے کی پوری کوشش کی ہے، جن کا تعلق خلافت راشدہ کے عہد سے ہے، پھر مصنف عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، مستدرک حاکم، امام بیہقی کی السنن الکبریٰ، سنن سعید بن منصور، مسند حمیدی، مسند طیالسی، مجمع الزوائد، کشف الاستار عن زوائد البزار اور موارد الظمأن إلی زوائد ابن حبان جیسی کتب سے تاریخی روایات کی چھان بین کی ہے۔

امام طبرانیؒ کی معجم کبیر اور دار قطنی کی سنن سے بھی غافل نہیں رہا ہوں، بلکہ ان تمام کتب پر محققین فن نے جو کاوشیں کی ہیں اور روایات پر حکم لگایا ہے، ان سب سے مکمل استفادہ کیا ہے۔

 کتب شرح حدیث

ان میں سب سے اہم ابن حجرؒ کی فتح الباری اور صحیح مسلم پر شرح الامام النوویؒ کو مقدم رکھا ہے، کیوں کہ ان دونوں میں کیثر المنافع تاریخی موضوعات ہیں اور بعض تاریخی واقعات پر ان دونوں کی تعلیقات کافی اہمیت کی حامل ہیں۔

 کتب تفسیر

ان میں تفسیر طبری، تفسیر قرطبی اور تفسیر ابنِ کثیر مقدم رہی ہیں، ان کتب سے استفادہ کرتے ہوئے میں نے روایات سے زیادہ ان پر مؤلفین کی تعلیقات کو مد نظر رکھا ہے، کیوں کہ عموماً وہ روایات حدیث و تاریخ کی کتب میں گزر چکی ہیں۔

 کتب عقائد

اس فن میں سب سے زیادہ ابنِ تیمیہؒ کی کتاب ’’منہاج السنۃ النبویۃ‘‘ سے استفادہ کیا ہے، اسی طرح ’’شرح العقیدۃ الطحاویۃ، ’’الابانۃ فی اصول الدیانۃ، امام بیہقی کی الاعتقاد، امام آجری کی ’’الشریعۃ‘‘ اور دیگر کتب عقائد کو سامنے رکھا ہوں، اور ان سے خلفائے راشدین و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں جو اقوال منقول ہیں، انھیں نقل کیا ہوں۔

 کتب فقہ

اس فن میں سب سے اہم ابن قدامہ کی ’’المغنی‘‘ امام نووی کی ’’المجموع‘‘ ابن رشد کی ’’بدایۃ المجتہد‘‘ اور ان کے علاوہ دیگر کتب فقہ میرے زیر مطالعہ رہی ہیں، جن سے میں نے خلفائے راشدینؓ کے اجتہاد کیے ہوئے فقہی مسائل اور ان کے فیصلوں کو نقل کیا ہے۔

 کتب ادب

ادب کی کتب سے میں نے ان ابیات کو نقل کیا ہے، جو خلفائے راشدینؓ کی طرف منسوب ہیں، یا انھوں نے انھیں کہنے کی اجازت دی ہے، یا خود اپنے حق میں کہے گئے قصائد کو سنا ہے، لیکن چونکہ ادب کی کتب غیر مستند ہوتی ہیں اور وہ کھرے کھوٹے کے معجون مرکب ہوتی ہیں، اس لیے میں نے صرف ان اشعار کو ترجیح دی ہے جو کتاب اللہ، سنتِ رسولﷺ  اور صحابہؓ کی بے نظیر جماعت کے اخلاق و آداب سے موافق ہوں، ان میں سے اہم ابن قتیبہ کی ’’عیون الاخبار‘‘ اور نایف معروف کی ’’الأدب الاسلامی فی عہد النبوۃ‘‘ رہی ہیں۔

کتب زہد و رقائق

اس فن کی کتب سے میں نے زہد و ورع سے متعلق خلفائے راشدینؓ کے اقوال کو منتخب کیا ہے، ان میں سب سے اہم علامہ ابن القیم کی کتاب ’’عدۃ الصابرین و ذخیرۃ الشاکرین‘‘ اور انھیں کی ’’مدارج السالکین‘‘ ہے۔ اسی طرح احمد بن عبدالرحمٰن المقدسی کی ’’مختصر منہاج القاصدین‘‘ بھی کافی اہم ہے۔

 کتب فرق و مذاہب

اس فن میں سب سے اہم ابو محمد بن حزم الظاہری کی کتاب ’’الفصل فی الملل والاہواء والنحل‘‘ اور ڈاکٹر ناصر القفازی کی ’’اصول مذہب الشعیۃ الإمامیۃ الاثنا عشریۃ‘‘ زیر مطالعہ رہی ہیں۔

کتب نظام و حکومت 

اس باب میں میرے نزدیک سب سے اہم کتاب امام کتانی کی ’’نظام الحکومۃ الإسلامیۃ‘‘ ہے، جو کہ ’’التراتیب الإداریۃ" کے نام سے معروف ہے، اسی طرح دوسری کتاب ظافر قاسمی کی ’’نظام الحکم فی الشریعۃ و التاریخ الإسلامی‘‘ ہے۔

 کتب سیرت و تراجم

اس فن میں امام ذہبیؒ کی ’’سیر أعلام النبلاء‘‘ عبدالحئی الحنبلی کی ’’شذرات الذہب فی اخبار من ذہب‘‘ابن الاثیر کی ’’أسد الغابۃ‘‘ اور ابوالقاسم اصفہانی کی ’’سیر السلف‘‘ انتخاب مطالعہ رہی ہیں۔

 کتب جرح و تعدیل

اس فن میں حافظ مِزی کی کتاب ’’تہذیب الکمال فی اسماء الرجال‘‘ابن ابی حاتم کی ’’الجرح و التعدیل‘‘ ابن حبان کی ’’الثقات‘‘ اور ابن عدی کی ’’الکامل فی ضعفاء الرجال‘‘ سب سے اہم رہی ہیں۔

 کتب تاریخ

ان میں سب سے اہم مرجع کی حیثیت تاریخ طبری کی ہے، اس کتاب نے ہمارے سامنے تمام تاریخی روایات کو سند کے ساتھ نقل کر دیا ہے، خواہ وہ صحیح ہوں، ضعیف ہوں یا موضوع، یا ان کا تعلق عقیدہ و شرعی احکام سے ہو یا ان واقعات سے ہو جو صحابہ کرامؓ سے متعلق ہیں، اس لیے ضروری تھا کہ ان روایات کو جرح و تعدیل کی کسوٹی پر رکھا جائے اور شیعی و رافضی نیز جھوٹے اور مجہول راویوں کو بیان کیا جائے۔

اس سلسلہ میں خالد غیث کی کتاب ’’استشہاد عثمان و وقعۃ الجمل فی مرویات سیف بن عمر فی تاریخ الطبری‘‘ اور ڈاکٹر یحییٰ ابراہیم الیحییٰ کی کتاب ’’مرویات ابی مخنف فی تاریخ الطبری‘‘ اور ڈاکٹر عبدالعزیز نورولی کی کتاب ’’اثر التشیع علی الروایات التاریخیۃ‘‘ نیز اس سلسلہ میں اہم ترین کتب میں ابن کثیر کی ’’البدایۃ والنہایۃ‘‘ سے میں نے استفادہ کیا ہے۔

یہ چند اہم قدیم مصادر ہیں، جن کی طرف میں نے رجوع کیا ہے، ساتھ ہی مختلف قسم کے بے شمار جدید مراجع کو میں نے سامنے رکھا ہے۔ واضح رہے کہ عقائد، احکام اور مقامِ صحابہؓ سے متعلق روایات کی صحت و ضعف معلوم کرنے اور ان پر حکم لگانے میں میں نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے، اور فیصلہ میرا اپنا نہیں بلکہ اس سلسلہ میں اس فن کے اساطین و متخصصین علماء کے اقوال کو نقل کیا ہے، چنانچہ یہ فضل اولاً اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، پھر ان علماء ربانین کے لیے ہے، جنھوں نے یہ سب کچھ کیا، میں نے اپنی کوشش کے مطابق صرف صحیح روایات کو سامنے رکھتے ہوئے تاریخی واقعات کی منظر کشی کی ہے اور انھیں مقدم رکھا ہے، پھر ان روایات کو ترجیح دی ہے جو حسن درجہ تک پہنچتی ہیں، نیز ضعیف روایات کو یکسر نظر انداز نہیں کیا ہے بلکہ واقعات کی کامل تصویر کشی کے لیے کہیں کہیں انھیں ذکر کیا ہے، لیکن یہ ملحوظ رکھا کہ وہ ضعیف روایات صحیح اور حسن روایات سے متصادم نہ ہوں اور اس دور کے روح و مزاج کے موافق ہوں، نیز ان روایات کا تعلق عقیدہ و شرعی احکام سے نہ ہو۔

صفحہ 10 از 12