خمس - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

خمس

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 2

اسلام کا بنیادی معاشی اصول یہ ہے کہ ضرورت سے فاضل رقم پر فردِ اسلام کا کوئی حق نہیں بلکہ اس کی حیثیت امین کی سی ہے۔

(فروع دین: صفحہ 84) 

(حالانکہ اسی فاضل رقم پر تو زکوٰۃ، حج اور صدقات کی عبادتیں قائم ہیں۔اگر فرد اسلام کا اس پر کوئی حق ملکیت نہیں تو پھر یہ عبادات بھی اس پر فرض نہیں)

لیکن جب سیدنا عمرؓ اور خلفائے رسولﷺ قرآنی اصول اور سنّتِ رسولﷺ کی روشنی میں حسبِ صوابدید مستحقین میں کمی بیشی کے ساتھ بانٹتے ہیں تو یہ ان کے خلاف آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ نے اہلِ بیتؓ کا حق غصب کر لیا۔ ان کو خمس میں کمی بیشی کرنا درست نہ تھا۔ بنو ہاشم سب خمس کو اپنا ذاتی حق سمجھتے تھے وغیرہ۔

ذی القربیٰ کی تشریح میں سورۃ بنی اسرائیل کی آیت

وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ 

(سورۃ بنی اسرائیل:آیت 26)  

درّ منشور وغیرہ کے حوالہ سے یہ لکھا ہے کہ: جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ نے سیدہ فاطمہؓ کو بلایا اور فدک عطا فرمایا: (فروع دین: صفحہ 79)

حالانکہ یہ روایت محض جعلی ہے۔ سورۃ بنی اسرائیل اور سورۃ روم دونوں مکی ہیں، فدک کا اس وقت تصور بھی نہ تھا وہ تو 7 ھ میں مدینہ میں آیا تھا۔ مکہ میں تو سیدہ فاطمہؓ صغیر السّن تھیں نہ سیدنا علیؓ قرابت داران میں شامل ہوئے تھے نہ سیدنا حسنینؓ تھے، پھر جو روؤف و رحیم پیغمبرﷺ اپنی لختِ جگر کو بیتُ المال سے خادمہ نہیں دیتے بلکہ اسے عام فقراء کا حق قرار دیتے ہیں(کتب سیرت) وہ ایک بہت بڑی جائیداد اپنی بیٹی کو کیسے ہبہ کر دیتے ہیں۔ بلکہ بچپن میں قبلِ از حصول یہ پروگرام بناتے ہیں؟ دراصل یہ سرمایہ دار اور زر پرست شیعوں کا زاہد ترین رسولِ امینﷺ پر زبردست حملہ ہے۔(معاذ اللہ تعالیٰ)

زر پرست شیعہ مشتاق آخر میں یہ بڑھ مارتا ہے۔

اس کے برعکس شیعہ مذہب خمس کی ادائیگی متواتر کرنے کی تعلیم دے رہا ہے، خدا کے مقرر کردہ حصہ میں وہ کمی بیشی کرنا صحیح نہیں سمجھتا ہے اور اولادِ رسولﷺ کے حقوق کی پاسداری کر رہا ہے پس یہ مذہب یقیناً بہتر ہے۔ 

(فروع دین: صفحہ 86) 

ذاتی اغراض کے لیے خدا کے قانونِ زکوٰۃ میں ترمیم کر کے جو مسئلہ خمس شیعوں نے تراشا ہے اس کی جھلک ہم دکھا چکے ہیں پھر جس کا مال سادات تک پہنچتا ہے سب کو معلوم ہے کہ یہ رقمیں تو موٹی موٹی فیسوں کی شکل میں بڑے بڑے مرثیہ خوانوں مراثیوں، گلوکاروں، نوحہ خوانوں اور مرثیہ ذاکروں مجتہدوں کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں اور غریب سادات تو اہلِ سنّت کے گھروں اور کھلیانوں سے بھیک مانگ کر گزارہ کرتے ہیں۔ تجربہ و مشاہدہ سب سے بڑی دلیل ہے۔ رہی اولادِ رسولﷺ کے حقوق کی پاسداری یہ خوش نماء دلفریب لیبل ہے ورنہ دوست بن کر شیعوں نے جو اہلِ بیتؓ پر ظلم ڈھائے اور 313 مؤمنوں کے انتظار میں 1200 سال سے امام زمانہ شیعہ بارہواں امام آج بھی غار میں غائب ہے کسے معلوم نہیں ہے؟ مذہبِ شیعہ اس دنیاوی لحاظ سے یقیناً بہتر ہے کہ دھوکے سے اہلِ بیت رسول اللہﷺ کو بلا کر ذبح کرو پھر مظالم کی عمارت استوار کر کے خوب دولت کماؤ، عیاشی کرو ، جب سیاسی پاور حاصل ہو جائے تو انقلابِ ایران کی طرح مسلمانوں کو خوب مارو اور مرواؤ۔ (معاذ اللہ)


صفحہ 2 از 2