Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مال غنیمت کے خمس کا مصالح عامہ پر خرچ

  علی محمد الصلابی

مالِ غنیمت کا خمس، نصِ قرآنی کے مطابق رسول اللہﷺ‏، اقرباء، ایتام، مساکین اور مسافروں پر خرچ ہوتا رہا لیکن رسول اللہﷺ‏ کی وفات کے بعد آپﷺ‏ اور قرابت داروں کا حصہ بیت المال میں جمع ہونے لگا تاکہ اس سے اسلحہ اور جنگی ساز و سامان فراہم کیا جائے، چنانچہ خلیفہ راشد سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ‏ اور قرابت داروں کے حصہ کو بیت المال میں جمع کر کے اس کو جنگی ساز و سامان اور اسلحہ کی فراہمی پر خوب خرچ کیا، کیوں کہ آپؓ کے دورِ حکومت میں بکثرت فتوحات کا سلسلہ جاری رہا، جس کے پیشِ نظر اسلحہ اور گھوڑے اور دیگر جنگی ساز و سامان کی شدید ضرورت تھی۔

(السیاسۃ المالیۃ لعثمان بن عفان: صفحہ، 97)