نماز تراویح - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

نماز تراویح

  غلام مصطفی ظہیر امن پوری

صفحہ 1 از 3

نمازِ تراویح

قیامِ رمضان کو تراویح کہا جاتا ہے، اس کے کئی نام ہیں۔ اس بافضیات نماز کو محروم انسان ہی چھوڑ سکتا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
حَدَّثَنَا عَلِی بْنُ عَبْدِاللَٰهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَفِظْنَاهُ. وَإِنَّمَا حَفِظَ مِنَ الزُّهْرِی، عَنْ أَبِی سَلَمَةَ، عَنْ أَبِی هُرَيْرَةَ رَضِی اللَٰهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِی صَلَّى اللَٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِی 
ترجمہ: ”جس نے ایمان سمجھتے ہوئے اور ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کیا۔ اس کے پہلے تمام (صغیرہ) گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
(صحيح البخاری: صفحہ، 37 مسلم: صفحہ، 175، 759)
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں:
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِی، عَنْ أَبِی سَلَمَةَ، عَنْ أَبِی هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَٰهِ صَلَّى اللَٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِی قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ فِيهِ بِعَزِيمَةٍ فَيَقُولُ: "مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" فَتُوُفِّی رَسُولُ اللَٰهِ صَلَّى اللَٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِی خِلَافَةِ أَبِی بَكْرٍ وَ صَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ عَلَى ذَلِكَ.
ترجمہ: ’’رسول کریمﷺ بغیر واجب حکم کے قیامِ رمضان کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے: جو ایمان سمجھتے ہوئے اور ثواب کی نیت سے قیامِ رمضان کرے گا، اس کے پہلے تمام (صغیرہ) گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، آپﷺ کی وفات تک قیامِ رمضان بغیر جماعت کے چلتا رہا، سیدنا ابوبکرؓ کے دورِ خلافت اور سیدنا عمرؓ کی خلافت کے شروع میں بھی معاملہ یونہی رہا۔
(صحيح البخاری: جلد، 37 صفحہ، 2008, 2009 صحيح مسلم: صفحہ، 759 سنن أبی داؤد: صفحہ، 1371 سنن الترمذی: صفحہ، 683, 808)  
کتاب: کتاب نمازِ تراویح پڑھنے کا بیان
باب: رمضان میں تراویح پڑھنے کی فضیلت
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِی اللّٰهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِرَمَضَانَ: مَنْ قَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ 
ترجمہ: میں نے رسول اللہﷺ سے سنا، آپﷺ رمضان کے فضائل بیان فرما رہے تھے کہ جو شخص بھی اس میں ایمان اور نیت اجر و ثواب کے ساتھ (رات میں) نماز کے لیے کھڑا ہو اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں:
حدّثنا يَحْيىٰ بْنُ يَحْيىٰ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ،أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِﷺ صَلَّى فِی الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللّٰهِ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ: قَدْ رَأَيْتُ الَّذِی صَنَعْتُمْ فَلَمْ يَمْنَعْنِی مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلاَّ أَنِّی خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ قَالَ: وَذلِكَ فِی رَمَضَانَ
ترجمہ: رسول اکرمﷺ نے رمضان کی ایک رات مسجد میں نماز پڑھی، آپﷺ کی اقتدا میں لوگوں نے بھی نماز پڑھی، اگلی رات نماز پڑھائی، تو نمازیوں کی تعداد بڑھ گئی، پھر لوگ تیسری یا چوتھی رات بھی جمع ہوئے، لیکن آپﷺ نماز کے لیے نہ نکلے۔ صبح ہوئی، تو فرمایا: میں نے آپ کا شوق عبادت دیکھا لیکن باہر اس لیے نہیں آیا کہ کہیں آپ پر یہ نماز فرض نہ ہو جائے، راوی کہتے ہیں: یہ رمضان کا واقعہ ہے۔
(صحيح البخاری: صفحہ، 1129، صحیح مسلم: جلد، 1 صفحہ، 176، 177 واللفظ له)
سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں: 
وحدّثنی حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيىٰ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللّٰهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِی يُونسُ بْنُ يزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِی عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ خَرَجَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِی الْمَسْجِدِ فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلاَتِهِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰهِﷺ فِی اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ فَصَلَّوْا بِصَلاَتِهِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَذْكُرُونَ ذَلِك فَكَثُرُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّيْلَةَ الثَّالِثَةِ فَخَرَجَ فَصَلَّوْا بِصَلاَتِهِ فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللّٰهِﷺ فَطَفِقَ رِجَالٌ مِنْهُمْ يَقُولُونَ: الصَّلاَةَ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللّٰهِ حَتّٰى خَرَجَ لِصَلاَةِ الْفَجْرِ فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ تَشَهَّدَ، فَقَالَ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَیَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ وَلكِنِّی خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ صَلاَةُ اللَّيْلِ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا
ترجمہ: رسول اکرمﷺ دوسری رات تشریف لائے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ لوگ اس کا تذکرہ کرنے لگے۔ تیسری رات مسجد میں نمازی بڑھ گئے۔ آپﷺ تشریف لائے، لوگوں نے آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ چوتھی رات مسجد تنگی داماں کا شکوہ کرنے لگی، مگر آپﷺ تشریف نہ لائے۔ حاضرینِ مسجد کہنے لگے: نماز (تراویح)! لیکن رسول اللهﷺ نمازِ فجر کے وقت ہی تشریف لائے۔‘‘
(صحيح البخاری: صفحہ، 2012 ح، 178 مسلم: 761)
دوسری روایت ہے:
خشيت أن تفرض عليكم صلاة الليل، فتعجزوا عنهم
صفحہ 1 از 3