حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ قبرص کا مال غنیمت تقسیم کرتے ہیں
علی محمد الصلابیحضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں غزوۂ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھا، لوگ آپ سے مال غنیمت سے متعلق گفتگو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کا بال لیا اور فرمایا:
ما لی مما افاء اللّٰه علیکم من ہذہ الغنائم الا الخمس والخمس مردود علیکم۔
’’اللہ نے تمھیں جو مال غنیمت عطا کیا ہے اس میں سے میرا صرف خمس ہے اور وہ خمس بھی تم ہی پر لوٹا دیا جائے گا۔‘‘
اے معاویہ اللہ سے تقویٰ اختیار کرو، اور مال غنیمت کو صحیح طریقہ سے تقسیم کرو اور کسی کو اس کے حق سے زیادہ مت دینا… سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مالِ غنیمت کی تقسیم میں نے آپ کے سپرد کر دی ہے۔ شام میں آپ سے افضل اور زیادہ علم والا کوئی نہیں، آپ اس کو مستحقین میں تقسیم کر دیں اور اللہ سے تقویٰ اختیار کریں، چنانچہ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے مال غنیمت کو تقسیم کیا، اور حضرت ابودرداء اور ابو امامہ رضی اللہ عنہما نے اس سلسلہ میں سیدنا معاویہؓ سے تعاون کیا۔
(الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ، لأبي جعفر أحمد الشہیر بالمحب الطبري: صفحہ 561)