مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 5

وأبی لہا وصف الکمال أفولا

والحق أبلج فی شریعتہ التی

جمعت فروعًا للہدی وأصولا

لا تذکروا الکتب السوالف عندہ

طلع الصباح فأطفؤا القندیلا

’’اللہ سب سے بڑا ہے، محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کا دین اور اس کی کتاب بہت قوی اور بہت مضبوط کلام ہے۔ اس کے ساتھ مخلوق کے لیے آفتاب ہدایت طلوع ہوا ہے، کمزور رائے والوں نے اس کے وصف کمال کو تسلیم نہیں کیا، اس کی شریعت میں حق واضح ہو چکا ہے جو ہدایت کے اُصول و فروع کا مجموعہ ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے سابقہ کتب کا ذکر نہ کرو، صبح نمودار ہو گئی لہٰذا قندیل بجھا دو۔‘‘

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور اُموی حکومت کے دور کی بڑی بڑی فتوحات اس بات کی صریح دلیل ہیں کہ اُمت قوی اور متحد تھی، اللہ کے دین پر عمل پیرا تھی اور اقوام و قبائل کی ہدایت کی حریص تھی۔ اس کے علاوہ میں نے درج ذیل معاملات پر بات کی ہے:

ولی عہدی کی سوچ اور یزید کی بیعت کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اقدامات، مشورے، اطلاعاتی دباؤ، اہل شام کا بیعت یزید کو تسلیم کر لینا، وفود کی طرف سے بیعت، اہل مدینہ سے بیعت کا مطالبہ اور حضرت عبداللہ بن عمر، عبدالرحمٰن بن ابوبکر، عبداللہ بن زبیر اور حسین بن علی رضی اللہ عنہم کا اس بیعت پر اعتراض، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنے بیٹے یزید کو ولی عہدی کے لیے تیار کرنے کے اسباب جیسے اتحاد اُمت کی حفاظت، قبائلی عصبیت کی قوت، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیٹے سے محبت اور اس پر قناعت کرنا، بیعت یزید کے سلسلے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر کی جانے والی تنقید، عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں ولی عہدی کے تصور کے ماخذ، آپ کی زندگی کے آخری ایام، موت کی سختیوں میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی دُعا:

اَللّٰہُمَّ اَقَلِّ الْعَثَرَۃَ، وَاْعفُ عَنِ الزَّلَّۃِ، وَتَجَاوَزْ بِحِلْمِکَ عَنْ جَہْلٍ مَالَمْ یُرْجَ غَیْرُکَ فَاِنَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃِ، لَیْسَ لِذِیْ خَطِیْئَۃٍ مَہْرَبٌ اِلَّا اِلَیْکَ۔

’’اللہ!میری پھسلن کو مٹا دیجیے، لغزش کو معاف کر دیجیے، اپنے حلم سے اس لا علمی سے درگزر کیجیے جس کی آپ کے سوا کسی سے اُمید نہیں رکھی جا سکتی، ( اے اللہ!) آپ وسیع مغفرت والے ہیں، غلطی کرنے والے کے لیے آپ کی طرف بھاگنے کے علاوہ کوئی جگہ نہیں۔‘‘

اس (دُعا ) کے بعد ان کی وفات ہو گئی۔

اول و آخر اللہ کا ہی فضل ہے، میں اللہ تعالیٰ سے اس کے اسمائے حسنی اور بلند صفات کے طفیل اس سے سوال کرتا ہوں کہ وہ میرے اس کام کو اپنی رضا کے لیے خالص اور اپنے بندوں کے لیے نفع بخش بنا دے، میرے لکھے ہوئے ہر ہر حرف پر مجھے اجر و ثواب عطا کرے، اور اسے میری نیکیوں کے پلڑے میں ڈال دے، اور میرے ان بھائیوں کو بھی جزا دے جنہوں نے اس عاجزانہ کوشش کی تکمیل میں حصہ ڈالا ہے۔ ہم اس کتاب کے پڑھنے والے ہر اس مسلمان سے یہ اُمید کرتے ہیں کہ وہ اس بندہ ناچیز کو اپنی دُعاؤں میں نہ بھولیں جو اپنے رب کی معافی، مغفر، رحمت اور خوش نودی کا محتاج ہے:

رَبِّ اَوۡزِعۡنِىۡۤ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِىۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَىَّ وَعَلٰى وَالِدَىَّ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًـا تَرۡضٰٮهُ وَاَدۡخِلۡنِىۡ بِرَحۡمَتِكَ فِىۡ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيۡنَ ۞ (سورۃ النمل آیت 19

ترجمہ: میرے پر ورگار! مجھے اس بات کا پابند بنا دیجیے کہ میں ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہیں، اور وہ نیک عمل کروں جو آپ کو پسند ہو، اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرمالیجیے۔

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا وَمَا يُمۡسِكۡ فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۡ بَعۡدِه وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ۞ (سورۃ فاطر آیت 2)

ترجمہ: جس رحمت کو اللہ لوگوں کے لیے کھول دے، کوئی نہیں ہے جو اسے روک سکے اور جسے وہ روک لے تو کوئی نہیں ہے جو اس کے بعد اسے چھڑا سکے۔ اور وہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ۔

سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔

الفقیر الی عفو ربہ ومغفرتہ

علي محمد محمد الصلابي


صفحہ 5 از 5