مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 5

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی تمام اُمور کی خود نگرانی کرنے اور اپنی خلافت میں امن قائم کرنے کی حرص، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی یومیہ مجلس اور اس کے ذیلی مرکزی محکمے، جیسے محکمہ خط و کتابت، محکمہ مہر، محکمہ ڈاک، سینگی لگانے کا نظام، چوکیداری اور پولیس کا محکمہ، آدمیوں اور معاونین کا عمدہ انتخاب، معاونین اور تالیف قلبی، اس میں پختگی کے لیے مال خرچ کرنا، سختی اور نرمی کی سیاست اختیار کرنا، بنی اُمیہ اوران کی رعیت کے درمیان منفعت کے تبادلے کی سیاست، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنے آپ کو مضبوط کرنے اور اپنی خلافت کو استحکام دینے کے لیے اطلاعات کی سیاست اپنانا اور انہیں بنی اُمیہ کی طرف مائل کرنا، خبر رسانی کے نظام کا اہتمام کرنا، اسلامی لشکر کی تشکیل و ترقی، قبائل، برادریوں اور معاشرے کے بڑے افراد میں موازنہ کی سیاست کے بارے میں ان کی دانائی، اُموی خاندان کے بارے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیاست۔

 میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی معاشرتی زندگی نیز علم، تاریخ ، شعر، لغت اور تجرباتی علوم کے بارے میں ان کے اہتمامات کو بیان کیا ہے۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خوارج کے بارے میں معاملے اور ان کے عمل دخل کی کمی بیشی کے سلسلے میں آپ کے وسائل پر میں نے ایک الگ مبحث لکھی ہے۔

مالی نظام، سلطنت کے ذرائع آمدن جیسے زکوٰۃ، جزیہ، خراج، عشر، زرعی پیداوار، غنائم عمومی اخراجات جیسے عسکری، انتظامی اور معاشرتی اخراجات۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا زراعت، داخلی و خارجی تجارت اور حرف و صنعت کا اہتمام کرنا، عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں مصارفِ اموال کے بارے میں شبہات کا معاملہ اور ان کا علم و انصاف پر مبنی تجزیہ، مثلاً عطیات دینے میں فرق روا رکھنا، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو بطورِ رشوت دینے کا جھوٹ، تالیف قلبی اور معاونین بنانے کے لیے بہت زیادہ خرچ کرنا، امویوں کی پر تعیش زندگی کے مظاہر۔

سلطنت بنی اُمیہ کے عدالتی نظام کی مستقل بحث، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا خلافت راشدہ سے تعلق، خلفا کا عدالتی معاملات سے الگ ہونا اور ان پر اثر انداز نہ ہونا، قاضیوں کے مراتب، فیصلوں کو لکھنا اور ان پر گواہ مقرر کرنا، ججوں کے معاونین جیسے منادی، دربان، ترجمان یا مترجم، نگرانی اور پیروی کرنے والے وغیرہ۔

 عہد اُموی میں عدالتی فیصلوں کے مصادر، قاضیوں کا تخصص، مشہور ترین قاضیوں کے نام، قضاء کے عمومی امتیازات، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو قضاء کے بارے میں خط، محکمہ پولیس اور اس کی ذمہ داریاں جیسے خلیفہ اور صوبہ جات کے گورنروں کی ان کے داخلی دشمنوں سے حفاظت کرنا، جرائم پیشہ افراد اور قانون شکنی کرنے والوں کو سزا دینا، شرعی سزاؤں کا نفاذ، دیگر طاقتیں اور دوسرے محکمے اور ان کا پولیس سے تعلق جیسے چوکیدار، چودھری، جلاد، نظامِ احتساب، نگہبانی کا نظام، مجرموں کو پکڑنے والا محکمہ، محکمہ ولاۃ و انتظامیہ، سلطنت کے تحت آنے والے اہم صوبے، ان کے مشہور گورنروں کے نام اور ان کے ان صوبوں میں اہم ترین کارنامے، مدینہ نبویہ کی بحث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حالاتِ زندگی، ان کی وفات مدینے میں 58 ھ یا 59 ھ کو ہوئی تھی، عہدِ معاویہ رضی اللہ عنہ میں انھوں نے تقریباً اٹھارہ سال گزارے، اس جلیل القدر صحابی پر دشمنانِ صحابہ کی طرف سے زمانہ قدیم اور عصر حاضر میں ظالمانہ حملے کیے گئے، ان باطل تہمتوں کو مستشرقین کے ایک گروہ نے بھی اختیار کر لیا ہے، لہٰذا میں نے یہ ضروری سمجھا کہ اس عظیم صحابی کا دفاع کروں کیونکہ وہ سنت نبویﷺ کے بڑے بڑے راویوں میں شمار ہوتے ہیں، ان کا تعارف اور کچھ حالاتِ زندگی پیش کیے ہیں جیسے ان کی عبادات، پاکدامنی، صبر و تحمل اور ان کا عفو و درگزر۔ ان شبہات کی تردید بھی کر دی گئی ہے جو ان کے بارے میں جھوٹے پھیلائے گئے ہیں، جن کا مقصد ہم تک پہنچنے والی سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں شک و شبہ پیدا کرنا ہے، اس ہدف کو منافقین اس جلیل القدر صحابی پر طعنہ زنی کر کے پورا کرنا چاہتے ہیں، ان کذابوں کا مقابلہ کرنے کے لیے زبانِ حال سے شاعر کا یہ قول منطبق ہوتا ہے:

وإذا اضطررت علی الجدال و لم تجد

لک مہربًا و تلاقت الصّفان

فاجعل کتاب اللّٰہ درعًا سابغًا

والشرع سیفک وابد فی المیدان

والسنۃالبیضاء دونک جُنَّۃ

وارکب جواد العزم فی الجولان

واثبت بصبرک تحت ألویۃ الہدی

فـالصـبـر أوثق عدۃالإنسـان

واطعن برمح الحق کل معاند

للّٰہ درُّ الفارس الطعان

واحمل بسیف الصّدق حملۃ

مخلص مستجردًا للّٰہ غیر جبان

’’جب تو جنگ کرنے کے لیے مجبور ہو جائے اور تجھے بھاگنے کے لیے کوئی چارہ نہ ہو اور دونوں گروہوں کا ٹکراؤ ہو تو کتاب اللہ کو اپنی پوری زرہ بنا لے، شریعت کو اپنی تلوار بنا کر میدان میں نکل آ، چمکدار سنت کو اپنی ڈھال بنا، عزم و ہمت کے برق رفتار گھوڑے پر سوار ہو جا، ہدایت کے جھنڈوں تلے اپنے صبر کے ساتھ جمے رہو، اس لیے صبر انسان کی مضبوط ترین تیاری ہے۔ ہر دشمن پر حق کے نیزے برسا، نیزہ باز گھڑ سوار کا اللہ کے ہاں بڑا مقام ہے، حملہ کرنے کے لیے سچائی کی تلوار اُٹھا، بزدلی کا مظاہرہ نہ کرنا، مخلص بن جا اور بس اللہ کا ہو کر رہ۔‘‘

صفحہ 3 از 5