مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 5

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لینے کے طریقے پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اختلاف، معرکہ صفین، پے درپے واقعات۔

ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابو سفیان کا نعمان بن بشیر کو حضرت عثمان کی قمیص دے کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہم کے پاس بھیجنا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت نہ کرنے کے محرکات، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ قبول نہ کرنا، اہل شام سے جنگ کرنے کے لیے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی تیاری، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا جنگ جمل کے بعد جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجنا تاکہ انہیں بیعت کرنے کی دعوت دی جائے، امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شام کی طرف پیش قدمی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا صفین کی طرف نکلنا، طرفین میں حملوں کا آغاز، فریقین میں صلح کی کوششیں، گھمسان کی جنگ اور پھر تحکیم کی دعوت۔

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت اور اس کے مسلمانوں پر اثرات، دورانِ جنگ میں مشفقانہ رویہ اور حسن سلوک، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا قیدیوں سے سلوک، مقتولین کی تعداد، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا مقتولوں کو تلاش کرنا اور ان پر ترس کھانا، ان واقعات و حادثات کے دوران میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا شاہِ روم کے بارے میں مؤقف، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں صفین کا جھوٹا واقعہ، معرکہ کے جاری رہنے کے لیے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کا اصرار، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا لوگوں کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کرنے اور اہل شام کو لعن طعن کرنے سے منع کرنا، تحکیم، تحکیم کے معاہدے کا متن، تحکیم کے بارے میں مشہور واقعے کا باطل ہونا، معاہدہ تحکیم کی حقیقت، اجتماع کے انعقاد کی جگہ۔

 اسلامی ممالک میں پیدا ہونے والے تنازعات کے سلسلے میں واقعہ تحکیم سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

ان جنگوں کے بارے میں اہل سنت والجماعت کے مؤقف کی بھی میں نے وضاحت کی ہے۔ معرکہ صفین کے بعد صلح جُو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے معیارات میں تبدیلی، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان صلح، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی شہادت اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع موصول ہونے کے بارے میں بھی میں نے بحث کی ہے۔

اس کے بعد میں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے دور کے صلح کے بہت بڑے اصلاحی منصوبے کے بارے میں بات کی ہے، یہ منصوبہ وحدت اُمت کا سبب بنا، یہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دستبرداری کا عمل ہے۔ میں نے صلح کے مراحل، شرائط، اسباب، اس کی رکاوٹوں اور نتائج کی طرف بھی اشارہ کیا ہے، اسی طرح میں نے مقاصد شریعت کی فقہ کبیر اور فقہ مصالح و مفاسد کی وضاحت کی ہے، اسی طرح اختلاف سے متعلق فقاہت کی وضاحت کی ہے، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ اس فقہ میں ممتاز تھے۔ انہوں نے اپنے عظیم اصلاحی منصوبے کی بنیاد رکھی تھی، اسی کی بنیاد پر اُمت مسلمہ ان جدید مراحل میں داخل ہوئی، جن میں موجود تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اور ابنائے اُمت کی طرف سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت مکمل ہوئی۔

میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی صفات کی وضاحت کی ہے، جن میں سے اہم یہ ہیں:

علم ، فقاہت، حلم و بردباری، عفو و درگزر، ہوشیاری، حیلہ و تدبیر، منفرد عقلیت، باریک بینی کی صلاحیت، عاجزی و انکساری، تقویٰ و پرہیز کاری اور خشیت الہٰی سے رونا۔

میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں علماء کے تعریفی کلمات بھی نقل کیے ہیں، اور اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ سلطنت بنو اُمیہ خیر القرون میں داخل ہے، جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا:

خَیْرُکُمْ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ۔ (بخاری: 6695)

ترجمہ: ’’تمہارے بہترین لوگ میرے زمانے کے لوگ ہیں، پھر جو اُن کے بعد کے زمانے کے ہیں اور پھر جو اُن کے بعد آئیں گے۔‘‘

میں نے بنو اُمیہ کے دار الحکومت (شام) کے بارے میں بحث کی ہے اور اہل شام کے بارے میں احادیث رسول پیش کی ہیں، نیز عہد معاویہ رضی اللہ عنہ کے اہل حل و عقد اور شوریٰ کا تذکرہ کیا ہے، اس کے علاوہ اظہارِ رائے کی آزادی اور ان کی داخلی سیاست جیسے شیوخ صحابہ کی کبار شخصیات اور ان کے بیٹوں سے حسن سلوک کا تذکرہ کیا ہے، اسی طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے اچھا تعلق بیان کیا ہے۔

اس بات کی بھی وضاحت سے تردید کی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سلطنت بنو اُمیہ کے منبروں پر امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کو عام کر دیا تھا، بعض مؤرخین کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زہر دلوایا تھا، میں نے علمی دلائل اور روشن براہین سے اسے باطل ثابت کیا ہے۔

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین کے بارے میں امیر المؤمنین بننے کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا مؤقف بھی پیش کیا ہے ، نیز حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے قتل کا واقعہ اور اس بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مؤقف بیان کیا ہے۔

میں نے ان اُمور کی وضاحت بھی کی ہے:

صفحہ 2 از 5