مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 5

میں نے حتیٰ الامکان کوشش کی ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کروں۔ آپ کی زندگی امت کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ سیدنا حسنؓ ان ائمہ میں سے ہیں جن کا طریقۂ کار، اقوال و افعال آج لوگوں کے لیے اسوہ ہیں۔ سیدنا حسنؓ کی سیرت سے دین کی صحیح سمجھ، اسلامی جذبے اور ایمان کو تقویت ملتی ہے۔ سیدنا حسنؓ کی سیرت سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اختلافات کے وقت ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ مصالح و مفاسد اور مقاصد شریعت کیا ہیں۔ خواہشات نفس پر قابو کیسے پایا جاتا ہے۔ ہمارا قرآن کریم کے ساتھ تعامل کیسا ہو۔ کس طرح ہم طریقۂ نبوی کو اختیار کریں اور سیدنا حسنؓ کی اقتداء کریں۔

سیدنا حسنؓ کے اقوال و افعال کے توسط سے ہمارے دلوں میں اللہ کی جانب جھکاؤ گہرا ہوتا ہے پتہ چلتا ہے کہ ان مذکورہ علوم کا امت کی زندگی، ترقی اور مطلوبہ تہذیبی کردار ادا کرنے میں کتنا اثر ہوتا ہے۔

بنا بریں میں اپنی وسعت کے مطابق سیدنا حسنؓ کی شخصیت اور کارناموں کو اجاگر کرنے میں بھرپور کوشش کی ہے۔ غلطی اور لغزش سے بچنے کا دعویٰ نہیں، صرف اللہ کی رضا اور ثواب مطلوب ہے، وہی اسے نفع بخش بنا سکتا ہے اور اسی سے اس سلسلے میں تعاون مطلوب ہے، بلاشبہ وہ اچھے ناموں والا اور دعاؤں کا سننے والا ہے۔

میں بفضلہ تعالیٰ خلفائے راشدینؓ کی تاریخ کے سلسلے میں بتاریخ 21 صفر 1425ھ مطابق 18، 4، 2004 ء بوقت پونے دس بجے رات فارغ ہوا۔ اللہ ہی سے اس کام کی قبولیت و برکت اور انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت کا خواستگار ہوں۔ فرمان الہٰی ہے:

مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا وَمَا يُمۡسِكۡ فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۡۢ بَعۡدِه وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ۞

(سورۃ فاطر آیت 2)

ترجمہ: جس رحمت کو اللہ لوگوں کے لیے کھول دے، کوئی نہیں ہے جو اسے روک سکے اور جسے وہ روک لے تو کوئی نہیں ہے جو اس کے بعد اسے چھڑا سکے۔ اور وہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

اس کتاب کے ذریعے میں قارئین کے ہاتھوں میں خلفائے راشدینؓ کی تاریخ کے سلسلے کی ایک کڑی رکھ رہا ہوں۔ مجھے اس میں کمال کا دعویٰ نہیں۔

شاعر کا قول ہے:

و ما بہا من خطأ أو خلل

أذنت فی إصلاحہ لمن فعل

’’جو کچھ اس میں خلل اور غلطی ہے اس کی اصلاح کی میں ہر شخص کو اجازت دیتا ہوں۔‘‘

لکن بشرط العلم و الانصاف

فذا و ذا من أجمل الأوصاف

’’لیکن وہ اصلاح علم اور انصاف جیسے اوصاف پر مبنی ہو۔‘‘

واللّٰه یہدی سبل السلام

سبحا نہ بحبلہ اعتصامی

’’ اور اللہ تعالیٰ سلامتی کی راہیں دکھا دیتا ہے، میں اسی کی رسی کو مضبوطی سے تھامتا ہوں۔‘‘

اس عظیم احسان پر میں اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں شکر گزار ہوں۔ میں اس سے اور اس کے اسماء و صفات کے حوالے سے دعاگو ہوں کہ وہ اس تاریخی سلسلے کو اپنی رضا کے لیے خالص اور اپنے بندوں کے لیے مفید بنائے، اور میرے ہر لکھے ہوئے حرف کا مجھے اجر عطا فرمائے، اور اسے میری نیکیوں کی میزان میں کردے، او ران تمام لوگوں کو اجر عطا کرے جنھوں نے اس کام کے مکمل کرنے میں اپنی حسب استطاعت وسائل سے میری مدد کی۔

قارئین کرام سے امید کرتاہوں کہ مجھ کو اپنی نیک دعاؤں میں یاد رکھیں گے۔ فرمان الٰہی ہے: 

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا وَقَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِىۡۤ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِىۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَىَّ وَعَلٰى وَالِدَىَّ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًـا تَرۡضٰٮهُ وَاَدۡخِلۡنِىۡ بِرَحۡمَتِكَ فِىۡ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيۡنَ ۞

/سورۃ النمل آیت 19)

ترجمہ: اس کی بات پر سلیمان مسکرا کر ہنسے، اور کہنے لگے : میرے پر ورگار ! مجھے اس بات کا پابند بنا دیجیے کہ میں ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہیں، اور وہ نیک عمل کروں جو آپ کو پسند ہو، اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرمالیجیے۔

وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ، سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ، اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ ، اَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوْبُ اِلَیْکَ، وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔

اپنے رب کے عفو و مغفرت و رحمت و رضا کا محتاج

علی محمد محمد الصلاّبی

2ض/صفر 1425ھ


صفحہ 5 از 5