مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 5

میں نے اس کتاب میں تاریخ کی بعض جھوٹی روایتوں کا پردہ فاش کیا ہے، بطور مثال بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ اموی حکومت نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں تمام منبروں کے لیے یہ تعمیم جاری کردی تھی کہ وہاں سے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا جائے، چنانچہ میں نے صحیح دلائل و براہین سے اس بہتان کا قلع قمع کیا ہے۔ مؤرخین نے بلا بحث و تمحیص، اور نقد و تحلیل کے اس چیز کو تسلیم کرلیا اور متاخرین کے نزدیک یہ چیز ان مسلمات میں سے ہوگئی جن میں مناقشہ کی گنجائش نہیں رہتی، یہ ایسا دعویٰ ہے جسے صحت نقل کی ضرورت ہے، اور جس کی سند کو جرح اور متن کو اعتراض سے خالی رہنا چاہے، محققین کے نزدیک اس طرح کے دعوؤں میں کتنا وزن ہے ظاہر و باہر ہے۔ صحیح تاریخ تو یہ ثابت کرتی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دل میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور آپؓ کے اہل بیت کا بڑا احترام تھا، اسی طرح تاریخ کی بعض کتابوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے یزید پر تہمت لگائی ہے کہ انھوں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دیا تھا، تو میں نے اس کی بھی حقیقت کو واشگاف کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ سند اور متن دونوں اعتبار سے ثابت نہیں ہے۔

اسی طرح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے مدینہ میں قیام کرنے، امت کے اتحاد کے امام اور محور اور بلا مقابل وحدت امت کے قائد ہونے کا تذکرہ کیا ہے۔ شاعر کا قول ہے:

فی روض فاطمۃ فما غصنان لم

ینجبہما فی النَّیِّران سواہا

’’ بطن فاطمہ رضی اللہ عنہا ہی سے دونوں نونہالوں نے جنم لیا۔‘‘

فأمیر قافلۃ الجہاد و قطب دائرۃ

الوئام و الاتحاد ابناہا

’’چنانچہ ان کے دونوں بیٹے مجاہدین کے قافلہ سالار اور اتحاد واتفاق کے محور ہیں۔‘‘

حسن الذی صان الجماعۃ بعد ما

أمس تفرقہا

یحلُّ عراہا

’’امت کا شیرازہ بکھر رہا تھا تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ہی ہیں جنھوں نے اسے بچایا۔‘‘

ترک الإمامۃ ثم أصبح فی الدیار

إمام ألفتہا و حسن عُلاہا

’’زمام حکومت کو چھوڑ دیا تو امت کے اتفاق و اتحاد اور سربلندی کے امام ہوگئے۔‘‘

کتاب میں درج ذیل موضوعات پر بھی بحث کی ہے:

مصالحت کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے تعلق 

سیدنا حسنؓ کے آخری ایام اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے لیے آپ کی وصیت

اللہ کی کائنات میں سیدنا حسنؓ کا غور و فکر کرنا۔

اپنے نفس کا محاسبہ، پھر سیدنا حسنؓ کی شہادت اور مدینہ کی قبرستان بقیع میں سیدنا حسنؓ کی تدفین

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیرت یہ بتاتی ہے کہ قائد کے مستقبل کی پلاننگ کی کیا اہمیت ہوتی ہے؟ اسی کی روشنی میں اللہ کے سہارے وہ آگے بڑھتا ہے، چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اصلاحی پلاننگ اور منصوبے کے مالک اور اس کی تنفیذ پر قادر تھے، اور اس سلسلے کے تمام مراحل، اسباب، شروط، نتائج، رکاوٹیں، ان رکاوٹوں سے نپٹنے کے طریقے سیدنا حسنؓ کے لیے واضح تھے۔ آپؓ نے اختلافات سے نپٹنے، مصالح و مفاسد، مقاصد شریعت، معاملات کو حل کرنے کے لیے باہمی بات چیت، اللہ کی رضا کے لیے خواہشات نفس اور اس کی خامیوں پر قابو پانے سے متعلق بہت واضح نقوش چھوڑتے ہیں، چنانچہ عالم اسلام کے حکمران خاندان، متحرک سیاسی پارٹیاں، موجود ادارے، اسلامی تحریکات، بامقصد جمعیات کو شدید ضرورت ہے اس بات کی کہ وہ اختلافات کو ختم کرنے، اتفاق واتحاد، خونریزی سے بچاؤ، اور سب کو اکٹھا کرنے سے متعلق سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے تفقہ اور طریقۂ کار کو سمجھیں۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ خلیفۂ راشد ہیں، ان کی اقتداء او ران کے تفقہ کی اہمیت کی جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری رہنمائی اپنے اس قول سے کی ہے:

عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ مِنْ بَعْدِيْ۔

(سنن ابی داود: جلد 4 صفحہ 201، سنن الترمذی: جلد 5 صفحہ 44 حسن صحیح)

’’تم میرے طریقۂ کار کو اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدینؓ کے طریقۂ کار کو لازم پکڑو۔‘‘

بلاشبہ حقیقت کا متلاشی اس بات پر بہت تعجب کرے گا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا تفقہ اور ان کا طریقۂ کار امت کے حافظے سے بہت حد تک اوجھل رہا۔ اسی طرح اس با ت پر بھی حیرت کرے گا کہ ہماری تہذیب و ثقافت میں آپ کے تفقہ اور عظیم اصلاحی منصوبے کا کوئی خاص اثر نہیں رہا۔ قوموں کے عروج کے اہم اسباب میں سے ہے کہ حاضر کو سدھارنے کے لیے ماضی سے آگاہ رہا جائے اور مستقبل پر نگاہ رکھی جائے۔

بلاشبہ تاریخ امت کا حافظہ، اس کے تجربات، علوم و معارف، اصول و مبادی اور کارناموں کا خزینہ ہوتی ہے، اس کے ماضی اور حال کے تشخص کی بنیاد ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی گہرائیاں ابھی تک لوگوں کے سامنے واضح نہیں ہوسکی ہیں۔ خلفائے راشدینؓ کی ایک عظیم تابناک تاریخ رہی ہے۔ امت اسلامیہ کی تاریخ تمام قوموں اور ملکوں کی تاریخ پر فوقیت رکھتی ہے۔

ہمیں چاہیے کہ اس قدیم تابناک تاریخ سے مستفید ہوں۔ اس کے سبق آموز اور عبرت خیز، پہلوؤں کو واضح کریں، اس سے طریقہ ہائے کار کا استنباط کریں، اور اس کی روشنی میں دوسری تہذیبوں کو سمجھیں۔ تاریخی تسلسل، طریقۂ نبوی اور قرآنی قصوں کی روشنی میں امت اسلامیہ کی ایسی ترقی کے لیے منصوبہ سازی کریں جو دور حاضر سے ہم آہنگ ہو، تاکہ لوگوں کی رہنمائی میں امت اسلامیہ اپنا مثالی تہذیبی کردار ادا کرسکے اور آنے والی صدیوں میں دنیا کے سامنے یہ اچھی طرح ثابت ہوجائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے لایا ہوا دین اسلام نہ مٹا ہے اور نہ کبھی مٹے گا، اور قرآن کریم قیامت تک باقی رہنے والی کتاب ہدایت ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم معاملات سے متعلق اپنی نگاہوں کو کھلی رکھیں تاکہ ہمیں دیر تک رونا نہ پڑے۔

صفحہ 4 از 5