مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 5

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق گفتگو کے سلسلے میں ان کتابوں سے بچنا ضروری ہے، جو ان سے استفادہ کرنا چاہے اس پر لازم ہے کہ ان میں وارد اعتقادی مسائل، شرعی احکام اور صحابہ کرامؓ سے متعلق باتوں کو قرآن و حدیث سے توثیق کرے، ان میں سے جو قرآن و صحیح احادیث کے موافق ہوں ان کے ذکر کرنے میں کوئی حرج نہیں اور جو مخالف ہوں ان کو قطعاً نہ ذکر کیا جائے۔

’’الأغانی‘‘ اور اس طرح کی دوسری کتابوں پر سنجیدہ تاریخی بحث میں کوئی ایسا شخص اعتماد نہیں کرسکتا جو علمی حقائق، موضوعیت اور غیر جانب داری کو پسند کرتا ہے۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی اہم صفات اور ان کی معاشرتی زندگی کو ذکر کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ آپؓ نرالی قائدانہ شخصیت کے مالک تھے، آپؓ کے اندر ربانی قائد کے اوصاف موجود تھے، آپؓ دور بینی، حالات پر گہری نظر، جمہور کی قیادت کی صلاحیت، مقررہ منصوبوں کی تنفیذ کے لیے عزم مصمم جیسے اوصاف سے متصف تھے، ’’آپؓ کا عظیم اصلاحی منصوبہ‘‘ اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے ان اوصاف اور ان جیسے دوسرے اوصاف کو ذکر کیا ہے، جیسے:

کتاب و سنت کا علم

خشوع و خضوع سے بھر پور عبادت

حکومت و دنیاوی امور سے بے رغبتی

ہر قریب اور دور، چھوٹے اور بڑے، مالدار اور غریب پر دل کھول کر خرچ کرنا، چنانچہ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنا، دینا، مہمان نوازی کرنا، سخاوت سے کام لینا، آپ کے فطری اوصاف تھے۔

اسیدنا حسنؓ ہی کے بارے میں شاعر نے کہا ہے:

إنی لتُطربنی الخلال کریمۃ

طرب الغریب بأوبۃ و تلاق

’’ گھر لوٹنے اور اہل و عیال سے ملاقات پر غریب الدیار کی خوشی کی طرح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عمدہ خصلتیں مجھے خوش کر رہی ہیں۔‘‘

و یہزُّنی ذکرُ المروئَ ۃ والندی

بین الشمائل ہِزۃَ المشتاق

’’آپؓ کی مروت و سخاوت جیسی عادتوں کے تذکرے پر میں عاشق کے مانند جھومنے لگتا ہوں۔‘‘

فاذا رُزِقتَ خلیفۃ محمودۃ

فقد اصطفاک مقسم الأرزاق

فالناس ہذا حظہ مال، و ذا

علم و ذاک مکارم الأخلاق

’’لوگوں کے نصیبے مختلف ہوئے ہیں، کچھ کے نصیبہ میں مال، کچھ کے نصیبہ میں علم، اور کچھ کے نصیبہ میں اچھے اخلاق ہوتے ہیں۔‘‘

آپ کے درج ذیل صفات پر بھی گفتگو کی ہے:

آپ کی بردباری

آپ کی خاکساری و تواضع

آپ کی سرداری و سیادت

سیادت کے مفہوم کو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیرت کی روشنی میں واضح کیا ہے، اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ سیادت ظلم و زیادتی، خونریزی، اور دوسروں کی عزت و دولت کو برباد کرکے نہیں حاصل ہوتی، بلکہ سیادت اس کے اصولوں کی رعایت، بغض و حسد اور دشمنی کے ازالے سے حاصل ہوتی ہے، چنانچہ آپؓ کی مصالحت اور مسلمانوں کے خون کی حفاظت نے آپؓ کو سیادت کے اعلیٰ مقام پر پہنچا دیا۔

میں نے کتاب میں درج ذیل موضوعات پر بھی بحث کی ہے:

سیدنا حسنؓ کی اجتماعی زندگی

سیدنا حسنؓ کی جانب سے باطل عقائد کی تردید

لوگوں کی ضرورتوں کا خیال رکھنا

نبوی حسب و نسب پر اسیدنا حسنؓ کی غیرت

آپؓ کو تکلیف پہنچانے والے کے ساتھ آپؓ کا تعامل

لوگوں کے ساتھ آپؓ کا حسن خلق

بے ہودہ باتوں سے آپؓ کا اجتناب

اسلامی معاشرے کے بڑے لوگوں کی جانب سے آپؓ کی تعریف

سیدنا حسنؓ کے بہت سارے اقوال، خطبے اور مواعظ نیز ہم ان سے اپنی موجودہ زندگی میں کس طرح استفادہ کرسکتے ہیں۔

سیدنا حسنؓ کے اردگرد رہنے والی شخصیتوں کے لیے ایک بحث خاص کردی ہے، ان میں سے قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہیں، وہ سیدنا حسنؓ کے ہاتھوں پر پہلے بیعت کرنے والے ہیں۔ وہ اپنے زمانے کے دور اندیش لوگوں میں سے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی فوج کے اہم ترین سپہ سالاروں میں سے ہیں۔

ان میں سے عبید اللہ بن عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما ہیں، وہ سیدنا حسنؓ کی فوج کی سپہ سالاروں میں سے اور سیدنا حسنؓ کے والد کے گورنروں میں سے ہیں، تاریخ کی بعض کتابوں نے جھوٹ اور بہتان تراشی کے ذریعے سیدنا حسنؓ کے کردار کو مشکوک کیا، اس لیے میں نے آپؓ کی شخصیت کو منتخب کرکے آپؓ کے مواقف کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔

انھی شخصیات میں سے عبداللہ بن جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ ہیں، وہ آپؓ کے مستشار تھے، چنانچہ آپؓ نے انھیں سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مصالحت کے سلسلے میں مشورہ کیا تھا، اور انھوں نے سیدنا حسنؓ کی اس سلسلے میں ہمت افزائی کی تھی، ان شخصیتوں کی سیرت کے توسط سے اس زمانے کے صحیح احوال کی آگاہی حاصل کرسکتے ہیں۔

میں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی مصالحت کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے، اور اس کو ایک عظیم اصلاحی منصوبہ قرار دیا ہے، اسی لیے میں نے ذکر کیا ہے کہ آپؓ نے وہ منصوبہ کس طرح بنایا اور کس طرح اس کو نافذ کیا، مصالحت سے متعلق درج ذیل امور کو ذکر کیا ہے:

مصالحت کے مختلف مراحل

ہر مرحلے میں کیا پیش آیا؟

مصالحت کے اہم اسباب، جیسے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی جانب سے آخرت کی ترجیح، مسلمانوں کے خون کی حفاظت، اتحاد امت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اثبات وغیرہ جیسے اسباب۔

سیدنا حسنؓ کے ان اقوال کی توضیح جو مصالحت کے اسباب میں سے تھے، اور مقاصد شریعت سے متعلق آپ کی گہرائی و گیرائی کا پتہ دیتے ہیں۔

اسیدنا حسنؓ کے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین مصالحت کے شرائط اور اس کے نتائج۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہوجانا، سیدنا حسنؓ کا ایک قوت سے بھرپور اقدام تھا نہ کہ کوئی اور چیز جیسا کہ بعض مورخین کا خیال ہے۔

زندگی کے مختلف تصرفات و مواقف کے توسط سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عظمت کا ظہور، ان اہم تصرفات میں سے عظیم اصلاحی منصوبہ کی پلاننگ اور اس کی تنفیذ پر بے مثال قدرت، بہت سارے لوگ اصلاحی منصوبے اور نظریات رکھتے ہیں، لیکن انھیں لوگوں کے سامنے پیش کرنے اور ان کی تنفیذ سے قاصر رہتے ہیں۔

صفحہ 3 از 5