مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 5

آپ کی خلافت حقیقت میں خلافت راشدہ تھی۔ آپ کی مدت حکومت خلافت راشدہ کی مدت کا تتمہ تھی اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ خلافت راشدہ تیس سال رہے گی پھر بادشاہت ہو جائے گی، جیسا کہ امام ترمذیؒ نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اَلْخَلَافَۃُ فِیْ أُمَّتِیْ ثَـلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ مُلکٌ بَعْدَ ذٰلِکَ۔

(سنن الترمذی مع شرحہا: تحفۃ الاحوذی: جلد 6 صفحہ 395، 397) حدیث حسن ہے۔)

’’میری امت میں خلافت تیس سال رہے گی پھر اس کے بعد بادشاہت ہوگی۔‘‘

ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس حدیث پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت پر تیس سال پورے ہوجاتے ہیں، سیدنا حسنؓ ربیع الاول 41ھ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہوتے ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے لے کر اس وقت تک پورے تیس سال ہوتے ہیں، سیدنا حسنؓ کی وفات ربیع الاول 11ھ میں ہوئی تھی، اس طرح کی پیشین گوئی نبوت کی واضح دلیل ہے۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 134) 

اس طرح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پانچویں خلیفہ راشد ہیں۔

(مأثر الأنافۃ: جلد ض صفحہ 105، مرویات خلافۃ: معاویۃ خالد الغیث: صفحہ 155)

امام احمدؓ نے حدیث سفینہ کو ان الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے:

اَلْخَلَافَۃُ ثَـلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ یَکُوْنُ بَعْدَ ذٰلِکَ الْمُلْکُ۔

( فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 745اس کی اسناد حسن ہے۔)

’’خلافت تیس سال رہے گی، پھر اس کے بعد بادشاہت ہوگی۔

امام ابو داؤدؒ نے ان الفاظ میں روایت کی ہے:

خِلَافَۃُ النُّبُوَّۃِ ثَـلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُؤتِی اللّٰہُ الْمُلْکَ مَنْ یَّشَائُ أَوْ مُلْکَہُ مَنْ یَّشَائُ۔

(صحیح سنن: ابی داؤد: جلد 3 صفحہ 779، سنن ابی داؤد: جلد 2 صفحہ 515) 

’’خلافت نبویہ تیس سال ہوگی پھر اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا بادشاہت عطا کرے گا یا جسے چاہے گا اسے اس کا مالک بنا دے گا۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تیس سالوں میں صرف خلفائے اربعہؓ اور سیدنا حسنؓ کی مدت پوری ہوتی ہے، اور بہت سارے اہل علم مذکورہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت کے چند مہینے خلافت راشدہ میں شامل ہیں اور اس کو مکمل کرنے والے ہیں۔

اس سلسلے میں بعض اہل علم کے اقوال درج ذیل ہیں:

1۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے فرمایا:

’’تیس سالوں سے مراد چاروں خلفاء کی مدت خلافت اور وہ چند مہینے ہیں جن میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر بیعت کی گئی تھی، اور حدیث کے اس ٹکڑے میں الخلافۃ ثلاثون سنۃ خلافت سے مراد خلافت نبوت ہے، جیسا کہ دوسری روایت میں اس کی صراحت آتی ہے:

خِلَافَۃُ النُّبُوَّۃِ بَعْدِیْ ثَـلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا۔

(شرح النووی علی: صحیح مسلم: جلد 12 صفحہ 201)

’’خلافت نبوت میرے بعد تیس سال ہوگی پھر بادشاہت ہوگی۔‘‘

2۔ شرح الطحاویہ میں ابوالعز حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت دو سال تین مہینہ رہی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت ساڑھے دس سال رہی، سیدٹ عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت بارہ سال رہی، سیدنا علی کی خلافت چار سال نو مہینے رہی اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت چھ مہینے رہی۔‘‘ 

(شرح الطحاویۃ: صفحہ 545)

3۔ ابن کثیر رحمہ اللہ کا قول ہے:

سیدنا حسنؓ کے خلفائے راشدینؓ میں سے ہونے کی دلیل وہ حدیث ہے جس کو میں نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ سفینہ کے طریق سے نقل کیا ہے: ’’اَلْخِلَافَۃُ بَعْدِیْ ثَـلَاثُوْنَ سَنَۃ‘‘ (خلافت میرے بعد تیس سال ہوگی) اور تیس سال سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت پر پورے ہوتے ہیں۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 1 صفحہ 134)

4۔ ابن حجر ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:

’’آپ اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق آخری خلیفہ راشدؓ ہیں، سیدنا حسنؓ اپنے والد کے بعد اہل کوفہ کی بیعت سے خلیفہ ہوئے، اور چھ مہینہ چند دن اس حدیث کے مطابق خلیفۂ برحق اور سچے اور عادل امام رہے جس میں سیدنا حسنؓ کے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اَلْخِلَافَۃُ بَعْدِیْ ثَـلَاثُوْنَ سَنَۃً ‘‘

(الصواعق المحرقۃ علی أہل الرفض والضلال والزندقۃ: جلد 2 صفحہ 397)

(خلافت میرے بعد تیس سال ہوگی) اور وہ چھ مہینے تیس سال کا تکملہ ہیں۔ ‘‘

(عقیدۃ أہل السنۃ فی الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 748)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے خلفائے راشدینؓ میں سے ہونے کے سلسلے میں یہ بعض اہل علم کے اقوال ہیں، چنانچہ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت برحق تھی، اور وہ اس خلافت نبوت کا تکملہ تھی جس کے بارے میں آپ نے خبر دی ہے کہ اس کی مدت تیس سال ہوگی۔ 

(عقیدۃ أہل السنۃ فی الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 748)

اس کتاب میں میں نے بیان کا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی جانب کچھ خطبے منسوب ہیں جو درست نہیں ہیں، اور بعض کتابوں کے بارے میں اہل علم کے اقوال کو ذکر کیا ہے، مثال کے طور پر ابوالفرج اصفہانی کی کتاب ’’الأغانی‘‘

اس کتاب کا شمار ان کتابوں میں ہے جنھوں نے اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخ کو مسخ کرکے رکھ دیا ہے، یہ کتاب ادب، قصے کہانیوں، گانوں اور بے حیائی کی باتوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کا علم و تاریخ اور فقہ سے کوئی تعلق نہیں، اہل ادب و تاریخ کے نزدیک اس کی گونج رہی ہے۔

اصفہانی کے غیر ثقہ، ضعیف اور نقل میں متہم ہونے کے سلسلے میں اہل علم کے اقوال کو ذکر کیا ہے اور واضح دلیلوں سے ثابت کیا ہے کہ یہ کتاب علم و ادب اور تاریخ میں کسی طرح مرجع نہیں بن سکتی، ہماری تاریخ کے بگاڑنے میں اس کتاب کا بڑا رول رہا ہے، اس لیے اس سے دور رہنا لازم و ضروری ہے۔ عہد صحابہؓ کی تاریخ کو بگاڑنے والی بہت ساری کتابیں ہیں اکثر کی سند اور متن غیر قابل قبول ہے، اس لیے کہ تبع تابعین کے عہد کے بعد ان کی تصنیف ہوئی ہے۔

صفحہ 2 از 5