اپنی بات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اپنی بات

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 5 از 6

میں تمام آل و اصحابؓ کی محبت و  عظمت کو جزو ایمان سمجھتا ہوں اور ان میں سے کسی ایک بزرگ کی تنقیص کو خواہ اشارے کنائے کے رنگ میں ہو، سلب ایمان کی علامت سمجھتا ہوں یہ میرا عقیدہ ہے اور میں اسی عقیدے پر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونا چاہتا ہوں۔

(اختلافات امت اور صراط مستقیم صفحہ 24 تحت شیعہ و سنی اختلافات)

امام رازی رحمۃاللہ شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمۃاللہ اور حضرت مرشدی شهید قدس سرہ کی یہ عبارات آب زر سے لکھنے کے لائق ہیں:

اور اس گزرے ہوئے دور میں جب ہر طرف کامل رہزن اور قاتل رہبر جو ایمان کے قاتل ہیں، دندناتے پھر رہے ہیں، آنے والے لوگوں کے لیے مشعل راہ بھی ہے

اللہ پاک ہمارا خاتمہ بھی انہی عقائد و اعمال پر فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلينﷺ.

ایک اور قابل غور بات عرض کروں کہ جب مصنف نام و نسب کے مزاج و مذاق کے خلاف ان کے مخالفین کو ہی تاریخی حوالے یہ عبارت پیش کرتے ہیں، خود راقم الحروف کا اس مخصوص عبارت سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ اجمالی گفتگو ہے تو وہ بجائے جواب دینے کے ارقام فرماتے ہیں:

یہ سب من گھڑت داستانیں اور خارجیوں کی کتب سے مستعار زہریلے مواد کی پچکاریاں ہیں، جنہیں کوئی سليم العقل انسان تسلیم نہیں کر سکتا۔ (نام و نسب: صفحہ 537)

 یہی اصول مصنف کو صحابی رسول اللہﷺ پر اعتراض کرتے وقت کیوں یاد نہیں رہتا؟ اور وہ کیوں نہیں کہتے کہ یہ سب من گھڑت داستانیں اور رافضیوں کی کتب سے مستعار زہریلے مواد کی پچکاریاں ہیں، جنہیں کوئی سليم العقل انسان تسلیم نہیں کر سکتا؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہل بیت کے بارے میں جناب کے مؤقف میں دو رنگی کیوں ہے ؟

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں

خصوصاً حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دو تحقیق شدہ روایات کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔

اس کی دو وجوہات ہیں:

کیونکہ ان کے خلاف ان کے زمانے ہی سے طوفانی پروپیگنڈا شروع ہو گیا تھا۔ کسی نے سیدنا امیر معاویہؓ سے پوچھا کہ آپ پر بہت جلدی بڑھاپا طاری ہو گیا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟

تو فرمایا:

كَيْفَ لَا، وَلَا أَزَالُ أَرَى رَجُلًا مِنَ الْعَرَبِ قَائِمًا عَلَى رَأْسِي يُلَقَّحُ لِي كَلَامًا مَا يَلْزَمُنِي جَوَابُهُ، فَإِنْ أَصَبْتُ لَمْ أَحْمَدُ، وَإِنْ أَخْطَأْتُ سَارَتْ بِهَا الْبُرُودُ.

(البدایہ والنہایہ: جلد 8 صفحہ 140 سنہ 60 ہجری، تحت هذه ترجمۃ: معاویہؓ و ذکر شیء من أيامه و ماورد في مناقبہ و فضائلہ)

ترجمہ: کیوں نہ ہو؟ ہر وقت عرب کا کوئی شخص میرے سر پر کھڑا رہتا ہے جو ایسی باتیں کرتا ہے جن کا جواب دینا لازم ہو جاتا ہے اگر میں کوئی صحیح کام کروں تو تعریف نہیں کرتا، اور اگر مجھ سے غلطی ہو جائے تو اسے اونٹنیاں (ساری دنیا میں) لے اڑتی ہیں۔

2: بنو امیہ کے بعد 132ھ مطابق 749ء میں عہد بنو عباس شروع ہوا جس کا بانی ابو العباس السفاح تھا اس نے اور اس کے جانشینوں نے بنو امیہ سے اپنی مثالی عداوت کا ثبوت دیا اور اکابر بنو امیہ کی قبروں تک اکھاڑ دیں اور خلفائے بنو امیہ کی اولادوں اور ان کے حامیوں کو چن چن کر قتل کیا معروف عباسی خلیفہ مامون الرشید نے تو یہاں تک اعلان کر دیا تھا:

بَرِئَتِ الذِّمَّةُ مِمَّنْ ذَكَرَ مُعَاوِيَةَ بِخَيْرٍ.

(دول الاسلام: جلد 1 صفحہ 129 تحت سنۃ 211ھ)

ترجمہ: جو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر خیر کے ساتھ کرے گا، ہم اس سے بری الذمہ ہیں۔

 یہی بات مصنف کے ممدوح مؤرخ علامہ مسعودی نے اپنی کتاب مروج الذهب جلد 4 صفحہ 40 ذکر ایام المأمون نداء المأمون في أمر معاویہ وسببہ میں لکھی ہے۔

وفى سنته اثنتى عشرة ومائتين نادى منادى المأمون:

برئت الذمة من أحد من الناس ذكر معاوية بخير أو قدمه (على أحد) من أصحاب رسول اللہ ﷺ۔

(مروج الذہب: جلد 4 صفحہ 40، ذکر ايام المأمون، نداء المأمون في أمر معاویہ و سببہ)

ترجمہ: 212ھ میں مامون نے منادی کرائی کہ جو شخص معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر خیر کے ساتھ کرے گا یا اس کو کسی صحابی پر مقدم جانے گا، حکومت اس سے بری الذمہ ہے۔

یہی دور اسلامی تاریخ کا دردناک دور تھا سو اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ اس دور میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے محامد و محاسن کو مؤرخین کس طرح بیان کر سکتے تھے، یا ان کی اسلام و اہل اسلام کے لیے کس طرح مدوّن کر سکتے تھے، الا ماشاء اللہ۔

معروف ندوی مؤرخ مولانا شاہ معین الدین ندویؒ مرحوم لکھتے ہیں: بنی عباس کی حکومت قائم ہوئی، یہ سب بنو امیہ کے سخت دشمن تھے اس لیے بنو امیہ کی مخالفت میں جو صدا سیدنا امیر معاویہؓ کے عہد میں اٹھی تھی، وہ بنی عباس کے پورے دور حکومت تک برابر گونجتی رہی، بلکہ اس کا غلغلہ اور زیادہ بلند ہو گیا اور بنی عباس کی حکومت وہ تھی جس کا سکہ مشرق سے مغرب تک رواں تھا اس لیے سیدنا امیر معاویہؓ کے مثالب ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیل گئے۔ اسی زمانے میں تاریخی نویسی کا آغاز ہوا اس لیے ایسی بہت سی غلط روایتیں جو عرصے سے زبانوں پر چڑھی چلی آ رہی تھیں، تاریخوں میں داخل ہو گئیں، کیونکہ ایسے ابتدائی دور میں جب کہ تاریخ نویسی کا آغاز ہوا تھا، روایات کی اتنی تحقیق و تنقید جس سے افسانے و حقائق میں پورا پورا امتیاز ہو سکے، مشکل تھی گویا بہت سی بےسروپا روایتیں جن کا لغو ہونا بالکل عیاں تھا، تنقید سے مسترد ہو گئیں، پھر بھی بہت سے غلط واقعات تاریخ کا جزو بن گئے۔

(سیر الصحابہ: جلد 6 صفحہ 93، 94 حالات امیر معاویہؓ)

العواصم من القواصم کے محشی اور معروف مصری فاضل و محقق محب الدين الخطيب رحمۃاللہ متوفی 1390ھ، فرماتے ہیں:

إِنَّ التَّارِيخَ الْإِسْلَامِي لَمْ يَبْدَأَ تَدْوِينُهُ إِلَّا بَعْدَ زَوَالِ بَنِي أُمَيَّةَ وَقِيَامِ دُوَلِ لَا يَسْرُّ رِجَالَهَا التَّحَدَّثُ بِمَفَاخِرِ ذَلِكَ الْمَاضِي وَمَحَاسِنِ أَهْلِهِ، فَتَوَلَّى تَدْوِينَ تَارِيخ الْإِسْلَامِ ثَلَاثُ طَوَائِفَ: طَائِفَةٌ كَانَتْ تَنْشُدُ الْعَيْشَ وَالْجِدَّةَ مِنَ التَّقَرُّبِ إِلَى مُبْغِضِى بَنِي أُمَيَّةَ بِمَا تَكْتُبُهُ وَتُؤَلِّفُهُ.

صفحہ 5 از 6