اپنی بات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اپنی بات

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 4 از 6

ترجمہ: سیدنا علیؓ، سیدنا طلحہؓ، سیدنا زبیرؓ، سیدہ عائشہ صدیقہؓ، اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ساتھ جنگ کے بارے میں امام احمد بن حنبلؒ کا قول یہ ہے کہ اس بارے میں سکوت بہتر ہے بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان ہونے والے اختلافات، جھگڑے اور ناراضگیوں میں سکوت ہی ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے درمیان ہونے والے تمام اختلافات کو دور فرمائیں گے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اور نکال دیں گے ہم نے جو ان کے جیوں میں تھی خفگی، بھائی ہو گئے، تختوں پر بیٹھے آمنے سامنے۔

تو جس صحابی کے متعلق حضرت غوث الاعظم رحمۃ اللہ کے یہ جذبات ہوں کہ وہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے گھوڑے کی سم سے اٹھی ہوئی گرد کو بھی باعثِ سعادت و نجات سمجھتے ہوں اور مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر گفتگو سے منع فرماتے ہوں، تو اب حضرت غوث الاعظم رحمۃاللہ سے بے پناہ محبت کا دعویٰ رکھنے کے باوجود آج کے چند نادان لوگ حضرت غوث الاعظم رحمۃ اللہ کی وصیت و نصیحت کے بعد بھی سیدنا امیرِ معاویہؓ کی تنقیص کرتے ہوں، بلکہ انہیں بدعتی کہنے تک سے نہ چوکتے ہوں، تو وہ خود اور ان کے تحریر شدہ اوراق بارگاہِ غوثیت میں کب شرفِ قبولیت سے سرفراز ہو سکتے ہیں؟

حضرت سیدنا غوث الاعظم قدس سرہ تو اپنی دعا کے آخر میں یہ شعر پڑھا کرتے تھے:  

وَمَنْ يَتْرُكِ الْآثَارَ قَدْ ضَلَّ سَعْيُهُ، وَهَلْ يَتْرُكُ الْآثَارَ مَنْ كَانَ مُسْلِمًا؟

(قلائد الجواہر فی مناقب شیخ عبد القادر: صفحہ 41 تحت ادعیہ رضی اللہ عنہ)

ترجمہ: جو شخص سلفِ صالحین کے نشانِ قدم کو چھوڑ دے، اس کی محنت رائیگاں جاتی ہے۔ اور کیا کوئی مسلمان سلفِ صالحین کے آثار و نشانات کو چھوڑ سکتا ہے؟  

پھر مصنفِ نام و نسب نے اس باب میں کوئی نئی تحقیق نہیں فرمائی بلکہ انہی سابقہ اعتراضات کو اپنے ہم مذہب پیشروؤں، مثلاً مودودی صاحب اور روافض کی کتابوں سے سرقہ کیا ہے، جن کے مسکت اور دندان شکن جوابات سے اکابر علمائے اسلام بہت پہلے ہی فارغ ہو چکے ہیں۔

بہ ہر رنگ کہ خواہی جامہ می‌ پوشی،  

من اندازِ قدت رامی‌ شناسم

ترجمہ: تو جس رنگ کا چاہے جامہ پہن، میں تیرے قد و قامت کا انداز پہچانتا ہوں۔

اب تو جواب الجواب کی باری تھی اور ہے مصنف نام و نسب اس باب میں ہمت فرماتے تو پھر ہم کہتے کہ ہاں تاجدار، آپ بھی ہیں نہیں، بعد کیا فرما رہے ہیں آپ؟ پھر مصنف نے اپنی کتاب میں جا بجا محمود احمد عباسی اور حکیم فیاض عالم صدیقی کا رد کیا ہے کہ ان دونوں نے اہلِ بیتؓ کی شان میں گستاخی کی ہے اگر وہ گستاخی کے مرتکب ہوئے ہیں تو جناب، کیا آپ راہِ اعتدال پر ہیں؟ انہوں نے اہلِ بیتؓ کی شان میں گستاخی کی، آپ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخی کی گستاخی میں تو آپ دونوں برابر ہیں۔ گویا:  

تھیں میری اور رقیب کی راہیں جدا  

آخر کو دونوں ہم درِ جاناں پہ جا ملے

حدیثِ شریف میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نجومِ رشد و ہدایت بتایا گیا ہے اور حضرات اہلِ بیتؓ کو سفینہِ نجات و فلاح۔  

سو آنحضرتﷺ کے فرمانِ عالیہ کے مطابق اہلِ سنت والجماعت حضرات اہلِ بیتِ عظامؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دونوں کی محبت کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ جو سفینہِ اہلِ بیتؓ سے دور ہو گا وہ بحرِ ضلالت میں غرق ہو جائے گا، اور جو سفینہِ اہلِ بیتؓ میں سوار ہو کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے نجومِ ہدایت کی ضیا پاشیوں سے محروم ہو گا وہ بھی بحرِ ضلالت میں غرق ہو گا کیونکہ سمندر میں اندھیرے اور تاریکی میں ستاروں کی روشنی ہی مسافر کی رہنمائی کا ذریعہ بنتی ہے۔

حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ، متوفیٰ 1014ھ، نے مرقات شرح مشکوٰۃ میں امام فخر الدین رازیؒ، متوفی 606ھ، کے یہ جملے نقل کیے ہیں جو بحمدللہ تعالیٰ اہلِ سنت والجماعت کا طرہِ امتیاز ہیں:  

نَحْنُ مَعْشَرَ أَهْلِ السُّنَّةِ بِحَمْدِ اللَّهِ تَعَالَى رَكِبْنَا سَفِينَةَ مَحَبَّةِ أَهْلِ الْبَيْتِ وَاهْتَدَيْنَا بِنَجْمِ هُدَى أَصْحَابِ النَّبِیﷺ، فَنَرْجُو النَّجَاةَ مِنْ أَهْوَالِ الْقِيَامَةِ وَدَرَكَاتِ الْجَحِيمِ وَالْهِدَايَةَ إِلَى مَا يُوجِبُ دَرَجَاتِ الْجِنَانِ وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ۔

(مرقات المفاتیح: جلد  10 صفحہ 553 کتاب المناقب والفضائل، باب مناقب اہلِ بیت النبیﷺ)

ترجمہ: ہم گروہِ اہلِ سنت بحمدللہ محبتِ اہلِ بیتِ عظامؓ کے سفینہ میں سوار ہیں اور اصحابِ نبیﷺ کے نجمِ ہدایت سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں اس لیے امیدوار ہیں کہ کل قیامت کی ہولناکیوں اور جہنم کے طبقات سے ہمیں نجات ملے گی اور وہ ہدایت ہمیں عطاء ہو گی جو جنت کے درجات اور دائمی نعمت کو واجب قرار دیتی ہے۔  

شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ متوفیٰ 728 ہجری، فرماتے ہیں:  

وَأَمَّا أَهْلُ السُّنَّةِ فَيَتَوَلَّوْنَ جَمِيعَ الْمُؤْمِنِينَ، وَيَتَكَلَّمُونَ بِعِلْمٍ وَعَدْلٍ، لَيْسُوا مِنْ أَهْلِ الْجَهْلِ وَلَا مِنْ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ، وَيَتَبَرَّءُونَ مِنْ طَرِيقَةِ الرَّافِضَةِ وَالنَّوَاصِبِ جَمِيعًا، وَيَتَوَلَّوْنَ السَّابِقِينَ الْأَوَّلِينَ كُلَّهُمْ، وَيَعْرِفُونَ قَدْرَ الصَّحَابَةِ وَفَضْلَهُمْ وَمَنَاقِبَهُمْ، وَيَرْعَوْنَ حُقُوقَ أَهْلِ الْبَيْتِ الَّتِی شَرَعَهَا اللَّهُ لَهُمْ۔ 

(منہاج السنۃ: جلد 1 صفحہ 165 مطلب: کذب المصنف الإمامی، تحت الوجہ الخامس)

ترجمہ: اور اہلِ سنت تمام مؤمنین کی دوستی کا دم بھرتے ہیں، اور علم و عدل کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں وہ نہ اہلِ جہل میں سے ہیں نہ اہلِ ہوا میں سے وہ روافض اور نواصب دونوں کے طریقے سے بیزار ہیں تمام سابقینِ اولین کے معتقد ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قدر و منزلت کی شناسا، قدردان اور معترف اور ان کے مناقب کے قائل ہیں اور اس سب کے ساتھ اہلِ بیتِ کرام رضی اللہ عنہم کے حقوق کی ادائیگی ضروری سمجھتے ہیں جو شریعت سے ثابت ہیں۔

اس ناکارہ کے پیر و مرشد، سیّدی و مولائی، حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ شہید، متوفی 1421ھ، فرماتے ہیں: 

صفحہ 4 از 6