اپنی بات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اپنی بات

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 3 از 6

اتباعِ سلفِ صالحین، تعظیمِ اصحابِ رسولﷺ اور حبِّ آلِ بتول رضی اللہ عنہم کی تلقین سے مصنف "نام و نسب" کی نہ زبان ہار مانتی ہے اور نہ ہی قلم سپر انداز ہوتا ہے، مگر جب باری اپنے عمل کی آتی ہے تو نہ معلوم یہ نصیحت خود اپنے لیے فضیحت کیوں بن جاتی ہے؟ لینے اور دینے کا معیار الگ الگ کیوں ہو جاتا ہے؟ موصوف نے جس انداز سے تردیدِ ناصبیت کی آڑ میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کی تنقیص کی ہے، اس سے وہ بالکل شیعوں کے ہم نوا و ہم رنگ نظر آتے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ شیعہ سیدنا امیرِ معاویہؓ پر اعتراضات لفظ "معاویہؓ" لکھ کر کرتے ہیں، لیکن مصنف نے اعتراضات "جناب معاویہؓ" لکھ کر وارد کیے ہیں۔ جن پر ہم مصنف "نام و نسب" پر یہ شعر پڑھتے ہیں:  

وہ تو ہیں کھلے دشمن، ان کا خیر سے کیا ذکر  

دوستی مگر حضرت، آپ کی قیامت ہے

سب سے بڑھ کر دکھ تو یہ ہے کہ مصنف نے سیدنا غوث الاعظم قدس اللہ سرہ العزیز کے نسب شریف پر اعتراض کو اپنی حمیتِ دینی اور غیرتِ خانقاہی کے خلاف سمجھتے ہوئے پانچ سال کی مسلسل محنت کے بعد ان اعتراضات کا جواب 946 صفحات کی کتاب کی صورت میں دیا ہے جس پر نہ ہمیں کوئی شکایت ہے اور نہ تکلیف، بلکہ اگر مصنف اس کتاب میں صحابیِ رسولﷺ کی شان میں گستاخی کے مرتکب نہ ہوتے تو ہم کیا، ہر مسلمان اس فرضِ کفایہ کی ادائیگی پر ان کا شکر گزار ہوتا۔ لیکن اسی کتاب میں مصنف نے پورا باب قائم کر کے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی شان میں گستاخیاں اور اعتراضات کیے ہیں حالانکہ سیدنا امیرِ معاویہؓ صحابی ہیں اور سیدنا غوث الاعظم رحمۃاللہ ولی اللہ ہیں مقامِ ولایت کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو، مقامِ صحابیت کا عشرِ عشیر بھی نہیں ہے۔

حضرت شیخ مجدد الف ثانی رحمۃاللہ متوفی 1024ھ، فرماتے ہیں:  

وَفَضِيلَةُ الصُّحْبَةِ فَوْقَ جَمِيعِ الْفَضَائِلِ وَالْكَمَالَاتِ، وَلِهَذَا لَمْ يَبْلُغْ أُوَيْسٌ الْقَرَنِی الَّذِی هُوَ خَيْرُ التَّابِعِينَ مَرْتَبَةَ أَدْنَى مِنْ صَحِبَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، فَلَا تُعَادِلْ بِفَضِيلَةِ الصُّحْبَةِ شَيْئًا كَائِنًا مَا كَانَ، فَإِنَّ إِيمَانَهُمْ بِبَرَكَةِ الصُّحْبَةِ وَنُزُولِ الْوَحْی يَصِيرُ شُهُودِيًّا۔

(مکتوباتِ امام ربانی: دفتر اول، مکتوب 59) 

ترجمہ: اور صحبتِ نبویﷺ کی فضیلت تمام دیگر فضائل و کمالات سے اعلیٰ و بالا ہے اور اس واسطے حضرت اویس قرنی رحمۃاللہ جو خیر التابعین ہیں، کسی ادنیٰ صحابی کے مرتبہ کو بھی نہیں پہنچ سکے پس کسی چیز کو بھی فضیلتِ صحابیت کے ہم پلہ نہ ٹھہراؤ، کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ایمان تو صحبتِ نبویﷺ کی برکت اور مشاہدہِ نزولِ وحی کی وجہ سے شہودی ہو گیا ہے۔

علامہ ابنِ حجر المکی رحمۃاللہ متوفی 974ھ، فرماتے ہیں:  

إِنَّ فَضِيلَةَ صُحْبَتِهِﷺ وَرُؤْيَتِهِ لَا يَعْدِلُهَا شَیءٌ۔ 

(الصواعق المحرقۃ: صفحہ 213، تحت: بیان اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ)

ترجمہ: صحبت و دیدارِ نبویﷺ کے ہم پلہ کوئی چیز نہیں۔  

حضرت شاہ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃاللہ متوفی 944ھ، فرماتے ہیں:  

آرے در اعتقاد است کہ غیرِ صحابی اگرچہ در مرتبہِ رفیعہ رسد و صاحبِ ولایت و صاحبِ تصرف و عطا گردد، بمرتبہِ صحابہ کرامؓ نرسد، کہ فضلِ کلی است و آن فضلِ جزئی با فضلِ کلی برابر نبود۔  (مکتوباتِ قدسیہ: صفحہ 50)

ترجمہ: یہ بات اعتقاد میں شامل ہے کہ غیرِ صحابی اگرچہ ولایت کے بلند مرتبہ پر پہنچ جائے اور صاحبِ تصرف و عطا ہو جائے، پھر بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقام و مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا، کیونکہ صحبتِ نبویﷺ کی فضیلت کو فضیلتِ کلی کا درجہ حاصل ہے اور مقامِ ولایت کو فضیلتِ جزئی کا، اور جزئی فضیلت ہرگز کلی فضیلت کے برابر نہیں ہو سکتی۔ 

مفکرِ اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب اطال اللہ حیاتہ فرماتے ہیں: اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے میں صحابیت خود ایک شرف ہے جو کسی علمی کمال یا عملی محنت پر مبنی نہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ اور امام مالک رحمۃاللہ کا علم ہو یا حضرت جنید بغدادی رحمۃاللہ اور حضرت بایزید بسطامی رحمۃاللہ کا عمل، کوئی کمال صحابیت کے برابر ہی نہیں کر سکتا۔

(میعارِ صحابیت: صفحہ، 27 تحت صحابیت خود ایک شرف ہے)

اس قدر فضائل کے بعد ایک ولی کی صفائی پیش کرنے کو اپنے لیے باعثِ نجات سمجھنا اور صحابیِ رسول اللہﷺ کی توہین و تنقیص کرنا، بلکہ دانت پیستے ہوئے یہ کہنا:

کہ ہمیں حضرت امیرِ معاویہؓ کے بارے میں درجہِ صحابیت کا لحاظ ہے،(نام ونسب: صفحہ، 533)

 یہ بات جلیل القدر صحابی کے لیے سزاوار ہے؟ اور تکریمِ صحابہؓ کا اسی کا نام ہے؟ پھر اس پر یہ دعا کرنا: 

خدا کرے میری یہ سعیِ ناچیز بارگاہِ غوثیت میں شرفِ قبولیت سے سرفراز ہو اگر ان کی نگاہ اسے درخورِ اعتنا سمجھے تو پھر کہیں گے: ہاں تاجدار، ہم بھی ہیں۔(نام ونسب: صفحہ، 533)

سیدنا غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ، متوفی 561ھ، حضرت امیرِ معاویہؓ کے متعلق فرماتے ہیں:  

اگر در رہِ گزر حضرتِ معاویہؓ بنشینم و گردِ سمِ جناب بر من افتد، باعثِ نجات می‌شناسم۔ 

(امداد الفتاویٰ: جلد، 4 صفحہ، 133)

ترجمہ: اگر میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کے راستے میں بیٹھ جاؤں اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے گھوڑے کا ابھار مجھ پر پڑے تو میں اسے اپنی نجات کا وسیلہ تصور کرتا ہوں۔

اسی طرح حضرت غوث الاعظم رحمۃ اللہ مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق ارقام فرماتے ہیں:  

وَأَمَّا قِتَالُهُ لِطَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ وَعَائِشَةَ وَمُعَاوِيَةَ فَقَدْ نَصَّ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللَّهُ الْإِمْسَاكَ عَنْ ذَلِكَ، وَجَمِيعِ مَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ مِنْ مُنَازَعَةٍ وَمُنَافَرَةٍ وَخُصُومَةٍ، لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُزِيلُ ذَلِكَ مِنْ بَيْنِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، كَمَا قَالَ عَزَّ وَجَلَّ: وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرٍ مُتَقَابِلِينَ۔(غنیۃ الطالبین: صفحہ77) 

صفحہ 3 از 6