اپنی بات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اپنی بات

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 2 از 6

ترجمہ: میرے صحابہ میں سے کوئی شخص مجھ تک کسی صحابی کی شکایت نہ پہنچائے، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ تمہاری طرف نکلوں تو سب کی طرف سے میرا سینہ صاف ہو۔

یہ تو حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حکم تھا امت کو حضورِ اکرمﷺ نے وصیت فرمائی:  

اللَّهَ اللَّهَ فِی أَصْحَابِی، اللَّهَ اللَّهَ فِی أَصْحَابِی، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِی۔

(ترمذی: جلد 2  صفحہ 225، باب: من سب اصحاب النبی ﷺ۔ ابو داود: جلد 2  صفحہ 311، کتاب الادب)

ترجمہ: اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے بارے میں۔ میں تمہیں بار کہتا ہوں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں میرے بعد ان کو ہدفِ تنقید مت بنانا۔ جہاں تک سلف صالحین کی بات ہے تو سیدنا امام اعظم ابو حنیفہؒ، 150ھ، جن کی ذات میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام کمالات و صفات کو جمع فرما دیا تھا جو سر بلندیِ دین اور وقارِ اسلام کا باعث ہو سکتا ہے، آپ رحمۃاللہ نے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا آخری زمانہ پایا اور نہایت گہرائی سے ان قدسی صفات اور رشکِ ملائک انسانوں کا نہ صرف مطالعہ کیا بلکہ ان کی صحبت کا فیض اٹھایا آپ ہی کی بدولت سب سے پہلی فقہ اسلامی مدّون ہوئی اور آپ ہی حدیثِ بشارتِ "ثریا" کے اولین مصداق ہیں آپ نے مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر نہایت معقول، جامع اور بصیرت و حقیقت افروز کلام فرمایا ہے۔

امام شمس الدین محمد بن یوسف الصالحی الدمشقی الشافعیؒ، متوفی 947ھ، لکھتے ہیں:  

سُئِلَ أَبُو حَنِيفَةَ عَنْ عَلِی وَمُعَاوِيَةَ وَقَتْلَى صِفِّينَ، فَقَالَ: أَخَافُ أَنْ أُقَدِّمَ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى بِشَیءٍ يَسْأَلُنِی عَنْهُ، وَإِذَا أَقَامَنِی يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْنَ يَدَيْهِ لَا يَسْأَلُنِی عَنْ شَیءٍ مِنْ أُمُورِهِمْ، يَسْأَلُنِی عَمَّا كَلَّفَنِی، فَالِاشْتِغَالُ بِذَلِكَ أَوْلَى۔

(عقود الجمان: صفحہ 305، الباب العشرین فی بعض حکمہ ومواعظہ وآدابہ)  

ترجمہ: ایک شخص نے امام ابوحنیفہ رحمۃاللہ سے حضرت علی المرتضیٰؓ و امیرِ معاویہؓ اور مقتولینِ صفین کے بارے میں سوال کیا امام نے جواب دیا: میں اس سے ڈرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ایسی بات پیش کروں جس کا وہ مجھ سے سوال کرے، اور جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مجھے اپنے سامنے کھڑا کریں گے تو ان حضرت علی المرتضیٰؓ و امیرِ معاویہؓ اور مقتولینِ صفین کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں فرمائیں گے، بلکہ مجھ سے وہ سوال فرمائیں گے جس کا میں مکلف ہوں سو اسی کی تیاری میں مصروف و مشغول رہنا بہتر ہے۔  

سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ جن کی سنت کے اتباع کو موصوف نے ضروری قرار دیا ہے، فرماتے ہیں:  

أَمْرٌ أَخْرَجَ اللَّهُ أَيْدِيَكُمْ مِنْهُ، أَفَتُدْخِلُونَ أَلْسِنَتَكُمْ فِيهِ؟

(طبقات ابنِ سعد: جلد 5 صفحہ 297، تحت: عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ)

ترجمہ: یہ وہ امور ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے تمہارے ہاتھوں کو محفوظ رکھا ہے، تو پھر تم نے اپنی زبانوں کو اس میں کیوں ملوث کرتے ہو؟ 

تِلْكَ دِمَاءٌ كَفَّ اللَّهُ يَدِی عَنْهَا، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ أَغْمِسَ لِسَانِی فِيهَا۔ 

(طبقات ابنِ سعد: جلد 5 صفحہ 307)

یہ وہ خون ہے جس سے اللہ نے میرے ہاتھ کو محفوظ کر رکھا ہے، سو میں پسند نہیں کرتا کہ اپنی زبان کو اس سے آلودہ کروں۔  

امام شافعی رحمۃاللہ متوفی 204ھ، فرماتے ہیں:  

تِلْكَ دِمَاءٌ طَهَّرَ اللَّهُ عَنْهَا أَيْدِيَنَا، فَلْنُطَهِّرْ عَنْهَا أَلْسِنَتَنَا۔(شرح المواقف: جلد 8  صفحہ 374، تحت: المقصد السابع انہ یجب تعظیم الصحابۃ کلھم)

ترجمہ: اس خون سے، جو جنگِ جمل و صفین میں بہا ہے، اللہ نے ہمارے ہاتھوں کو پاک رکھا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنی زبانوں کو بھی اس سے پاک رکھیں۔  

امام ابراہیم نخعی رحمۃاللہ متوفی 95ھ، فرماتے ہیں:  

تِلْكَ دِمَاءٌ طَهَّرَ اللَّهُ عَنْهَا أَيْدِيَنَا، أَفَنُلَطِّخُ أَلْسِنَتَنَا؟

(الناہیۃ : صفحہ 6 فصل فی النھی الذکر التشاجر

یہ وہ خون ہیں جن سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں کو پاک رکھا ہے، کیا اب ہم ان سے اپنی زبانوں کو آلودہ کریں؟

امام حسن بصری رحمۃاللہ متوفی 110ھ، فرماتے ہیں:  

 شَهِدَهُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ ﷺ وَغِبْنَا، وَعَلِمُوا وَجَهِلْنَا، وَاجْتَمَعُوا فَاتَّبَعْنَا، وَاخْتَلَفُوا فَوَقَفْنَا۔

(الجامع الاحکام القرآن للقرطبی: جلد 16 صفحہ 1322، سورۃ الحجرات تحت وان طائفتان من المؤمنین) 

ترجمہ: یہ ایسی لڑائی تھی جس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین موجود تھے اور ہم غیر موجود وہ تمام حالات سے واقف تھے اور ہم غیر واقف جس معاملہ پر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اتفاق ہے ہم اس کی اتباع کرتے ہیں اور جس میں اختلاف ہے اس میں سکوت اختیار کرتے ہیں۔

اس لیے حضرات سلفِ صالحین رحمہم اللہ نے مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر بلا ضرورت گفتگو کرنے سے منع فرمایا ہے لیکن مصنف "نام و نسب" نے حضرت محمدﷺ کے حکم اور سلفِ صالحین کی وصیت کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی دشوار گزار اور پرخار وادی میں برہنہ پا قدم رکھا ہے اور بزعمِ خود اہلِ بیتِ نبوی علیہم الصلوۃ والتسلیمات کی حمایت و محبت میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کی شدید توہین و تنقیص کی ہے۔ حالانکہ سیدنا علی المرتضیٰؓ جن سے مصنف محبت کا دم بھرتے ہیں، انہیں حکم دیا تھا:  

لَا تَقُولُوا فِی أَخِيكُمْ مُعَاوِيَةَ إِلَّا خَيْرًا۔ 

(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 16 فصل ولما قال سلف ان اللہ امر بالاستغفار لاصحاب محمدﷺ)

ترجمہ: تم حضرت امیرِ معاویہؓ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں سوائے کلمہِ خیر کے اور کوئی بات نہ کہو۔

لیکن مصنف غالباً یہ اصول بھول گئے کہ محبت اطاعت کو مستلزم ہوتی ہے لہٰذا مدعیِ محبتِ علی رضی اللہ عنہ کو اتباعِ علی رضی اللہ عنہ بھی لازم ہے:  

لَوْ كَانَ حُبُّكَ صَادِقًا لَأَطَعْتَهُ، إِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ يُحِبُّ مُطِيعُ۔

ترجمہ: اگر تیری محبت میں صداقت ہوتی تو اپنے محبوب کی فرمانبرداری کرتا، کیونکہ محب محبوب کا فرمانبردار ہوتا ہے۔

صفحہ 2 از 6