اپنی بات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اپنی بات

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 6 از 6

ترجمہ: تاریخ اسلامی کی تدوین بنو امیہ کے زوال اور ان حکومتوں کے قیام کے بعد ہی شروع ہوئی جن کا برسر اقتدار طبقہ اپنے اس ماضی کے مفاخر اور اس وقت کے ارباب اقتدار کے محاسن سے خوش نہ تھا چنانچہ تاریخ اسلام کی تدوین تین قسم کے گروہوں نے کی، ان میں سے پہلا گروہ وہ تھا جن کی زندگی کا مقصد بنو امیہ کے بغض و مخالفت کرنا اور ان کے کاموں میں کیڑے نکال کر ان کے دشمنوں بنو عباس کی نگاہ میں تقرب حاصل کرنا تھا۔

(العواصم من القواصم: حاشیہ صفحہ 77)

آگے بڑھنے سے قبل امام اہل سنت مولانا عبد الشكور لکھنوی رحمۃاللہ متوفی 1373ھ کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں، جس میں انہوں نے ناقدینِ امیر معاویہؓ کے تین گروہوں کو بڑی جامعیت اور بالغ نظری کے ساتھ بیان کیا ہے فرماتے ہیں: حضرت امیر معاویہؓ کے حق میں سوء ظن رکھنے والے تین گروہ ہیں۔

اول: روافض، خیر ان کا سوء ظن چنداں باعث تعجب نہیں، کیونکہ وہ ایسے مقدس حضرات کے بارے میں سوء ظن رکھتے ہیں جن کا مثل امت مرحومہ میں ایک بھی نہیں۔

دوسرا گروه: ان جاہل صوفیوں کا ہے جو حضرت علی المرتضیٰؓ کی محبت کا تکملہ حضرت امیر معاویہؓ کی بدگوئی کو سمجھتے ہیں یہ لوگ اپنے آپ کو سنی کہتے ہیں مگر در حقیقت نہ صرف اس امر میں بلکہ بہت سے امور اصول و فروع میں اہل سنت کے مخالف ہیں، بلکہ فرقہ شیعہ میں داخل ہیں۔

تیسرا گروہ: اس زمانے کے بعض اہل ظاہر کا ہے، یعنی بعض روایات میں حضرت امیر معاویہؓ کے مطاعن ان کی نظر سے گزرے اور بوجہ ظاہریت کے ان کی تاویل تک ان کے ذہن کی رسائی نہ ہوئی۔

ان سب میں سب سے زیادہ مضرّت دوسرے گروہ، یعنی جاہل صوفیوں کا ہے۔

(ازالۃ الخفاء: مترجم جلد 1 صفحہ 571 م حاشیہ)

اس تمہیدی کلام کے بعد اب ہم مصنف نام و نسب کے سیدنا امیر معاویہؓ پر بزعم خود وارد کیے ہوئے اعتراضات کے جوابات کی طرف عنان قلم کو موڑتے ہیں۔ والأمر بید اللہ تعالى، وهو الموفق

 لیکن اس سے پہلے ہم مصنف سے یہ کہنا ضرور چاہیں گے:

اتنی نہ بڑھا پاکیزگی داماں کی حکایت

دامن کو ذرا دیکھ ذرا بندِ قبا دیکھ اور بقول خمار بارہ بنکوی

دوسروں پر  اگر تبصرہ کیجیے سامنے آئینہ رکھ لیا کیجیے


صفحہ 6 از 6