حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 6 از 6

ترجمہ: امام باقر علیہ السلام سے روایت ہے یزدگرد (شاہ ایران) کی بیٹی (مال غنیمت) میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی تو مدینہ کی کنواری لڑکیاں اس کو دیکھنے کے لیے آئیں اور جب وہ مسجد میں داخل ہوئیں تو مسجد ان کی روشنی سے چمکنے لگی۔حضرت عمرؓ نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے کہا۔ "افروج باذاہرمز" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ کیا یہ مجھے گالی دیتی ہے؟ اور اس کو سزا دینے کا ارادہ کیا۔ تو امیرالمومنینؓ نے کہا کہ ایسا آپ کو نہ چاہیے۔آپ اس کو اختیار دیجیے کہ جس مسلمان کو چاہے پسند کرے اور اس کو اسی کے حصہ میں سمجھ لیجیے۔ تو حضرت عمرؓ نے اس کو اختیار دے دیا۔ اس نے جا کر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ امیرالمومنینؓ نے پوچھا۔ تمہارا نام کیا ہے؟ اُس نے کہا "جہان شاہ" امیرالمومنینؓ نے فرمایا نہیں بلکہ! شہربانو۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ابو عبداللہ اس سے تمہارا ایک فرزند پیدا ہو گا جو تمام روئے زمین کے لوگوں سے بہتر ہو گا چنانچہ زین العابدین پیدا ہوئے۔ اس حدیث سے حسبِ ذیل امور ثابت ہوتے ہیں:

1۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بارگاہ خلافت میں ہمیشہ باریاب رہتے تھے اور مال غنیمت میں، جو فتوحات عمر رضی اللہ عنہ سے حاصل ہوتا تھا برابر حصہ لیتے تھے۔

2۔ حضرت عمرؓ کو حضرت علیؓ اور آپ کے شہزادہ حضرت حسینؓ سے اس قدر محبت تھی کہ آپ نے شاہی خاندان کی ایک پری جمال خاتون (شہزادی شہر بانو) حضرت حسینؓ کو بخشدی، جو تمام سادات کی جَدّہ علیا ہے۔

3: جناب امیرؓ حضرت عمرؓ کی خلافت کو جائز خلافت اور آپ کو برحق خلیفہ سمجھتے تھے۔ اسی لیے یہ عطیہ قبول کیا۔ ورنہ ایک کافر یا منافق کی فتوحات کا مال غنیمت ایک متقی متورّع مسلمان کو اپنی ذات و اولاد کے لیے لینا ہرگز جائز نہیں ہے۔


صفحہ 6 از 6