سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ عائلی و معاشرتی زندگی اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کا احترام
علی محمد الصلابیاوصافِ حمیدہ
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف کو صیقل کرنے میں ایمان باللہ اور فکر آخرت کی اصل تاثیر تھی اور ایمان ہی نے آپؓ کی شخصیت کو متوازی، با رعب اور پرکشش بنا دیا تھا۔ اسی ایمانی قوت کا نتیجہ تھا کہ آپؓ کی قوت آپؓ کی عدالت پر، سطوت آپؓ کی رحمت پر اور مالداری آپؓ کی تواضع پر غالب نہ آ سکی، اور آپؓ اللہ کی تائید و نصرت کے مستحق ہوئے، آپؓ نے کلمہ توحید کی تمام شرطوں یعنی علم، یقین، قبول ، انقیاد، اخلاص اور محبت کو عملاً پورا کیا، آپؓ کو ایمان اور کلمہ توحید کی حقیقی معرفت حاصل تھی چنانچہ آپؓ کے پختہ ایمان کے اثرات آپؓ کی زندگی میں موقع بموقع سامنے آتے رہے، اس کی چند اہم مثالیں یہاں پیش کی جا رہی ہیں:
خشیت الہٰی اور محاسبۂ نفس:
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اکثر فرماتے تھے: ’’جہنم کو کثرت سے یاد کرو، اس کی گرمی سخت ہے، اس کی گہرائی بہت طویل ہے، اس کا ٹھکانا بہت سخت ہے۔‘‘
(مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 81، 82 امام ذہبی نے اس روایت کی تصحیح کی ہے۔)
ایک دن ایک بدوی آپؒ کے پاس آیا اور کھڑا ہو گیا، پھر یہ اشعار پڑھنے لگا:
یا عمر الخیر جزیت الجنۃ
جہز بنیّاتی وأمہنّہ
’’اے خیر وبھلائی کے جامع عمر! تم بدلہ میں جنت دئیے جاؤ، میری بچیوں اور ان کی ماں کے لیے ساز و سامان مہیا کر دو۔‘‘
اقسم باللہ لتفعلنّہ۔
’’میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں، آپ اسے ضرور بالضرور کریں۔‘‘
آپؓ نے فرمایا: اے اعرابی! اگر میں اسے پورا نہ کر سکوں تو کیا ہو گا؟ اس نے کہا:
أقسم إنی سوف أمضینہ ۔
’’میں حلفیہ کہتا ہوں کہ تب میں چلا جاؤں گا۔‘‘
آپؓ نے کہا: اگر تم چلے جاؤ گے تو کیا ہوگا اے اعرابی! اس نے کہا:
واللہ عن حالی لتَسْأَلنَّہٗ
یوم تکون الأعطیات منّہ
’’اللہ کی قسم! تم سے میری حالت سے متعلق پوچھا جائے گا، پھر وہاں اور بھی بہت سے سوالات ہوں گے۔‘‘
والواقف المسؤل بینہنہ
إما إلی نار و إما جنۃ
’’ذمہ دار کھڑا ہو کر ان سوالوں کا جواب دے گا، پھر ٹھکانا یا تو جہنم ہو گا یا جنت۔‘‘
یہ سن کر سیدنا عمرؓ رو پڑے یہاں تک کہ آنسوؤں سے آپؓ کی داڑھی بھیگ گئی۔ پھر خادم کو مخاطب کر کے فرمایا: اے غلام! اس دن (یعنی روزِ آخرت) کے محاسبہ سے بچنے کے لیے (نہ کہ اس کے شعر پڑھنے کی وجہ سے) اسے میری قمیض دے دو۔ واللہ میرے پاس اس کے علاوہ دوسری قمیض نہیں ہے۔
(فرائد الکلام للخلفاء الکرام: صفحہ 155)
اس طرح حضرت عمر بن خطابؓ بدوی کے شعر سے متاثر ہو کر خوب روئے کیونکہ اس میں اس نے آپؓ کو قیامت کے دن حساب و کتاب کا حوالہ دیا تھا، باوجود یہ کہ آپؓ کو نہیں یاد تھا کہ آپؓ نے کسی پر ظلم بھی کیا ہے۔ پھر بھی آپ پر خشیت الہٰی کا ایسا غلبہ تھا کہ ہر کس و ناکس کی زبان سے روز قیامت کا ذکر سن کر آپؓ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی تھی۔
خوفِ الہٰی کا ہی نتیجہ تھا کہ آپؓ اپنے نفس کا بہت سختی سے محاسبہ کرتے تھے، اگر آپؓ کو احساس ہو جاتا کہ آپؓ نے کسی کی حق تلفی کی ہے تو اسے فوراً بلواتے اور اسے بدلہ لینے کا حکم دیتے، آپؓ لوگوں سے انفرادی ملاقات کرتے، ان کی ضرورتوں کو معلوم کرتے، جب وہ اپنا مطالبہ لے کر آپؓ کے پاس جاتے تو آپؓ اسے پورا کرتے۔ اسی طرح جب آپؓ خود کو کسی عوامی کام کے لیے فارغ کرتے تو مخصوص شکایات پیش کرنے سے لوگوں کو منع کرتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپؓ رعایا کے بعض کاموں میں مشغول تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرے ساتھ چلیں اور فلاں نے مجھ پر ظلم کیا ہے اس پر میری مدد کریں۔ سیدنا عمرؓ نے درّہ اٹھایا اور اس آدمی کے سر پر اتنے زور سے مارا کہ اس کا سر چکرا گیا۔ پھر آپؓ نے فرمایا: اس وقت تم عمر سے شکایت نہیں کرتے جب وہ تمہارے پاس آتا ہے اور جب مسلمانوں کے کام میں مشغول ہو جاتا ہے تب تم اس کے پاس آتے ہو۔ وہ آدمی اپنے آپ کو ملامت کرتے ہوئے واپس جانے لگا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ۔ جب دوبارہ وہ آپ کے سامنے حاضر کیا گیا تو آپؓ نے درّہ اس کے سامنے پھینک دیا اور کہا: درّہ ہاتھ میں لے لو اور میرے سر پر اتنے ہی زور سے مارو جتنا زور سے میں نے تم کو مارا تھا۔ اس نے کہا: ایسا نہیں ہوسکتا، اے امیر المؤمنین! میں اللہ کے لیے اور آپؓ کی عظمت کی وجہ سے اسے درگزر کرتا ہوں، حضرت عمرؓ نے فرمایا: اس طرح نہیں، یا تو اسے اللہ کی رضا کے لیے اور اس سے ثواب کی خاطر معاف کرو یا مجھ سے بدلہ لو۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین میں اللہ کے لیے اسے معاف کرتا ہوں۔ پھر وہ واپس چلا گیا۔ اور حضرت عمرؓ پیدل چل کر اپنے گھر میں داخل ہو گئے۔
(تاریخ بغداد: جلد 4 صفحہ 312) دوسرے لوگ بھی آپؓ کے ساتھ تھے، ان میں احنف بن قیسؓ بھی تھے جنہوں نے آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے۔ پھر آپؓ نے نماز شروع کی اور دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد بیٹھ گئے، پھر خود کو مخاطب کر کے کہا: اے خطاب کے بیٹے! تو بے وقعت تھا، اللہ نے تجھے اونچا مقام دیا، تو گمراہ تھا اللہ نے تجھے ہدایت دی، تو ذلیل تھا اللہ نے تجھے عزت عطا کی، پھر تجھے مسلمانوں کا ذمہ دار بنایا، تیرے پاس ایک آدمی مدد کا طالب بن کر آیا اور تو نے اسے مارا، کل جب تو اپنے ربّ کے سامنے حاضر ہو گا تو اسے کیا جواب دے گا؟ اس طرح آپؓ نے خود کو بہت ملامت کی، میں نے اس وقت یقین کر لیا کہ آپؓ روئے زمین پر اس وقت سب سے نیک آدمی ہیں۔
ایاس بن سلمہؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں بازار میں تھا کہ ادھر سے حضرت عمر فاروقؓ کا گزر ہوا، آپؓ کسی ضرورت سے جا رہے تھے آپؓ کے ہاتھ میں درّہ تھا، آپؓ نے انہیں دھکیلتے ہوئے کہا: اے سلمہ! اس طرح راستے سے ہٹ کر چلو اور آپؓ نے مجھے ایک کوڑا رسید کیا، اتفاق سے وہ میرے کپڑے کے کنارے لگا، میں راستہ سے ہٹ گیا، آپؓ نے پھر کچھ نہ کہا۔ یہاں تک کہ دوسرے سال جب آپؓ بازار میں مجھ سے ملے تو کہا: اے سلمہ کیا اس سال حج کا ارادہ رکھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں! اے امیر المؤمنین، آپؓ نے میرے دونوں ہاتھوں کو پکڑ لیا اور ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے آپؓ مجھے لے کر اپنے گھر گئے اور 600 درہم کی بھری ہوئی ایک تھیلی نکالی اور کہا: اے سلمہ اسے لے جاؤ اور اس سے اپنا کام چلاؤ، اور جان لو کہ یہ عنایت گزشتہ سال کے دھکیلنے کے بدلہ میں ہے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! اے امیر المؤمنین، اگر آپؓ یاد نہ دلاتے تو مجھے وہ یاد ہی نہ تھا۔ آپؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم، میں اسے اب تک نہ بھولا تھا۔
(الفاروق: الشرقاوی: صفحہ 222)
محاسبۂ نفس کے بارے میں کہا کرتے تھے: ’’اپنے نفس کا خود محاسبہ کیا کرو اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے، اور اپنی قدر و قیمت کو تول لو اس سے پہلے کہ تم تولے جاؤ۔ اور بڑی پیشی یعنی روز جزا کے لیے تیار رہو:القرآن يَوۡمَئِذٍ تُعۡرَضُوۡنَ لَا تَخۡفٰى مِنۡكُمۡ خَافِيَةٌ (سورۃالحاقة: آیت 18)
(الفاروق: الشرقاوی: صفحہ 222)
ترجمہ: '’اس دن تم سب پیش کیے جاؤ گے اور تمہارا کوئی بھید پوشیدہ نہ رہے گا۔‘‘
خشیت الہٰی اور محاسبہ نفس کا یہ عالم تھا کہ آپؓ فرماتے: ’’اگر دریائے فرات کے ساحل پر بکری کا ایک بچہ بھی مر گیا تو مجھے ڈر ہے کہ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ عمر سے محاسبہ کرے گا۔
(محض الصواب: جلد 2 صفحہ 503)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عمرؓ کو دیکھا کہ ایک اونٹ پر سوار ہو کر بہت تیزی سے جا رہے ہیں۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپؓ کہاں جا رہے ہیں؟ آپؓ نے فرمایا: صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا ہے اسی کی تلاش میں جا رہا ہوں۔ میں نے کہا: آپؓ نے اپنے بعد کے خلفاء کو ذلیل کر دیا؟ آپؓ نے فرمایا: ’’اے ابوالحسن مجھے ملامت نہ کرو، قسم ہے اس ذات کی جس نے محمدﷺ کو نبوت سے سرفراز کر کے بھیجا، اگر دریائے فرات کے ساحل پر بکری کا ایک بچہ بھی مر گیا تو بروزِ قیامت عمر سے اس کے بارے میں باز پرس ہوگی۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 244 اس کی سند ضعیف ہے۔)
حضرت ابوسلامہؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت عمرؓ کے پاس پہنچا، دیکھا تو آپؓ حرم میں اس حوض پر جہاں لوگ وضو کر رہے تھے، مردوں اور عورتوں کو مار کر بھگا رہے تھے۔ یہاں تک کہ آپؓ نے مردوں اور عورتوں کو الگ الگ کر دیا۔ پھر کہا: اے فلاں! میں نے کہا: حاضر ہوں، آپؓ نے فرمایا: تمہاری حاضری کا کوئی فائدہ نہیں، کیا میں نے تم کو حکم نہیں دیا تھا کہ مردوں کے لیے الگ اور عورتوں کے لیے الگ وضو خانہ بناؤ۔ پھر آپؓ پیچھے ہٹ گئے، اور حضرت علیؓ سے آپؓ کی ملاقات ہو گئی، آپؓ نے فرمایا: مجھے خوف ہے کہ برباد نہ ہو جاؤں۔ انہوں نے کہا: کون سی چیز آپؓ کو برباد کرنے والی ہے؟ آپؓ نے فرمایا: میں نے حرم مکہ کے اندر مردوں اور عورتوں کو مار بھگایا ہے، انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپؓ بھی حکام میں سے ایک حاکم ہیں۔ اگر آپؓ نے خیر خواہی اور اصلاح کی خاطر ایسا کیا ہے تو اللہ تعالیٰ آپؓ کو ہرگز سزا نہ دے گا اور اگر کسی کینہ و کدورت کی بنا پر ان کو مارا ہے تو آپؓ یقیناً ظالم ہیں۔ حضرت حسن بصریؒ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ مدینہ کی گلیوں میں گشت کر رہے تھے، آپؓ نے ایک جگہ اس آیت کی تلاوت سنی:
وَالَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ۞(سورۃ الأحزاب: آیت 58)
ترجمہ:’’جو لوگ مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو تکلیف دیتے ہیں۔‘‘
آپؓ ابی بن کعبؓ کے پاس ان کے گھر تشریف لے گئے وہ ایک تکیہ پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے ابیؓ نے تکیہ اپنے نیچے سے نکال کر امیر المؤمنین کو پیش کیا اور کہا: اس پر ٹیک لگا لیجیے حضرت عمرؓ نے اپنے پاؤں سے اسے دھکیل دیا اور پھر بیٹھ گئے پھر مذکورہ آیت پڑھ کر سنائی اور کہا: مجھے خوف ہے کہیں میں ہی اس آیت کا مصداق نہ ٹھہروں کہ مومنوں کو تکلیف دیتا ہوں حضرت ابیؓ نے کہا: آپؓ رعایا کی دیکھ بھال کریں، انہیں بھلائیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے منع کریں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم نے ٹھیک ہی کہا، واللہ اعلم ۔
(مختصر منہاج القاصدین: صفحہ 372، فرائد الکلام: صفحہ 143 )
سیّدنا عمرؓ کبھی کبھار آگ جلاتے اور اس میں اپنا ہاتھ ڈالتے، پھر خود کو مخاطب کرکے کہتے: اے خطاب کے بیٹے! کیا تجھے اس پر صبر کرنے کی طاقت ہے۔
(مناقب عمر: صفحہ 160، 161 )
فتح قادسیہ کے موقع پر جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے سیدنا عمرؓ کے پاس کسریٰ کی چادر، تلوار، کمر بند، پائجامے، قمیص، تاج زرنگار، اور دونوں موزے بھیجے تو آپؓ نے لوگوں پر ایک نگاہ دوڑائی، ان میں سراقہ بن جعثم المدلجی قد و قامت کے اعتبار سے سب سے زیادہ موزوں تھے آپؓ نے کہا: اے سراقہ! اٹھو، اور یہ لباس پہنو، چنانچہ وہ کھڑے ہوئے اور اسے پہن لیا، اور اسے مل جانے کی امید باندھ لی حضرت عمرؓ نے کہا: پیچھے مڑو! وہ پیچھے مڑ گئے پھر کہا: سامنے آؤ، وہ سامنے آئے پھر کہا کیا خوب کیا خوب، بنو مدلج کے ایک بدوی کے جسم پر کسریٰ کی چادر، پائجامے، تلوار، اس کا ٹیکا، تاج زرنگار اور موزے۔ اے سراقہ بن مالک! کبھی کوئی دن آتا جب تیرے پاس کسریٰ کے ساز و سامان ہوتے وہ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے شرف و عزت کا باعث بنتا، لباس اتار دو سراقہ نے کپڑے اتار دیے، پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا: اے اللہ! تو نے اپنے رسول اور نبی کو یہ سازو و سامان نہیں دیا جب کہ وہ میرے مقابلہ میں تجھے زیادہ محبوب تھے اور میرے مقابلہ میں تیرے نزدیک زیادہ مکرّم تھے، اسی طرح ابوبکرؓ کو نہیں دیا، حالانکہ وہ بھی میرے مقابلہ میں تجھے زیادہ محبوب تھے اور میرے مقابلہ میں تیرے نزدیک زیادہ مکرّم تھے پھر تو نے اسے مجھے دیا، میں تیری پناہ چاہتا ہوں، کہیں کسی آزمائش کے لیے تو تو نے مجھے یہ نہیں دیا؟ پھر آپؓ رونے لگے یہاں تک کہ جو لوگ آپؓ کے پاس تھے انہیں آپؓ پر رحم آ گیا، پھر آپؓ نے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ سے کہا: تمہیں قسم دلاتا ہوں، شام ہونے سے قبل اسے بیچ کر لوگوں میں تقسیم کر دو۔ اس موضوع پر آپؓ کے بہت سے واقعات ہیں۔
(مناقب عمر: صفحہ 161)