حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 5 از 6

ترجمہ: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے غزوہ فارس میں بذات خود جانا چاہا اور امیر علیہ السلام سے مشورہ لیا تو آپ نے فرمایا دین اسلام کا غالب آنا اور مغلوب ہو جانا کچھ سپاہ کی کثرت و قلت پر موقوف نہیں ہے یہ اسلام اس خدا کا دین ہے جس نے اس کو تمام ادیان و مذاہب پر غالب کیا ہے اور لشکر اسلام اس خدا کی فوج ہے جس نے اس کی ہر جگہ نصرت و تائید کی اور اب ایک بلند مرتبہ پر پہنچا دیا۔ ان کا آفتاب وہاں سے طلوع ہوا جہاں سے طلوع ہونا تھا۔ ہم لوگ اس وعدہ خداوندی پر کامل یقین کے ساتھ راسخ القدم ہیں جو اُس نے غلبہ اسلام کے بارے میں فرمایا۔ بیشک وہ اپنے وعدوں کا وفا کرنے والا ہے۔ وہ اپنی سپاہ کا مددگار ہے۔ دین اسلام کے پیشوا مختار کار (خلیفہ) کا مرتبہ رشتہ مروارید کی مثل ہے۔ جو موتی کے دانوں کو ایک نظام میں منسلک رکھتا ہے۔ اگر رشتہ ٹوٹ جائے تو تمام دانے متفرق ہو کر بکھر جاتے ہیں۔ پھر اجتماع کامل مشکل ہے۔ آج کے روز اہلِ عرب اگرچہ قلیل ہیں لیکن شوکت اسلام انہیں کثیر ظاہر کر رہی ہے۔ یہ اپنے اتفاق و اجتماع کی وجہ سے یقیناً دشمن پر غالب ہونگے۔ تم ان کے لیے قطب آسیا ہو اور آسیائے جنگ کو گروہ عرب کے ساتھ گردش دو اور اپنے سوائے کسی دوسرے شخص کے ماتحت بنا کر آتش جنگ کو برافروختہ کرو کیونکہ اگر تم مدینہ سے باہر چلے گئے تو عرب کے تمام قبائل اطراف و اکناف سے یک لخت ٹوٹ پڑیں گے۔ اس وقت پیچھے رہنے والی مستورات کی حفاظت تم پر اس چیز سے زیادہ مقدم ہو جائے گی جو تمہارے سامنے (جنگ) موجود ہے۔

دوم: یہ کہ اہلِ ایران تجھے دیکھیں گے تو کہیں گے۔ بس یہی ان عربوں کا سردار ہے۔ اگر اس کا کام تمام کر دو تو پھر تمہیں ہر طرح سے آرام ہے۔ بیشک یہ اقوال تمہاری لڑائی پر انہیں حریص کر دیں گے اور تمہاری گرفتاری کی از حد طمع کریں گے اور یہ جو تم نے کہا ہے کہ ایرانی فوج مسلمانوں پر چڑھائی کر رہی ہے۔ سو پرودگار عالم ان کی اس حرکت کو تم سے زیادہ مکروہ سمجھتا ہے اور وہ بیشک جس امر سے کراہت رکھتا ہے اس کی تغیر پر پورا پورا قادر ہے۔ اور یہ بات کہ حملہ آور کی تعداد زیادہ ہے سو یہ خیال کرو کہ ہم گروہ اصحاب رضی اللہ عنہم عہد پیغمرﷺ میں کبھی دشمن کے ساتھ کثیر التعداد لشکر لے کر جنگ نہیں کی بلکہ ہمیشہ خداوند کریم کی نصرت و معونت ہمارے شامل حال رہی ہے اور اب صرف اُسی کی نصرت و امداد کے بھروسہ پر کفار سے قتل و قتال کرتے رہے ہیں۔ (نیزنگ فصاحت: صفحہ 200، 201)

جناب امیرؓ کے فصیح و بلیغ خطبے میں (قیمتی مشورہ) آفتاب نمیروز کے طرح روشن ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ باہم شیر و شکر تھے۔ دونوں کو ایک دوسرے پر مکمل اعتماد و بھروسہ تھا اس میں بھی غزوہ روم کی طرح جب امیر المؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اسداللہ الغالب سے مشورہ طلب کیا تو آپ نے کمال خیر خواہی سے ان کو یہی مشورہ دیا کہ آپ بذات خود معرکہ کارزار میں تشریف نہ لے جائیں ایسا نہ ہو کہ ایرانی آپ کو لشکر اسلام کا قائد اعظم سمجھ کر یکبارگی ٹوٹ پڑیں آپ کو نقصان پہنچانے کی سعی کریں، اگر خدا نخواستہ باہمی دشمنی ہوتی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خوب موقعہ ہاتھ آ گیا تھا۔ یہی صلاح دیتے کہ تم خود لڑائی پر جاؤ تاکہ تم وہاں مارے جاو اور خلافت کی گدی ہمارے لیے خالی ہو آپ کا یہ فرمانا كہ مكان القيم بالامر مكان النظام من الخرز صاحب

قاموس: جلد 3، صفحہ 92 میں ہے۔ قیم الامر المصلح لہ والقرآن والنبی والخلیفہ وقائد الجند، قیم الامروہ ہے جو اس امر کا مصلح ہو۔ قرآن نبی اور خلیفہ اور سالار لشکر پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ گویا جناب امیر کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو امر (اسلام) کا قیم فرمانا ان کی خلافت کا اعتراف صریح ہے

خلیفہ کی مثال رشتہ مروارید کی سی ہے۔ رشتہ ٹوٹ جائے تو موتی بھی کہیں کے کہیں بکھر جاتے ہیں۔ تو اس امر پر ناطق فیصلہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ حضرت عمرؓ کو برحق خلیفہ سمجھتے تھے، ورنہ یہ مثال کیوں دیتے؟ شیر خدا کی نگاہ میں فاروق اعظمؓ کی ذات باعث بقاءِ اسلام و اسلامیان تھی اور آپ پر صدق دل سے آپ کی سلامتی جان کے متمنی تھے۔

3: آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آسیائے اسلام کا قطب اور محور قرار دیا۔ اس سے زیادہ واضح دلیل اس امر کی کیا ہو سکتی ہے کہ آپ حضرت عمرؓ کو سچا خلیفہ رسول اور پیشوائے اسلام سمجھتے تھے۔ غرض اس خطبہ کا لفظ لفظ فاروق اعظمؓ کی تعریف سے پُر ہے۔ پھر حضرات شیعہ کو شرم کرنی چاہیے کہ جس شخص کی تعریف حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرمائیں اس کو منافق کہو۔ شرم! شرم!! شرم !!!

5: اصول کافی: صفحہ 296 میں ہے۔

عَنْ أَبی جَعْفَر علیہ السلام قَالَ لَمَّا قَدِمتُ بِنتَ يَزدجر عَلَى عُمَرَ أَشْرَفَ لَهَا عَذرَى الْمَدِينَةِ وَاشْرَق الْمَسْجِدِ بِضَولِهَا لَمَّا دَخَلْتُهُ نَلَمَا نَظَرَ إِلَيْهَا عُمَرُ غَطَّتُ وَجهَهَا وَقَالَتْ افِيُروج بِإِذْهُر مُز فَقَالَ عُمَرُ الشتِمُنِی هَذِهِ وَهَمَّ بِهَا حَسْبِهَا بِفَينِهِ وَخَيَّرَهَا فَجَائت حَتَّى وَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى رأس الْحُسَيْن فَقَالَ امِير الْمُؤْمِنِينَ مَا اسْمُك فَقَالَتْ جَهَان شاه فَقَالَ لَهَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ بَلْ شَهْرُ بَانُويَهُ ثُمَّ قَالَ لِلْحُسَيْنِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ لَيَلِدَنَّ مِنْهَا خَيّر اهْل الْأَرْضِ فَوَلَدَ على ابن حُسَيْن 

صفحہ 5 از 6