حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 6

ترجمہ: جب خلیفہ ثانی عمرؓ نے روم پر چڑھائی کی اور حضرت علیؓ سے مشورہ لیا تو آپ نے فرمایا۔ نواحی اسلام کو غلبہ دشمن سے بچانے اور مسلمانوں کی شرم رکھنے کا اللہ ہی کفیل ہے۔ وہ ایسا خدا ہے جس نے انہیں اس وقت فتح دی ہے جب اُن کی تعداد نہایت قلیل تھی اور کسی طرح فتح نہیں پا سکتے تھے۔ انہیں اس قت مغلوب ہونے سے روکا ہے جب یہ کسی طرح روکے نہیں جا سکتے تھے سکتے تھے اور وہ خداوند عالم حی لا یموت ہے اب اگر تو خود دشمن کی طرف کوچ کرے اور تکلیف اُٹھائے تو یہ سمجھ لے کہ پھر مسلمانوں کو ان کے اقصائے بلاد تک پناہ نہ ملے گی اور تیرے بعد کوئی ایسا مرجع نہ ہو گا جس کی طرف وہ رجوع کریں۔ لہٰذا تو دشمنوں کی طرف اس شخص کو بھیج جو کار آزمودہ ہو۔ اس کے ماتحت ان لوگوں کو روانہ کرو جو جنگ کی سختیوں کے متحمل ہوں اور اپنے سردار کی نصیحت کو قبول کریں اب اگر خدا غلبہ نصیب کرے گا تب تو وہ چیز ہے جسے تو دوست رکھتا ہے اور اگر اس کے خلاف ظہور میں آیا تو تو ان لوگوں کا مددگار اور مسلمانوں کا مرجع تو موجود ہے۔ (نیرنگ فصاحت: صفحہ 19)

ہم نے جناب امیر کے عربی کلام کا ترجمہ شیعہ کی کتب نیرنگ فصاحت سے لیا ہے تاکہ ان کو یہ عذر نہ ہو کہ ترجمہ میں کچھ دست اندازی کی گئی ہے۔ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے اس کلام سے حسب ذیل امور ثابت ہوتے ہیں:

1: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر پورا اعتماد و بھروسہ تھا اور باہمی کامل اتحاد تھا کہ ہر ایک معاملہ میں ان سے مشورہ لیا جاتا تھا ورنہ یہ مسلّم ہے کہ کوئی شخص اپنے دشمن سے ایسے اہم معاملہ میں ہرگز مشورہ نہیں لیا کرتا۔

2: حضرت علی المرتضیٰؓ حضرت عمرؓ کو مسلمانوں کا ملجاء و ماویٰ سمجھتے تھے اور ان کو کچھ صدمہ پہنچانا صدمہ اسلام تصور فرماتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ نے حضرت عمرؓ کو یہ مشورہ نہ دیا کہ اس مہم میں بذات خود معرکہ کارزار میں جائیں اگر خدانخواستہ باہمی کدورت ہوتی اور حضرت علیؓ حضرت عمرؓ کے خیر خواہ نہ ہوتے تو یہ مشورہ کیوں دیتے کہ آپ لڑائی میں نہ جائیں تاکہ کوئی صدمہ نہ پہنچ جائے بلکہ ان کی تو یہ خواہش ہونی چاہیے تھی کہ یہ خود وہاں جائیں۔ ان کا وہاں کام تمام ہو اور آپ کے لیے جگہ خالی ہو۔ غرض جناب امیرؓ کا یہ مشورہ دینا کہ آپ میدان جنگ میں نہ جائیں بلکہ آزمودہ کار جرنیل کو بھیج دیں اس کا بین ثبوت ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ حضرت عمرؓ کے صادق الوداد دوست تھے۔

3: حضرت علی المرتضیٰؓ حضرت عمرؓ کی کامیابی کو کامیابی اسلام تصور کرتے تھے اس لیے ان کو تسلی دی کہ ایزد متعال تمہارا اور مسلمانوں کا خود حافظ و ناصر ہے جب مسلمان تھوڑے تھے اس وقت بھی ان کی حفاظت فرمائی اور اب تو خدا کے فضل سے مسلمانوں کی تعداد کثیر ہے پھر اس کی تائید و نصرت پر کیوں بھروسہ نہ کیا جائے۔ جناب امیرؓ کے کلام سے یار لوگوں کی اس گھڑت کی بھی تردید ہوتی ہے کہ مسلمان بعد وفاتِ رسولﷺ صرف تین چار ہی رہ گئے تھے۔ ایسا ہوتا تو آپ یوں فرماتے کہ پہلے مسلمانوں کی تعداد کثیر تھی، اب گنتی کے چند آدمی مسلمان رہ گئے ہیں، ان کو اس مہم پر بھیجو تو فتح ہو گی ورنہ شکست۔

4: نہج البلاغت: صفحہ 197 میں دوسرا خطبہ جناب امیرؓ:

وَمِنْ كَلامهُ عَلَيْهِ السَّلامُ لِعُمَرَ بْنُ الْخَطَابِ وَقَدِ اشْتَشَارَهُ فِی غَزْوَةِ الْفرس بِنَفْسِهِ إِنَّ هَذَا ل٘اَمْرَ لَمْ يَكُنُ نَصْرُرَهُ وَلِاخِذُ لانهُ بِكَثُرَةٍ وَلَا بِقِلَّةٍ وَهُوَ دِينُ اللَّهِ الَّذِی أَظْهَرَهُ وَجُندَهُ الَّذِی أَعَدَّهُ وَاَمَدَّهُ حَتّى بَلَغَ مَا بَلَغَ وَطَلَعَ حَيْثُ مَا طَلَعَ وَنَحْنُ عَلىٰ مُوعُودٍ مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ مُنْجِزُ وَعْدِهٖ وَنَاصِرُ جُنْدِهٖ وَمَكَانُ الْقَيِّمِ بالامْرِ مَكَانَ النِّظَامِ مِنَ الْحَرَّذِ يَجْمَعَهُ وَيَضُمُّهُ فَإِذَا انقَطَع النَّظَامُ تَفَرَّقَ الْحَرَذ وَ ذَهَبَ ثُمَّ لَمْ يَجْتَمَعَ بِحَذَافِيُرِهِ أَبَدٌ اولعَرَبُ الْيَوْمَ وَإِنْ كَانُو قَليْلاً فَهُمْ كَثِيرُونَ بِاالْإِسْلام وَ غَرِيزُونَ بِا الاجْتِماعِ فَكُنْ قُطْبًا وَاسْتَدِرِ الرُّحَى با الْعَرْبِ و أصْلِهِمْ دُونَكَ فَارَ الْحَرْب فَإِنَّكَ إِنْ شَخَصَّتَ مِنْ هَذِهِ الأرْضِ انتَقضَت عَلَيْكَ الْعَرجُبُ مِنْ الطرافها وأَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ مَا تَدْعُ وَرَاءَكَ مِنَ الْعَوْرَاتِ أَهْمَ إِلَيْكَ مِمَّا بَيْنَ يَدَيْكَ إِنَّ الاعَاجَمَ إِنْ يَنْظُرُو إِلَيْكَ غَذَا يَقُولُوا هَذَا أَصَلُ الْعَرْبِ فَإِذَا اقْتَطَعْتُمُوهُ اسْتَرَحُتُمُ فَيَكُونَ ذَلِكَ أَشَدَّ لِكَلْبِهِمُ عَلَيْكَ وطَمُعِهِمْ فِيْكَ فَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ من مَسِيرِ الْقَوْمِ إِلى قِتَالِ الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّ اللَّهُ سُبْحَانَهُ هُوَ اكْرَهُ لِمُسِيرهِمْ مِنْكَ وَهُوَ أَقدُدس عَلىٰ تَغْيِيرِ مَا يَكُرَهُ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ عَدَدِهِمْ فَإِنَّا لَمْ يَكُنُ نُقَاتِلُ فِيمَا مضى بالكثرة إِنَّمَا نُقَاتِلُ بِالنَّصْرِ وَالمَعُونَةِ 

صفحہ 4 از 6