حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 6

ترجمہ: عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی حضورﷺ! میں اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ مذہب اسلام قبول کروں یہ کہہ کر کلمہ توحید پڑھا۔ آنحضرتﷺ حضرت عمرؓ کے اسلام لانے سے ایسے خوش ہوئے کہ بلند آواز سے تکبیر کہی۔ آپﷺ کی تکبیر اصحاب رضی اللہ عنہم نے سنی اور سب نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور حضرت عمرؓ کے استقبال کو باہر نکلے۔ اُس وقت حضرت عمرؓ نے عرض کی حضورﷺ کافر تو لات و عزیٰ کی پرستش ظاہر ہو کر کریں ہم خدائے قدوس کی عبادت کیوں چھپ کر کریں؟ پھر انہوں نے کعبہ جانے کا ارادہ کر لیا۔ جب حضورﷺ نے اعلانیہ نماز پڑھنے کی اجازت فرمائی تو مصنف کتاب مذکور لکھتا ہے کہ سب لوگ کعبہ کو اس شان سے چلے کہ "عمرؓ از جانب پیغمبرﷺ و ابوبکرؓ از طرف دیگر و علیؓ از پیش و اصحاب رضی اللہ عنہم ازد نبال رواں شدند و عمرؓ باشمشیر خویش از پیش جملہ ہمی رفت و ازاں سوئے کفار قریشیاں چناں می پنداشتند کہ عمر رضی اللہ عنہ رسولﷺ خدائے را آسیب خواہدر سایند۔ ناگاه دیدند کہ پیش رسول اللہﷺ با شمشیر حمائل کرده می آید۔گفتند ہاں عمرؓ چرچہ گونہ گفت یا رسول اللہﷺ ایمان آوردم و اگر کسے از شما بنا لائقی جنبش کند با ہمیں تیغش کیفر کنم و این شعر گفت"

مالِی أَرَاكُمْ كُلَّكُمْ قَيَامَا

اَلکُھْلَ والشَبَانَ والغُلَامَا

قد بَعَثَ اللَّه لَنَا إِمَامًا

مُحَمَّدُ قَدْ شَرَعَ الإِسْلَامَا

حقا وقد يَكْسِرُ الأَصْنَامَا

نَذُبُّ عَنِ الْحَالَ وَالاعْمَامَا

پس کافراں از عجز در خشم شدند و آہنگ کردند و عمرؓ نیز بہ پشتوانی علیؓ با ایشان در آویختہ آں جماعت از کعبہ بکنار کرد و رسول اللہﷺ دو رکعت نماز بگذاشت و باز بخانہ شد۔ واسلام عمرؓ را بدیگر گونہ روایت کرده اند ہمانا ایں قصہ مختار افتاد و بالجملہ بعد از اسلام بدر خانہ ابوجہل رفت و در بکوفت و ابوجہل چون بانگ ازاں بشنید بیاید و در بگشود و گفت مرحبا و اہلاً ازچہ حاجت مرا یاد کردی و بر اینجا شدی گفت آمدم تاترا آگہی دہم کہ ایمان بخدائے رسولﷺ آوردم ابوجہل در حشم شد در بروئے بست و گفت۔ قَبَّحَكَ اللَّهَ وَ قَبَّحَ مَا جِنتبه 

ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ آ نحضرتﷺ کے پہلو میں تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دوسرے پہلو میں اور علی رضی اللہ عنہ سامنے اور دیگر اصحاب رضی اللہ عنہم پیچھے روانہ ہوئے اور حضرت عمرؓ اپنی تلوار لیے سب سے آگے چلے، ادھر کفارِ قریش منتظر تھے کہ حضرت عمرؓ حضورﷺ کو ایذا دیں گے۔ ناگاہ انہوں نے دیکھا کہ وہ تو رسول اللہﷺ کی اردل میں تلوار حمائل کئے ہوئے چلے آ رہے ہیں۔ سب نے کہا ہاں عمرؓ تمہاری کیا حالت ہے؟ انہوں نے کہا میں رسول اللہﷺ پر ایمان لایا ہوں اور اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی نالائقی سے ذرہ بھی کچھ بیجا حرکت کرے گا تو اسی تلوار سے اس کا سر قلم کر دونگا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ عربی شعر پڑھے "کیا وجہ ہے کہ میں تم کو یہاں کھڑا ہوا دیکھتا ہوں۔ بوڑھوں، جوانوں اور بچوں کو بھی۔ بالتحقیق خدا نے ہمارے لیے ایک امام مبعوث کیا ہے جس کا اسم گرامی محمدﷺ ہے۔ جس نے سچا دین ہمارے لیے جاری کیا ہے۔ وہ  بتوں کو توڑ دیں گے اور ہم اُن سے اپنے ماموؤں اور چچاؤں کو دور ہٹا دیں گے" 

پس کافر غضبناک ہوئے اور انہوں نے حضرت عمرؓ کے قتل کا ارادہ کیا۔ حضرت عمرؓ نے بامدادِ علیؓ ان سے مقابلہ کر کے ان کو کعبہ سے دور ہٹا دیا اور رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کے ساتھ کعبہ میں دو رکعت نماز ادا کی اور پھر گھر واپس چلے گئے۔ حضرت عمرؓ کے اسلام کو اور لوگوں نے دوسری طرح بیان کیا ہے۔ مگر صحیح یہی روایت ہے۔ حضرت عمرؓ اسلام لانے کے بعد ابوجہل کے گھر گئے، دروازہ کھٹکھٹایا ابوجہل نے دروازہ کھولا اور آؤ بھگت کر کے کہا کہ آپ نے مجھے کیسے یاد کیا اور کس طرح تشریف لائے؟ آپ نے کہا کہ تجھے بتانے آیا ہوں میں خدا اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لے آیا ہوں۔ ابوجہل کو بہت غصہ آیا اور دروازہ بند کر لیا اور کہنے لگا: "خدا تمہارا برا کرے اور جو خبر تم لائے ہو اس کو بھی برا کرے" 

اب جائے غور ہے کہ اسلام لاتے ہی حضرت عمرؓ کی حسنِ عقیدت کا یہ حال ہو گیا تھا کہ دین حق کے پاس میں کفار سے دوبدو ہو گئے اور ان کو للکارا کہ ذرہ برابر بھی رسول پاکﷺ کی شان والا میں بے ادبی سے پیش آؤ گے تو میری تلوار ہے اور تمہارا سر۔ پھر کس بہادری سے ابوجہل جیسے خطرناک دشمنِ دین کے گھر تن تنہا جا کر اسلام کا اعلان کیا۔ کیا ایسی جرأت کوئی شخص کر سکتا ہے؟ پھر حضورﷺ جن کو علوم اولین و آخرین سب معلوم تھے اسلامِ عمرؓ پر اس قدر خوشی کیوں مناتے؟ اگر معلوم تھا کہ بالآخر اس نے اسلام سے پھر جانا ہے اور میرے اہلِ بیت کو تکلیف پہنچانی ہے۔ شیعو! خدارا انصاف کرو۔ اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ‏ 

3: نہج البلاغت صفحہ 187 میں ہے:

وَمِنْ كَلَامٍ عَلَيْهِ السَّلَامِ وَقَدْ شَاوَرَهُ عُمَرَ فِی الخُرُجِ الى غَزْوَةِ الرُّومِ بِنَفْسِهِ وَقَدْ تَوَكَّل الله لاهل هذا الدين باعذاز الحذرة وستر العورة والذى نصرهم وهم قليل لا ينتصرون ومَنَعَهُم وهم قليل لا يمتنعون حی لا یموت انك متیٰ تسر الی هذا العدو بنفسه فتلقهم فتنكب لا تكن للمسلمين كانفة دون أقصىٰ بلادهم ليس بعدك مرجع يرجعون اليه فابعث اليهم رجلا مُجرَّبًا واخْفِر معه اهل البلاء والنصيحة فان اظهر الله فذاك ماتحب وان تكن الأخرىٰ كنت رد اللناس ومثابة للمسلمين.

صفحہ 3 از 6