حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 6

ترجمہ: ایسا ہوا کہ ابوجہل حضرت رسولﷺ کی تنبیہ کرنے سے اُن کا سخت دشمن ہو گیا کہ بغیر قتل حضورﷺ کے اسے کچھ نہ سوجھتا تھا۔ ایک روز کفار سے کہنے لگا کہ اگر کوئی شخص محمد صلیﷺ کا سرکاٹ لائے میں اس کو ہزار اونٹ ایسے انعام میں دوں گا جو دو کوہان رکھتے ہوں اور سرخ رنگ کے ہوں۔ مصری ریشمی شال اور یمنی چادر کے علاوہ بہت کچھ دوں گا۔ عمرؓ نے جب اس کی یہ بات سنی اور سیم وزر کی حرص نے جوش مارا۔ ابوجہل کو کہا کہ اگر تو قسم کھائے اور اپنی بات پر قائم رہے میں آج یہ خدمت بجا لاتا ہوں اور حضورﷺ کا سر کاٹ لاتا ہوں ابوجہل سے پہلے قسم لی۔ پھر اس بات پر آمادہ ہوا۔ جب اس کام کے لیے روانہ ہوا کسی نے کہا کہ تجھے خبر نہیں ہے کہ تیری ہمشیرہ مع اپنے شوہر کے دینِ محمدﷺ میں داخل ہو چکی ہے۔ حضرت عمرؓ اس بات سے خفا ہوئے اور کہا ابھی اس کو قتل کرتا ہوں۔ اپنی ہمیشرہ کے گھر کو روانہ ہو گئے اور جب گھر کے نزدیک پہنچ گئے جب دروازہ پر کھڑے ہوئے تو آواز آ رہی تھی جسے سننے لگے، سنا کہ ان کا بہنوئی ایک کلام پڑھ رہا تھا جس کی مثل آپ نے پہلے کلام نہ سی تھی۔ حضرت عمرؓ نے دستک دی ہمشیرہ نے دروازہ کھولا تو حضرت عمرؓ نے داخل ہوتے ہی شور برپا کر دیا، اپنے بہنوئی سے لڑنے لگے اور اُسے گلے سے پکڑ کر خوب جھنجھوڑا اس کا گلا گھونٹا کہ جان نکلنے لگی۔ ہمشیرہ چلاتی ہوئی آئی اور کہا اے عمرؓ! ہم سے کیا چاہتا ہے؟ خواہ تو خوش ہو یا ناراض ہم نے تو دینِ محمدیﷺ قبول کر لیا ہے۔ اب اگرچہ ہمیں جان سے مار ڈالو ہم یہ سچا دین نہیں چھوڑیں گے۔ جب حضرت عمرؓ نے ہمشیرہ سے یہ بات سنی، معلوم کیا اب یہ پھرنے کے نہیں۔ کہا تم نے محمدﷺ سے کیا کچھ دیکھا ہے کہ اُس کے دین پر مبتلا ہوئے؟ ہمشیرہ نے کہا خدا کا کلام سنا ہے جو حضرت جبرائیلؑ حضورﷺ کے پاس لائے ہیں۔ ہم نے یہ کلام سنا ہے اور ہمیں یقین ہوا ہے کہ بیشک یہ خدا کا کلام ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ وہ کلام معجز نظام اگر کچھ یاد ہو تو بے خطر پڑھو۔ ہمشیرہ نے چند آیتیں پڑھیں جن کو سن کر حضرت عمرؓ حیران ہوئے۔ حضرت یہ آیات سن کر موم ہو گئے اور اسلام کی محبت میں سرگرم ہوئے ازاں بعد سب مل کر حضور سرور عالمﷺ کی خدمت میں چل پڑے۔ حضورﷺ کے در دولت پر حاضر ہوئے، دروازہ بند دیکھ کر کھڑے ہوئے، ایک مسلمان آیا اور اس نے دروازہ کی پشت سے دیکھا کہ حضرت عمرؓ تلوار لیے کھڑے ہیں۔ نبی کریمﷺ اس بات سے متعجب ہوئے پس رسول پاکﷺ کے چچا بزرگوار نے فرمایا: کچھ ڈر نہیں دروازہ کھول دو اگر صدق و ارادت سے آیا ہے تو مبارک اور اگر دل میں کچھ اور خیال ہے تو اس کی تلوار سے جو کمر پر باندھے ہے، عمر کا سر قلم کر دونگا۔ جب دروازہ کھولا، حضرت عمرؓ معذرت کرتے ہوئے قدم بوس ہوئے۔ حضورﷺ حضرت عمرؓ سے بغل گیر ہوئے اور ان کو عزت سے بٹھایا۔ تمام اصحاب رضی اللہ عنھم نے مبارک باد کہی اور حضرت عمرؓ کے اسلام سے دین کو مزید قوت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد اصحابؓ نے کہا کہ اب تو حضورﷺ کی خدمت میں عرض کر کے اب حرم شریف میں ہم اعلانیہ جا کر نماز باجماعت گزاریں جب یہ بات حضورﷺ کے گوش گزار ہوئی، حضورﷺ نے منظور فرمایا۔

روایاتِ بالا سے حسبِ ذیل امور ظاہر ہوتے ہیں۔ جو حضرت عمرؓ کی فضیلت کا نمایاں ثبوت ہیں:

1: آپؓ کا اسلام لانا حضور سرور کائناتﷺ کی  اسلام لانا حضور سرور کائناتﷺ کی استجابت دعا کا نتیجہ ہے اور ناممکن ہے جس سینہ میں نور اسلام حبیب کبریا کی خاص توجہ و دعا سے داخل ہوا ہو پھر اُس میں ظلمت کفر و نفاق داخل ہو سکے۔

2: اسلامِ عمرؓ کسی دنیوی لالچ یا طمع سے نہیں بلکہ صداقت اسلام دیکھنے اور کلام الٰہی کی قوتِ اعجاز کی خاص تاثیر ہونے کے سبب سے ہوا تھا۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ اتنی مدت صحبتِ رسولﷺ کرنے اور تعلیم و تربیت پانے کے بعد پھر تاریکی ضلالت و کفر عود کریں گے۔

3: حضر عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا خیر مقدم رسول پاکﷺ اور اصحابِ رسولﷺ نے گرم جوشی سے کیا اور حضورﷺ نے بغل گیر ہو کر جو برکات پہنچائیں اور اعزاز بخشا یہ حضرت عمرؓ کا ہی خاص حصہ تھا۔

4: یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جلال و جبروت کا نتیجہ تھا کہ آپؓ کے اسلام لاتے ہی شوکت اسلام دوبالا ہو گئی اور بجائے خفیہ عبادت کے خدا کے گھر کعبۃ اللہ میں پہنچ کر نماز با جماعت پڑھی گئی اور کفار کو حضرت عمرؓ کی تیغ آبدار کے سامنے آنے کی جرأت نہ ہو سکی۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے

جس روز آپؓ داخل دین مبین ہوئے

کعبہ میں جمع بہر نماز اہلِ دیں ہوئے

آہستہ سے اذاں جو کہی خشمگیں ہوئے

فرمایا کیا مشرفِ دیں ہم نہیں ہوئے؟

نام خدا و نام نبی لو پکار کر

اب تم کو کس کا ڈر ہے اذاں دو پکار کر

2: شیعہ کی معتبر کتاب تاریخ ناسخ التوابی صفحہ 616 میں اسلامِ عمرؓ کے متعلق یوں لکھا ہے۔ "عرض کرو یا رسول اللہﷺ از بہراں آمده ام کہ کیش مسلمانی گیرم و کلمہ توحید بر زبان رانم پیغمبرﷺ از اسلامِ عمرؓ چنان شاد شد کہ ببانگ بلند تکبیر گفت و تکبیر آں حضرتﷺ و اصحاب رضی اللہ عنہم شنیدند و ہمہ بہ یک بار تکبیر گفتند و باستقبال عمرؓ بیرون آمدند۔ وآنگاه عمرؓ گفت یا رسول اللہﷺ کافران لات و عزیٰ را آشکارا پرستش میکنند چراباید خدائے راپنہانی پرستش کرد پس آہنگ کعبہ کردند۔"

صفحہ 2 از 6