سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا

  نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 2

اللھم صلی علی محمد وعلی اٰل محمد و بارک وسلم

حضورﷺ کی رحلت پر نہایت درد و سوز کے عالم میں فرمایا تھا:

صبت علی مصائب لوانھا صبت علی الایام سرن لیالا۔

ترجمہ: مجھ پر مصیبتوں کے اس قدر پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں کہ اگر یہی مصیبتوں کے پہاڑ دنوں پر ٹوٹے تو دن رات بن جاتے۔

سیدہ فاطمہؓ کی مرضُ الوفات اور ان کی تیمارداری:

نبی کریمﷺ کے وصال کے بعد سیدہ فاطمہؓ نہایت مغموم رہتی تھی اور یہ ایام انہوں نے صبر اور سکون کے ساتھ پورے کئے۔ آپؓ کی عمر اٹھائیس یا انتیس برس تھی آپؓ بیمار ہوگیں ان بیماری کے ایام میں آپؓ کی تیمارداری اور خدمات سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیوی سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ سر انجام دیتی تھی۔

سیدہ فاطمہؓ کا انتقال:

حضور نبی کریمﷺ کے وصال کے چھ ماہ بعد سیدہ فاطمہؓ بیمار ہوئیں اور چند روز بیمار رہیں پھر تین رمضان گیارہ ہجری منگل کی شب اٹھائیس یا انتیس برس کی عمر مبارک میں آپؓ کاانتقال ہوا۔

(البدا یۃ والنہایۃ: جلد، 6 صفحہ، 433)

سیدہ فاطمہؓ کا غسل اور سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ کی خدمات:

سیدہ فاطمہؓ نے وفات سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیوی سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ کو وصیت کی تھی کہ آپ مجھے بعد از وفات غسل دیں اور سیدنا علیؓ ان کے ساتھ معاون ہوں چناچہ سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ نے آپؓ کے غسل کا انتظام کیا اور آپؓ کے ساتھ نبی کریمﷺ کے غلام سیدنا ابورافعؓ کی بیوی سیدہ سلمیٰؓ اور سیدہ امِ ایمنؓ شریک تھیں سیدنا علی المرتضیٰؓ اس سارے انتظام کی نگرانی فرمانے والے تھے۔

(اسد الغابہ جلد، 5 صفحہ، 874 البدایۃ والنہایۃ جلد، 6 صفحہ، 333 ،حلیۃالاولیا: جلد، 3 صفحہ، 34)

سیدہ فاطمہؓ کی نمازِ جنازہ:

جب سیدہ فاطمہؓ کی نمازِ جنازہ پڑھنے کا مرحلہ پیش آیا تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ، سیدنا عمر فاروقؓ اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جو اس موقعہ پر موجود تھے تشریف لائے سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ سے فرمایا آپؓ آگے تشریف لا کر جنازہ پڑھائیں جواب میں سیدنا علی المرتضیٰؓ نے فرمایا کہ آپؓ خلیفہ رسولﷺ ہیں میں آپؓ کی موجودگی میں جنازہ پڑھانے کے لیے پیش قدمی نہیں کر سکتا۔

نمازِ جنازہ پڑھانا آپؓ ہی کا حق ہے آپؓ تشریف لائیں اور جنازہ پڑھائیں اس کے بعد کچھ روایات کے مطابق سیدنا ابوبکر صدیقؓ آگے تشریف لائے اور سیدہ فاطمہؓ کا جنازہ پڑھایا۔

(طبقات ابنِ سعد جلد، 8 صفحہ 91 کنز العمال جلد، 6 صفحہ، 813)

نمازِ جنازہ کے بعد سیدہ فاطمہؓ کو رات کو ہی جنتُ البقیع میں دفن کیا گیا اور دفن کے لیے سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدنا عباسؓ اور سیدنا فضل بن عباسؓ قبر میں اترے۔

رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔

دعائیہ کلمات:

اولادِ رسولﷺ کا مختصر تعارف کے عنوان سے نبی کریم سردار دو عالمﷺ کی مقدس اور پاک اولاد کے مختصر حالات اور مقام و مرتبہ کے بیان کے لیے یہ ایک چھوٹی سی کوشش ہے اللہ کریم اپنے دربار میں قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو اس سے فائدہ پہنچائے اور آخرت میں ان مقدس ہستیوں کی شفاعت نصیب فرمائے آمین ۔

صلی اللہ تعالیٰ علی محمد وعلیٰ آلہ وازواجہ وبناتہ واصحابہ اجمعین۔


صفحہ 2 از 2