دنیا و آخرت کی سرداری
علی محمد محمد الصلابی9۔ دنیا و آخرت کی سرداری:
متعدد صحیح احادیث میں وارد ہے کہ دنیا و آخرت دونوں جگہ سیدہ فاطمہؓ کو سیادت نصیب ہو گی، چنانچہ انس بن مالکؓ کی روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
حَسْبُکَ مِنْ نِسَائِ الْعَالَمِیْنَ مَرْیَُم بِنْتُ عِمْرَانَ، وَ خَدِیْجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ، وَ فَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَّمَدٍ، وَ آسِیَۃُ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ۔
(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 755، حدیث نمبر 1325) شیخ البانی رحمۃاللہ نے اس کو صحیح کہا ہے، دیکھیے: مشکاۃ المصابیح: جلد 3 صفحہ 745)
’’خواتین دنیا میں سے مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد اور فرعون کی بیوی آسیہ کی فضیلت پر بس ہے۔‘‘
سیدنا ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
فَاطِمَۃُ سَیِّدَۃُ نِسَائِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ، إِلَّا مَا کَانَ مِنْ مَرْیَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ۔
(فضائل الصحابۃ: حدیث نمبر 1332، اس کی سند ’’حسن لغیرہ‘‘ ہے۔)
’’سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خواتین جنت کی سردار ہیں، مگر مریم بنت عمران کو جو مقام حاصل ہے وہ اپنی جگہ پر۔‘‘
امام بخاری رحمۃاللہ علیہ نے ’’مناقب فاطمہ‘‘ کا باب باندھا ہے اور یہ حدیث لکھی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
فَاطِمَۃُ سَیِّدَۃُ نِسائِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔
(صحیح البخاری: کتاب فضل الصحابۃ: جلد 4 صفحہ 252)۔
’’فاطمہؓ خواتین جنت کی سردار ہیں۔‘‘