سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد یعنی حسن اور حسین رضی اللہ عنہما
علی محمد محمد الصلابیحسن بن علی بن ابی طالب الہاشمی رضی اللہ عنہما، رسول اللہﷺ کے نواسے، دنیا میں آپ کے پھول، جنت کے دو نوجوان سرداروں میں سے ایک تھے، آپ کی والدہ سیدہ فاطمہ زہراءؓ ہیں، باختلاف روایات آپ کی ولادت 3ھ کے نصف رمضان یا شعبان میں ہوئی اور بعض روایات میں ولادت کی تاریخ 4ھ یا 5ھ بتائی گئی ہے۔
(فضائل الصحابۃ: حدیث نمبر 96 جلد 2)۔ حلیۃ الأولیاء: جلد صفحہ 35)۔
میں نے اپنی تحقیق کے مطابق اپنی ’’کتاب السیرۃ النبویۃ‘‘ میں 4ھ کو معتبر مانا ہے۔ آپ کی وفات 50ھ میں ہوئی۔
رسول اللہﷺ نے آپ کا نام حسن رکھا، سیدنا علیؓ کا بیان ہے کہ جب حسن کی ولادت ہوئی تو میں نے ان کا نام ’’حرب‘‘ رکھا، اور جب اللہ کے رسولﷺ تشریف لائے تو کہا: ’’اَرُوْنِي ابْنِي مَا سَمَّیْتُمُوْہُ‘‘میرا بیٹا مجھے دکھاؤ تم نے اس کا نام کیا رکھا؟ میں نے کہا: حرب۔ آپﷺ نے فرمایا: نہیں بلکہ اس کا نام ’’حسن‘‘ ہے۔
(صحیح البخاری: الادب: حدیث نمبر 28)۔
اس طرح اللہ کے رسولﷺ نے قساوت قلبی کے مفہوم پر مشتمل نام کو ایک عمدہ نام میں بدل دیا، جس سے دلوں پر فرحت و شادمانی کا اثر پڑتا ہے، بہرحال اس نومولود نے ایک خوبصورت نام کا جامہ پہن لیا، پھر آپ نے انھیں گود میں اٹھا لیا اور بوسہ دیا اور مزید جو کیا اس کی تفصیل ابورافع اس طرح بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ جب حسن کی ولادت ہوئی تو ان کے دونوں کانوں میں اذان دی۔
(سنن ابی داؤد: حدیث نمبر 5105) شیخ عثمان الخمیس نے حسن و حسین کے فضائل پر وارد شدہ احادیث کے جمع و تحقیق پر جو ایم۔ اے کا مقالہ لکھا ہے اس میں اس حدیث کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے۔ صفحہ 160) مترجم کہتا ہے: نومولود کے کان میں اذان کی روایت ضعیف اور اذان و اقامت کی روایت موضوع ہے۔ اس سلسلہ میں تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: فتح الودود فی بیان ضعف حدیث التأذین فی اذن المولود للحمادی۔)
سیدنا حسنؓ کے عقیقہ سے متعلق ابورافع بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا حسنؓ کی ولادت ہوئی تو فاطمہ نے کہا: کیا میں بیٹے کی طرف سے دنبوں کا عقیقہ نہ کردوں، تو آپﷺ نے فرمایا:
لَا وَلٰکِنْ اِحْلِقِيْ رَأْسَہُ وَ تَصَدَّقِيْ بِوَزْنِ شَعْرِہِ مِنْ فِضَّۃٍ عَلَی الْمَسَاکِیْنَ وَ الْأَوْفَاضِ۔
(طبقات ابن سعد: جلد 1 صفحہ 233، اس کی سند ضعیف ہے۔)
’’نہیں، بلکہ اس کے سر کے بال منڈوا دو، اور بالوں کے برابر چاندی بطور صدقہ، مسکینوں اور اصحاب صفہ کو دے دو، چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا۔‘‘