اللہ کی قسم جو جوڑے میں نے تمھیں پہنائے ہیں مجھے اچھے نہیں لگ رہے ہیں
علی محمد الصلابیابن سعد جعفر بن محمد باقر رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں وہ سیدنا علی بن حسین رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس یمن سے کچھ جوڑے کپڑے آئے، آپ نے لوگوں کو پہنا دیے ، لوگ جوڑوں میں واپس گئے، آپ قبر نبوی اور مسجد نبوی کے منبر کے مابین بیٹھے ہوئے تھے، لوگ آپ کے پاس آ آکر سلام کرتے رہے، آپ کو دعائیں دیتے رہے، سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما اپنی والدہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ گھر سے نکل کر لوگوں کے پاس سے گزرنے لگے، انھیں وہ جوڑے نہیں ملے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چیں بہ جبیں ہوئے اور فرمایا: اللہ کی قسم جو جوڑے میں نے تمھیں پہنائے ہیں مجھے اچھے نہیں لگ رہے ہیں، لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین آپ نے اپنی رعایا ہی کو پہنایا ہے اور اچھا کیا ہے، تو سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا: ان دونوں بچوں کی وجہ سے، یہ لوگوں کے پاس سے گزر رہے ہیں اور ان پر کوئی جوڑا نہیں، گویا جوڑے ان سے بڑھ کر رہے اور یہ ان سے کمتر رہے، چنانچہ سیدنا فاروق اعظمؓ نے یمن کے گورنر کو لکھا کہ حسن و حسین (رضی اللہ عنہما) کے لیے دو جوڑے جلد از جلد بھیجو، چنانچہ دو جوڑے بھیجے گئے اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انھیں پہنائے۔
(المرتضیٰ: صفحہ 11 الإصابۃ: جلد 1 صفحہ 102)