جزیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

جزیہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

اس وقت بھی جزیہ ساقط ہو جاتا ہے، جب اسلامی حکومت ذمیوں کی حفاظت سے دست بردار ہو جائے اس لیے کہ جزیہ انہی افراد پر ایک ٹیکس ہے جو اسلامی سلطنت کی نگہبانی میں زندگی گزار رہے ہوں۔ واضح رہے کہ اسلامی حکومت کو جزیہ اس لیے مطلوب ہے کہ ذمی افراد حکومت کے تیار کردہ عوامی فلاح و بہبود کے اسباب و ذرائع یعنی حکومتی سطح کی پبلک سروس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مزید برآں جزیہ حکومت کی نگرانی و حفاظت کے مماثل اور ملک و باشندگانِ ملک کی دفاعی ذمہ داری میں ان کی شرکت کے عدم وجوب کا متبادل عوض ہے۔

(المعاہدات فی الشریعۃ الإسلامیۃ: دیکھئے الدیک: صفحہ 314) 

 جزیہ حکومتی نگرانی و حفاظت کا عوض ہے، اس کی دلیل حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ کا یہ عمل ہے کہ جب اسلامی سلطنت کی شمالی حدود پر روم نے اپنا لاؤ لشکر اکٹھا کر لیا تو آپؓ نے مصالحت کے ذریعہ سے اسلامی حکومت کی اتباع قبول کرنے والے تمام شہروں و ممالک کے حکام و افسران کو حکم دیا کہ وہاں کے باشندگان سے وصول کیے گئے تمام جزیہ و خراج کو واپس کر دیں، اور ان سے کہہ دیں کہ ہم نے تم کو تمہارا مال اس لیے واپس کر دیا ہے کہ ہمیں خبر ملی ہے کہ دشمن کی فوج ہم پر حملہ کرنے کے لیے تیار کھڑی ہے اور تمہاری ہم سے یہ شرط طے تھی کہ ہم تمہاری طرف سے دفاع کریں گے، لیکن اب ہم اس پر قادر نہیں ہیں۔ اس لیے ہم نے تم کو تمہارا مال واپس کر دیا، آئندہ اگر اللہ تعالیٰ نے دشمن پر ہمیں فتح دی تو سابقہ شرط اور صلح پر عمل کریں گے۔ چنانچہ جب حکام نے ان کو یہ بات بتائی اور ان سے وصول کی ہوئی دولت انہیں واپس کر دی تو ذمیوں نے اپنے مسلم حکام سے کہا: اللہ تعالیٰ تم کو دوبارہ ہمارا نگران و محافظ بنائے، اور رومیوں پر تمہیں فتح عطا کرے، اس لیے کہ اگر وہ فتح یاب ہو گئے تو ہمیں کچھ نہ واپس کریں گے، ہمارے پاس بچا کھچا جو کچھ بھی ہے سب لے لیں گے، ہمارے لیے کچھ نہ چھوڑیں گے۔

(فتوح البلدان: صفحہ 143۔ الموارد المالیۃ: دیکھئے یوسف عبدالمقصود: صفحہ 228)

جزیہ ساقط ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ افراد اسلامی حکومت کے مکلف کرنے پر بذاتِ خود اپنے دفاع و نگرانی کی ذمہ داری سنبھال لیں، جیسے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی موافقت کے بعد سراقہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ’’طبرستان‘‘ کے باشندوں کے ساتھ کیا تھا۔ 

(تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ: دیکھئے جمیل المصری: صفحہ 327)

جزیہ سے متعلق یہ بات واضح رہے کہ اس کی قیمت و مقدار متعین نہیں تھی، بلکہ ریاست کے حالات و ظروف اور وہاں کے باشندوں کی قدرت و حیثیت کے اعتبار سے اس کی قیمت مختلف تھی۔ چنانچہ اسی تباین کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ نے عراق والوں پر چوبیس 24 سے اڑتالیس 48 درہم جزیہ مقرر کیا، جو ان سے ہر سال وصول کیا جاتا تھا اور اگر وہ جزیہ میں قیمت کے بدلے سامان دیتے مثلاً جانور اور دیگر اسباب تو انہیں قبول کر لیا جاتا۔

(دور الحجاز فی الحیاۃ السیاسیۃ: صفحہ 230 )

شام والوں پر چار دینار، اور مسلمانوں کی خوراک کے لیے ہر فرد پر دو مد گیہوں، اور تین قسط تیل مقرر کیا، جو لوگ چاندی کے مالک تھے ان پر ہر آدمی کے پیچھے چالیس درہم اور پندرہ صاع غلہ بطور جزیہ مقرر کیا۔ نیز مصر والوں پر ہر بالغ کے ذمہ دو دینار جزیہ واجب کیا، اِلا یہ کہ وہ بالغ فرد فقیر و نادار ہو۔

(دور الحجاز فی الحیاۃ السیاسیۃ: صفحہ 230)

رہے یمن کے باشندے تو وہ عہد نبوت ہی سے اسلامی حکومت کے ماتحت تھے اور ان کے ہر فرد پر ایک دینار یا اس کے بدلے اسی کے برابر ایک معافر جزیہ دینا ضروری تھا۔ چند ضعیف روایات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ دورِ فاروقی میں بھی یمن والوں کے جزیہ کی مقدار میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور وہ پہلے کی طرح جزیہ دیتے رہے۔ ہر چند کہ اس باب کی روایات میں ضعف ہے تاہم ملکی رعایا کے احوال کی پوری رعایت، اور نبوی کارروائی میں عدم تبدیلی کی فاروقی سیاست سے وہ روایات قریب تر ہیں۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 1)

خلاصہ یہ کہ لوگوں کی وسعت اور ریاستوں کی خوش حالی کے اعتبار سے جزیہ کی مقدار مختلف تھی اور اس کا فیصلہ حاکم وقت کے اجتہاد پر تھا کہ وہ ذمی افراد کی طاقت و حیثیت کو دیکھ کر، اور اسے مشقت و پریشانی کی کلفتوں سے بچا کر ان پر جزیہ نافذ کرے۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 231، 167)

سیدنا عمرؓ جزیہ کے محصلین کو حکم دیتے تھے کہ اس کی وصولی میں لوگوں پر نرمی کریں، چنانچہ ایک مرتبہ آپؓ کے پاس جب جزیہ کا بہت زیادہ مال آ گیا تو آپؓ نے فرمایا: میرے خیال میں تم لوگوں کو ہلاک کر رہے ہو؟ تو محصلین نے کہا: اللہ کی قسم ایسا ہرگز نہیں ہے، ہم نے نرمی اور ان کی رضامندی سے لیا ہے۔ آپؓ نے پوچھا: کیا حقیقت میں بغیر کوڑے اور مار کی دھمکی دیے وصولی کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ایسا ہی ہے۔ آپؓ نے فرمایا: اللہ جل شانہ کا شکر ہے جس نے میری حکومت اور میری طاقت کو ظلم سے پاک رکھا۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 243)

جزیہ کی وصولی کے شعبہ میں مشہور افسران یہ تھے: عثمان بن حنیف، سعید بن حذیم اور دیگر ریاستوں کے امراء و گورنر مثلاً عمرو بن عاص اور معاویہ بن ابی سفیان وغیرہم رضی اللہ عنہم ۔ فقہائے اسلام اور علمائے شریعت نے قرآن، سنت اور خلفائے راشدینؓ کے عمل کی روشنی میں جزیہ کے احکام و قوانین کو منظم شکل میں پیش کیا ہے، اس کے تمام تر احکامات اس بات کی دلیل ہیں کہ جزیہ کا شعبہ اسلامی سلطنت کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے اور یہ کہ جزیہ کی ایک اساسی شکل و حیثیت بھی ہے کیونکہ ذمیوں کا اسلامی سلطنت کو ٹیکس ادا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اسلامی حکومت کے تئیں مخلص، اس کے احکام و قوانین کو ماننے والے، اور اپنے عہد و پیمان کے وفادار ہیں 

(اہل الذمۃ فی الحضارۃ الإسلامیۃ: صفحہ 43)

اور بعض لوگ جیسے کہ حسن ممی کا خیال ہے کہ جزیہ مالی حیثیت سے زیادہ سیاسی حیثیت کا متحمل ہے۔ 

(اہل الذمۃ فی الحضارۃ الإسلامیۃ: صفحہ 43)

لیکن سچی بات یہ ہے کہ اس کی سیاسی اور مالی دونوں حیثیتیں ہیں اور یہ اسلامی سلطنت کی آمدنی کا ایک ذریعہ ہے۔


صفحہ 2 از 2