حمص پر قابض ہونے کے لیے رومیوں کی دوبارہ کوشش
علی محمد الصلابیسیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ان کے مخبروں نے خبر دی کہ رومی دوبارہ اکٹھا ہو رہے ہیں، ہرقل نے انہیں خطاب کیا ہے اور فوجی کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس خبر کو پوشیدہ رکھنا مناسب نہ سمجھا اور بصیرت مند، اہل تقویٰ اور دور اندیش مسلم شخصیتوں کو باہمی صلاح و مشورہ کی کے لیے بلایا۔
(الطریق إلی دمشق: صفحہ 408، 409)
سیدنا معاذ بن جبل انصاری رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ حمص سے انخلا نہ کیا جائے، انہوں نے کہا: تم لوگ وہ سرزمین جس پر اللہ تعالیٰ نے تمہیں فتح عطا فرمائی، دشمن کے سورما اور سردار اس میں قتل ہوئے اور ان کا لشکر تباہ و برباد ہوا اس سے انخلا نہیں کرنا چاہیے، دشمن کو اس سے بہتر اور کیا چاہیے؟ اللہ کی قسم وہاں سے نکل آنے کے بعد اگر دوبارہ تم وہاں جانا چاہتے ہو تو ضرور بالضرور مشکلات میں پھنس جاؤ گے۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یقیناً یہ سچ کہہ رہے ہیں اور مخلص ہیں۔
(الأنصار فی العصر الراشدی: صفحہ 207)
لیکن بعد کے حالات نے رخ موڑ دیا مسلمانوں نے حمص والوں سےجو کچھ لیا تھا، حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے حبیب بن مسلمہ کو حکم دیا کہ اسے انہیں واپس کر دیں، حضرت ابو عبیدہؓ نے کہا: حمص والوں سے مصالحت کی بنیاد پر ہم جو کچھ (جزیہ و خراج) ان سے لیتے تھے اسے انہیں واپس کر دو۔ اب جب ہم ان کی طرف سے دفاع نہیں کر سکیں گے تو کچھ لینے کا بھی حق نہیں ہے اور حمص والوں سے کہا: ہم آپسی صلح کے مطابق اپنے وعدے پر قائم ہیں، ہم اس کے خلاف اس وقت تک قدم نہیں اٹھائیں گے جب تک کہ تم قدم نہ اٹھاؤ اور اب جو تمہارا مال ہم تمہیں واپس کر رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم تم سے مال وصول کرتے رہیں اور تمہارے شہروں کی حفاظت نہ کر سکیں، یہ ہمارے نزدیک معیوب ہے۔ البتہ ہم ایک علاقے میں سمٹ کر اپنے ساتھیوں کو بلاتے ہیں، جب وہ آجائیں گے تو انہیں لے کر اپنے دشمن سے لڑیں گے، اگر لڑائی میں اللہ نے ہمیں کامیاب کیا تو ہم تم سے اپنا وعدہ پورا کریں گے مگر یہ کہ تم انکار کر دو۔ جب صبح ہوئی تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو دمشق کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا اور حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان تمام لوگوں کو بلایا جن سے جزیہ وصول کیا جاتا تھا، انہیں ان کا مال واپس کیا اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے فیصلہ سے انہیں آگاہ کیا، حمص والے کہنے لگے: اللہ تم لوگوں کو دوبارہ ہمارے پاس واپس لائے، ہمارے سابق رومی فرماں رواؤں پر اللہ کی لعنت ہو، آج اگر تمہاری جگہ وہ لوگ ہوتے تو ہمیں کچھ بھی نہ واپس کرتے بلکہ سب کچھ ہڑپ لیتے اور جتنا بس چلتا ہمارا حق چھین لیتے۔ رومی فرماں رواؤں کے جس ظلم و طغیان کے سائے میں ہم زندگی گزارتے تھے، تمہاری حکومت وانصاف ہمیں اس سے کہیں زیادہ محبوب ہے۔
(الطریق إلی الشام: صفحہ 410، 411)
حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے جس رات حمص سے دمشق کوچ کرنے کا ارادہ کیا اسی رات سفیان بن عوف کو امیر المومنین رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پیغام کہلوا کر بھیجا کہ امیرالمومنین کو میرا سلام کہنا اور جو کچھ تم نے دیکھا، جس چیز کا سامنا ہے، ہمارے مخبر جو خبر لائے ہیں، دشمن کی فوج کی کثرت سے اور ان سے دور ہی رہنے کا مسلمانوں نے جو فیصلہ کیا ہے ان تمام باتوں سے امیرالمؤمنین رضی اللہ عنہ کو مطلع کرنا، ساتھ میں یہ خط لکھ کر دیا:
’’حمدوصلاۃ کے بعد: میرے مخبر دشمن کے اس علاقے سے میرے پاس خبر لائے ہیں جس میں شاہ روم ٹھہرا ہے، انہوں نے مجھے بتایا کہ روم والے ہماری طرف رخ کرنے والے ہیں اور فوج کا اتنا عظیم لشکر تیار کر رہے ہیں جتنا اس سے قبل کسی بھی قوم سے لڑتے وقت تیار نہ کیا تھا، اس لیے میں نے مسلمانوں کو بلا کر انہیں واقعہ کی خبر دی اور مشورہ طلب کیا، سب کی یہ رائے طے پائی ہے کہ جب تک سیدنا عمرؓ کی رائے نہ آجائے تب تک ہم اپنی ہی جگہ ٹھہرے رہیں اور دشمن کی طرف نہ بڑھیں، میں آپؓ کے پاس ایسا آدمی بھیج رہا ہوں جسے ہمارے بارے میں ساری باتیں معلوم ہیں، آپؓ جو پوچھنا چاہیں اس سے پوچھ لیں، اسے اچھی طرح علم ہے، وہ ہمارے نزدیک امانت دار ہے، اللہ عزیز و علیم سے ہم مدد کے طلب گار ہیں، وہی ہمیں کافی ہے اور وہی بہتر نگران ہے۔‘‘
(الطریق إلی الشام: صفحہ 411۔ تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 23، 25)